رپورٹر اور نیوز روم، ساس بہو کا رشتہ

رپورٹر سے خبر درکار ہے۔۔۔پوچھنےپر جواب ملے گا، "بس پانچ منٹ میں آ رہی ہے۔” کئی پانچ منٹ گزر جائیں گے۔ خبر نامہ شروع ہونے والا ہے۔ پروڈیوسر کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو رہی ہیں۔ گھڑی کی سوئی آگے کو سرکتی ہے لیکن وقت رکتا محسوس ہوتا ہے۔بار بار فون کرنے پر ایک ہی جواب ہے،”بس پانچ منٹ!”۔ پروڈیوسر کی پیشانی پر پسینہ چمکنے لگا ہے۔ آخر کمپیوٹرمیں متعلقہ خبر فائل ہونے کا اشارہ ملاہے۔ پروڈیوسر نےجلدی سے خبر کھولی، کچھ بھی نہیں لکھا ہوا۔ پھر فون کیا جاتا ہے۔ جواب ملتا ہے، "خبر لکھ کر رکھ لی تھی، بس کاپی اور پیسٹ کرنی ہے، پانچ منٹ اور۔۔” خبر نامہ شروع ہونے میں چند لمحے باقی ہیں، خبر آخر کار موصول ہو جاتی ہے۔ پڑھنے پر معلوم ہوتا ہے جو خبر بیس سیکنڈ کے لیے چلنی ہے، اس کا اسکرپٹ پانچ منٹ کا لکھا گیا ہے۔ پروڈیوسر اور کاپی ایڈیٹر دل پر ہاتھ رکھتے ہیں، اور کرسی پر ڈھے جاتے ہیں۔۔۔اگر خبر کو ایک دولہا فرض کیا جائے، تو رپورٹر اس کی والدہ کہلائے گا۔ رپورٹر ایک ماں کی طرح خبر کو جنم دیتا ہے، اسے پال پوس کر بڑا کرتا ہےاور پھر نیوز روم کے حوالے کر دیتا ہے۔  یوں رپورٹر اور نیوز روم میں ساس اور بہو کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ ساس بہو کے روایتی  رشتے کی طرح، یہاں بھی کبھی شکایتیں جنم لیتی ہیں، کبھی غلط فہمیاں گھر کر لیتی ہیں، اور کبھی نوبت لڑائی تک آن پہنچتی ہے۔ کبھی نیوز روم رپورٹر کے سینے پر مونگ دلتا ہے، اور کبھی رپورٹر نیوز روم کو عاجز کر چھوڑتا ہے۔ جو پڑھنے والے خبری دنیا میں رائج اصلاحات سے واقف نہیں، ان کی سہولت کے لیے عرض یہ ہے کہ ٹیلی وژن صحافت میں خبر سب سے پہلے ٹکر کی صورت وصول ہوتی ہے۔ عرف عام میں ٹی وی اسکرین پر چلتی ‘خبری پٹی’ کو ٹکر کہا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی سے مواصلاتی رابطہ قائم کیا جائے (ٹیلی فون لائن یا وڈیو پر) تو اسے ‘بیپر’ کہیں گے۔ ایک وقت تھا کہ ٹیلی وژن نیوز روم میں کوئی خبر موصول ہوتی تو اس کا تجزیہ کیا جاتا۔ ایک سے زیادہ ذریعے سے تصدیق کی جاتی، پھر  اہمیت کے پیش نظر فیصلہ ہوتا کہ اسے بطور بریکنگ پیش کرنا ہے، اہم خبر کے طور پر پیش کرنا ہے یا بالکل ہی روک لینا ہے۔ اکثر چھوٹی موٹی خبریں صرف ٹکر میں چلا کرتیں۔ اس وقت نیوز روم میں ایک ادارتی معیار برقرار رکھا جاتا۔ خبر کو پرکھا جاتا اور پھر چلایا جاتا۔ لیکن اب صورتحال بالکل برعکس ہے۔ اب خبر کو چلایا پہلے جاتا ہے اور پرکھتے بعد میں ہیں۔ ایک سے زیادہ ذریعے سے تصدیق کا کلیہ  ختم ہی کر دیا گیاہے۔ پہلے کوئی کوئی خبر بریکنگ کا درجہ حاصل کرتی تھی، اب ہر خبر کو ہی بریکنگ کے طور پر چلایا جاتا ہے۔ اس بارے میں تفصیل سے ذکر کسی اور موقع پر، سردست کہنا یہ ہے جب ہر خبر ہی بریکنگ بننے لگی تو نیوز روم کی ادارتی حیثیت ختم ہو گئی۔ اب نیوز روم والے ایسے کلرک بن گئے ہیں جو ہر ٹکر کو خبر  اور ہر خبر کو بریکنگ نیوز بنا کر اسکرین پر چڑھا دیتے ہیں۔ اس صورتحال میں ساس بہو کا رشتہ بھی عدم توازن کا شکار ہوا۔ پہلے کوئی خبر چلانے (یا نہ چلانے) کا فیصلہ نیوز روم کی سطح پر ہوتا تھا، اب رپورٹر ٹکر کے ساتھ لکھ کر بھیجتا ہے "بر یکنگ برائے تین بجےبلیٹن”۔ ہر رپورٹر اپنا استحقاق سمجھتا ہے، کہ اس نے کوئی ٹکر دیے ہیں، یا ایونٹ کی کوریج کے لیے گیا ہےتو اس کا بیپر ضرور لیا جائے گا۔ جیسے ہر ماں کو تمام خوبیاں اپنے ہی بیٹے میں نظر آتی ہیں، اسی طرح ہر رپورٹر کو اپنی ہی خبر اہم (اور دوسری تمام خبریں غیر اہم) لگتی ہیں۔ آج کا رپورٹر ٹکر بعد میں دیتا ہے، ڈائیریکٹر نیوز کو آگاہ پہلے کرتا ہے۔ جب ٹکر چل جائے اور اس کا بیپر لے لیا جائے، تو رپورٹر سمجھتا ہے اس کی ذمہ داری ختم ہو گئی۔ لیکن نیوز روم کی اصل ذمہ داری اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔ کئی بار ایسا ہوا کہ دھانسو قسم کے ٹکر آئے، بریکنگ چلائی گئی، بیپر لیا گیا، اور جب رپورٹر نے خبر فائل کی تو اس میں ٹکر والے دھانسو فقرے تھے ہی نہیں۔ شکایت پھر بھی یہی رہتی ہے، "ہماری خبر نہیں چلائی جاتی۔”اکثر تو اس کو باقائدہ سازش قرار دیتے ہیں۔ کہنے کی بات یہ کہ رپورٹر خبری دنیا کا اہم جزو ہے۔خبر کے لیے دوڑ دھوپ میں وہ موسمی حالات کا مقابلہ کرتا ہے، سردی گرمی دھوپ بارش کو اپنی جان پر سہتا ہے۔ پھر کہیں جا کرخبر وجود میں آتی ہے۔ لیکن نیوز روم نے تمام رپورٹرز اور شہروں سے آئی خبروں کا تجزیہ کرنا ہوتا ہے۔ خبریں ہزارہا ہوتی ہیں اور خبر نامہ صرف ساٹھ منٹ کا (اس میں سے بھی پچیس منٹ اشتہارات لے جاتے ہیں۔) پس خیال رہے کہ رپورٹر اور نیوز روم، دونوں ہی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔  ساس اور بہو کے اس رشتے میں توازن ہی خبری دنیا کا حسن ہے

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s