وہ جیو سے شرمندہ ہے

وہ تھکے تھکے قدموں سے ٹی وی اسٹیشن کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔
دفتر آنے سے پہلے وہ اخبار میں یہ خبر پڑھ چکا تھا۔۔۔”جیونے اہل بیت کی توہین کردی۔”
خبر پڑھتے ہی اس کا دل بیٹھ گیا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اب یہ خبر ٹیلی وژن  پر چلانے کے لیے بھی کہا جائے گا۔اسے معلوم تھا کہ چینل سے اختلاف کو اب مذہبی رنگ دیا جائےگا۔ جیو کی حرکت بہت قابل مذمت،  یہ حرکت کرنے والوں کی بھی گرفت ہونی چاہیے، لیکن اس کی یوں تشہیر۔۔۔معاملہ کہیں آگے برھتا نظر آ رہا تھا۔
اخبار نے جو سرخی جمائی، وہ اشتعال انگیز تھی۔ اسے معلوم تھا کہ یہ سرخی لوگوں کے مذہبی جذبات بھڑکا دےگی۔ مشتعل افراد سے کسی بھی قسم کے ردعمل کی توقع کی جا سکتی ہے۔ مذہبی جذبات بھڑکانا ایک غیر اخلاقی حرکت ہے۔  صحافتی اخلاقیات میں بھی ایسی خبر دینے سے گریز کیا جاتا ہے جو دوسروں کی زندگیاں داؤ پر لگا دے۔ یہاں تو باہر کے معاملے پر بھی اپنے ملک کو آگ دی جاتی ہے، ایک شخص کی غلطی پر پوری بستی جلا دی جاتی ہے، اگر جیو کے کسی کارکن کو نقصان پہنچادیا گیا تو ذمہ دار کون ہو گا؟ یہی سوچ اسے پریشان کیے دے رہی تھی۔
خبر ٹی وی پر چلانے کا حکم وہ ٹال نہیں سکتا تھا۔۔۔وہ بے اختیار تھا، لیکن بے ضمیر نہیں تھا۔
جن افسران تک پہنچ تھی، ان تک اس نے آواز بھی پہنچائی۔ کچھ نے جواب خاموشی سے دیا، کچھ نے صرف کندھے اچکائے۔
اسے معلوم تھا کہ مسلسل کوریج نے جیو کے کارکنان کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں۔اگر کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو ذمہ داری اس پر بھی ہو گی۔
اب وہ کیا کرتا؟ جی میں آئی استعفیٰ دے کر گھر چلا جائے۔ لیکن پھر گھر کیسے چلے گا؟ معاشیات جذبات پر غالب آ گئی۔ اس نے دل پر پتھر رکھ لیا، سر جھکا دیا، ضمیر کو سمجھوتے کے زنداں میں قید کر دیا۔
وہ شب و روز بہت مشکل تھے۔ روز اپنے آپ سے جنگ تھی۔ صحافی اپنی مرضی کی خبر نہ دے سکے، اسے آزادی صحافت کی خلاف ورزی کہا جاتا ہے۔ لیکن وہی صحافی ایک خبر نہ دینا چاہتا ہو، اور خبر دینے پر مجبور کیا جائے۔۔۔اسے کیا کہیں گے؟
پیشہ ورانہ مقابلے میں غیر پیشہ ورانہ داؤ پیچ استعمال کرنے کو آپ کیا کہیں گے؟
ایک صحافی، سیدھی سچی اور کھری صحافت کرنا چاہتا ہو، لیکن میڈیا مالکان کا مفاد اسے ایسا نہ کرنے دے، تو پھر وہ کیا کرے؟
وہ بس اتنا کہنا چاہتا ہے، کہ وہ جیو سے شرمندہ ہے۔

Advertisements

One thought on “وہ جیو سے شرمندہ ہے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s