ہیلری کلنٹن کے سخت فیصلے۔۔حصہ اول

سابق امریکی وزیرخارجہ کی تصنیف "ہارڈ چوائسز” زیرمطالعہ ہے۔ ویسے تو چوائس کا اردو میں لفظی ترجمہ انتخاب بنتا ہے، لیکن میں اس کو "سخت فیصلے” ہی کہوں گا۔کتاب میں بہت سی دلچسپ باتیں ہیں۔ جس بات نے دھچکا پہنچایا، وہ یہ تھی کہ کتاب میں 25 باب ہیں اور صرف دو میں پاکستان کا ذکر ہے۔یعنی ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اپنے خارجہ امور میں امریکا پاکستان کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ جیسے جیسے کتاب پڑھتا جاؤں گا، آپ کو مطالعے میں شریک رکھوں گا۔ آغاز وہاں سے، کہ ہیلری کلنٹن اوباما کی مخالف تھیں، اور پھر اوباما کی جیت کے بعد ان کی ہی درخواست پر وزارت خارجہ کا منصب سنبھالنے کا فیصلہ کیا۔
کنڈولیزا رائس نے ہیلری کلنٹن سے کیا سفارش کی؟
جب ہیلری کلنٹن کا وزیرخارجہ بننا طے ہوا، تو انہوں نے متعلقہ افراد سے ملاقاتیں شروع کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد رہنمائی لینا تھا۔ ایسی ہی ایک ملاقات سابق وزیرخارجہ کنڈولیزا رائس سے بھی ہوئی۔کنڈولیزا نے ملاقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک سفارش بھی کردی، "کیا آپ میرے ڈرائیورکو نوکری پر بحال رکھیں گی؟” ہیلری نے یہ سفارش مان لی۔
جب سارے ہیلری پر ہنس پڑے
ہیلری کو بین الاقوامی دوروں کے لیے ایک سرکاری جہاز ملا ہواتھا۔ اس میں ہیلری کی ٹیم کے لوگ بھی سفر کرتے۔ دوروں سے واپسی پر سب لوگ آرام کرتے، گپ شپ لگاتے اورمل کر فلمیں دیکھتے۔ ایک بار ہیلری کلنٹن اور ان کا سٹاف  فلم "بریچ” دیکھ رہے تھے۔ فلم ایک ایف بی آئی ایجنٹ کے بارے میں تھی۔ ایک سین میں وہ ایجنٹ کہتا ہے، "پینٹ سوٹ پہننے والی عورت پر کبھی اعتبار نہ کرنا، پینٹ تو مرد پہنتے ہیں، اس دنیا میں مزید کسی ہیلری کلنٹن کی گنجائش نہیں ہے۔” اس ڈائیلاگ کا سننا تھا کہ سب کو ہنسی کا دورہ پڑ گیا۔
شمالی کوریا جاؤ، لیکن مسکرانا مت!
شمالی کوریا اور امریکا کے تعلقات خراب ہی رہتے ہیں۔ ایسے میں دو امریکی رپورٹرز غلطی سے سرحد پار کر گئیں اور شمالی کوریا میں گرفتار ہوگئیں۔ شمالی کوریا نے انہیں بارہ سال قید کی سزا بھی سنا دی۔ واقعے کے دوماہ بعد ہی شمالی کوریا نے جوہری تجربہ کیا، اور امریکا نے اقوام متحدہ کی مدد سے اس پر مزید پابندیاں لگوا دیں۔اب مسئلہ یہ تھاکہ قید رپورٹرز کو کیسے واپس لایاجائے؟ سفارتی دوڑدھوپ کے بعد معلوم ہوا کہ شمالی کوریا والے قیدی رپورٹرز کو واپس کردیں گے، اگر کوئی اعلیٰ سطحی امریکی وہاں کا دورہ کرے اور درخواست کرے۔ معلوم ہوا کہ شمالی کوریا والے چاہتے ہیں کہ ہیلری کے مجازی خدا، یعنی بل کلنٹن خود آئیں اور قیدیوں کی واپسی کی درخواست کریں۔
اب بل صاحب اور ان کے ساتھ جانے والی ٹیم کو تیاری کرائی گئی۔ انہیں سکھایا گیاکہ جب شمالی کوریا کے سربراہ کے ہمراہ تصویریں بنائی جائیں تو آپ نے مسکرانا نہیں ہے، اور نہ ہی منہ بنانا ہے۔


کتاب زیرمطالعہ ہے۔ کچھ مزید دلچسپ باتوں کے لیے حصہ دوئم کا انتظار کیجیے۔ کاوش پسند آئی ہے تو فیس بک اور ٹوئٹر پر شیئر کر کے حوصلہ افزائی فرمائیے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s