صحافی کرےتوکیاکرے

صحافی دوسروں کی خبر لیتا بھی ہے، اور خبر دیتا بھی ہے۔لیکن پاکستان کاصحافی ایک ایسی بے یقینی کا شکار ہےجس کی خبر نہ کبھی بنی ہے اور نہ آئندہ کبھی بنے گی۔
ایک صحافی کی پیشہ ورانہ زندگی ان چار سوالوں کے جواب تلاش کرتے گزرتی ہے،خبر کہاں سے لینی ہے؟ کیسے لینی ہے؟ کیسے لکھنی ہے؟ اور کیسے پیش کرنی ہے؟
اور اسی صحافی کی نجی زندگی صرف ایک سوال کا جواب مانگتی ہے، "میری تنخواہ کب بڑھے گی، اور کتنی بڑھے گی؟”

یہ ہر سال اپنے عہدے اور تنخواہ میں اضافے کے خواب دیکھتا ہے۔ چینل کا مالک (جس کے کئی اور بھی کاروبار ہوتے ہیں) اگر کبھی بھولے سے دفتر آنکلے تو چہ مگوئیاں ہوتی ہیں، "صاحب آئے ہیں، لگتا ہے اس بار تنخواہ ضرور بڑھے گی۔” چینل کے سینیئر افسر مالک سے ملاقات کوجائیں تو آس بندھ جاتی ہے،” ہوسکتا ہے ہماری کارکردگی کا جائزہ لے کر مزدوری میں اضافہ کر دیاجائے۔”
یہ آس کم بخت کئی خواب دکھاتی ہے۔ چینل کی ریٹنگ اچھی ہو جائے تو یہ ترقی پانے کے خواب دیکھنے لگتا ہے۔ ہر ماہ افواہ اڑتی ہے، "اس ماہ کے آخر میں تنخواہ پندرہ فیصد اضافے کے ساتھ ملے گی،” اور یہ بے چارہ ہر ماہ یقین کر لیتا ہے۔
آخر اس کی وجہ کیاہے؟
وجہ اس کی یہ ہے کہ میڈیا مالکان نے اپنے ملازمین کے لیے کوئی سروس سٹرکچر نہیں بنا رکھا۔ کسی بھی عہدے پر بھرتی ہونے والے شخص کو کچھ علم نہیں ہوتا کہ اس کا عہدہ کب بڑھایا جائے گا، بڑھایا بھی جائے گا یا نہیں۔ نہ کوئی اہداف مقرر کیے جاتے ہیں، نہ کسی مقصد کا تعین ہوتا ہے۔کارکردگی کو جانچنے کا کوئی پیمانہ اور معیار مقرر نہیں کیا گیا۔ لہذا نہ کسی ہدف کو حاصل کرنے پر جزا ملتی ہےاور نہ ناکامی پر سزا۔ہاں ریٹنگ نہ آنے پر بازپرس کی جاتی ہے، لیکن ریٹنگ آجائےتوشکریہ تک نہیں کہا جاتا۔
کارکردگی کے سالانہ جائزے کا کوئی طریقہ کار وضح نہیں کیا گیا۔مالکان کو غرض ہی نہیں ہوتی کہ ان کے چینل میں کام کرنے والے ہر سال بڑھتی قیمتوں کامقابلہ پرانی تنخواہ سے کیسے کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ میڈیاملازمین ایک ہی تنخواہ اور ایک ہی عہدے پر کئی سال گزار دیتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی کی پلاننگ نہیں کر سکتے۔ انہیں بالکل علم نہیں ہوتا کہ وہ کچھ سال بعد کہاں ہوں گے۔ چھوٹے سے چھوٹا کارکن اوربڑے سے بڑا افسر بھی ایک لمحے میں فارغ کر دیا جاتا ہے۔ کسی افسر کو یہ یقین نہیں ہوتا کہ آنے والے کل میں وہ اسی سیٹ پر ہوگا، یا اس کے کسی جونیئر کو اس کی جگہ بٹھا دیا گیا ہوگا۔ ہر کوئی بے یقنی کی صورتحال میں کام کرتا رہتا ہے۔
چینل انتظامیہ اپنے ملازمین کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے بھی کوئی باقائدہ منصوبہ بندی نہیں کرتی۔ ایڈہاک ازم پر کام چلایا جاتا ہے۔ کوئی شخص ایک شعبے میں آگیا تو بس اسی شعبے کا ہو کر رہ جاتاہے۔ ہاں اگر کسی شعبے سے کوئی چھوڑ کر چلا گیا، تو ڈنگ ٹپانے کے لیے کسی کو بھی وہاں مقرر کر دیا جائے گا۔ چل گیا تو ٹھیک، نہ چلا تو کسی دوسرے کو آزما لیا جائےگا۔
تنخواہ میں اضافے کی صرف ایک ہی صورت ہےکہ ایک چینل سے کسی دوسرے چینل میں چھلانگ لگا دی جائے۔ اور وہاں جا کر کہیں اور چھلانگ لگانے کی منصوبہ بندی کی جائے۔نئے چینل میں جانا بھی ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتا۔ اکثر چینل بہت بڑا سیٹ اپ بناتے ہیں، بڑے جغادری صحافیوں کو توڑتے ہیں، دھوم دھام سے آتے ہیں، اور دو ماہ بعد ہی ٹھس ہو جاتے ہیں۔نئے لانچ ہونے والے ایک چینل میں تنخواہوں کے لالے پڑ گئے، ایک چینل لانچ کے کچھ عرصے بعد ہی بند ہو گیااور ہمارے کئی بھائی بندوں کو بےروزگار کر گیا۔ ایک چینل ہر ماہ اپنی ٹیم بدل لیتا ہے لیکن لانچ ہو کے نہیں دے رہا۔
چینل مالکان کی ترجیحات میں اختیار اور اشتہار تو ہے، لیکن کارکن ہر گز نہیں۔اب ان حالات میں کوئی صحافی اچھے مستقبل کے خواب تو دیکھ سکتا ہے، منصوبہ بندی نہیں کرسکتا۔
وہ کرے تو کیا کرے

