ہیلری کلنٹن اور پاکستانیوں کی غیرت

Hard Choicesسابق امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کی کتاب "سخت فیصلے” میں پچیس باب ہیں، اور صرف ایک پاکستان کے لیے مختص ہے۔ اس باب کا نام رکھا گیا ہے، "پاکستان: قومی غیرت”۔
حیرانی ہوئی کہ یہ کیسا نام ہوا۔۔۔پاکستان: قومی غیرت
جیسے جیسے پڑھتا گیا، تو اندازہ ہوا کہ وہ غیرت کے شروع میں شاید ‘بے’ لگانا چاہ رہیں تھیں۔
امریکا کو اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کا علم ہوا، تووہاں  آپریشن کرنے پر غور ہونےلگا۔ کسی نےخدشہ ظاہر کیا اس سے تو پاک امریکا تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
ہیلری کلنٹن لکھتی ہیں پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات پہلے ہی "کچھ لو کچھ دو ” کی طرز پر ہیں۔ یہ اعتماد کا نہیں، مفاد کا رشتہ ہے۔ لہذا جب تک پاکستان کا مفاد رہے گا، یہ تعلقات نہیں بگڑیں گے۔(دوسرے لفظوں میں پاکستان کی غیرت جاگ بھی گئی تو کچھ دے دلا کر چپ کرا دیں گے)۔
ہیلری کا خیال تھا کہ اگر اسامہ بن لادن پکڑا جاتا ہے، تو اس کےلیے پاکستانی ناراضی کوئی بڑی قیمت نہیں۔
سابق امریکی وزیرخارجہ لکھتی ہیں کہ ایبٹ آباد آپریشن کے بعد جب انہوں نے پاکستانی صدر آصف زرداری سے بات کی تووہ  غصے میں نہیں تھے۔ انہوں نے ہیلری کوکہا”لوگ سمجھتے ہیں میں کمزور ہوں، لیکن ایسا نہیں ہے۔ میں اپنے ملک کو جانتا ہوں، اور جو ممکن تھا، وہ میں نے کیا۔ میں اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ دنیا کا سب سے مطلوب شخص میرے ملک میں تھا۔ یہ سب کی ناکامی ہے کہ ہمیں اس بات کا علم نہیں تھا۔”

ہیلری نےکہا، "جناب صدر،مجھے یقین ہے ایسا کوئی طریقہ ضرور ہوگا، جس سے دونوں کے مفادات کا تحفط ہو سکے۔”(سمجھ آئی کہ باب کا نام قومی غیرت کیوں رکھا گیا؟)

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s