Advertisements

3 thoughts on “صحافی کرےتوکیاکرے

  1. بیچارے صحافیوں کے دل کی آوازبڑے اچھے انداز میں پیش کی عمیر صاحب آپ نے۔۔۔اسی تنخواہ میں کام کرنا ہماری مجبوری اور ہماری مجبوریوں سے فائدہ اٹھانا مالکان کا شوق۔۔سو بغیر کوئی شکوہ کئے کرتا جا چاہے پوری پڑے نہ پڑے

    پسند کریں

  2. صحافیوں کے مسائل کی ایک بڑی وجہ سفارش بھی ہے۔ مشکل سے 2 جی پی کے ساتھ پاس ہونے والے باس ہوتے ہیں جنہیں عام الفاظ کا درست استعمال تک ٹھیک سے نہین آتا۔ ایسے باس کبھی بھی ذہین صحافی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے، کیونکہ یہ ان کی کم علمی کا بھانڈا کسی بھی وقت پھوڑ سکتا ہے۔ اس کی بجائے وہ ہمیشہ چاپلوسوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ میرے پانچ سالہ صحافتی تجربے نے بس مجھے یہی سکھایا ہے کہ اس فیلڈ میں آگے بڑھنے کیلئے ضروری ہے کہ آپ روزانہ باس کے کمرے میں کم از کم ایک گھنٹہ ضرور گزارین اوراس میں باس کی ہر ممکن طریقے سے چاپلوسی کریں۔ آپکا اخلاقی معیار جتنا کم ہوگا۔ ترقی کے اتنے ہی زیادہ مواقع میسر ہوں گے۔

    پسند کریں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s