مرزا شاہین سیالکوٹی سے ملیے

اگرچہ ہماری ذہنی استعدادابھی بھی ایک میٹرک کے طالب علم سے زیادہ نہیں، لیکن کوچہ صحافت میں قدم رکھنے کے بعد حقائق سے نظریں چرانے کی عادت ہو گئی ہے۔ "اعلیٰ” تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ہم یہ مضمون ایسے شروع کرنے پر مجبور ہیں۔۔۔ آئی ہیو مینی فرینڈز، بٹ مرزا شاہین سیالکوٹی از مائی بیسٹ فرینڈ۔۔۔
مرزا شاہین  ایک فرد نہیں، کیفیت ہیں۔ ہمہ وقت کسی ممولے سے لڑنے کو بےتاب رہتے ہیں۔ ملک اور دین کے دشمنوں کو بری بری نظروں سے دیکھتے ہیں، کبھی کبھار زیادہ غصہ آجائے تو ایک آہ بھر کر آسمان کی جانب نظریں گاڑ لیتے ہیں۔
یوں تو ہماری اور ان کی کوئی ایک خوبی (یا برائی) نہیں ملتی۔ ہم جتنے تنگ نظر ہیں، وہ اتنے ہی شائستہ ہیں۔وہ سراپا انکسار ہیں، ہم سراپا گنہگار ہیں۔ وہ ملنسار ہیں، ہم دشوار ہیں۔وہ خوش لباس اور خوش اطوار ہیں، ہم ایسی باتوں سے بے زار ہیں۔ وہ سب سے مسکرا کر ملتے ہیں،ہم کنی کترا کے نکلتے ہیں۔ وہ کردار کے غازی ہیں، ہم گفتار کے بھی نہیں ہیں۔
غرض  لاکھ اختلافات  ہیں۔۔  اس کے باوجود شناساؤں میں ہمیں وہی سب سے زیادہ عزیز ہیں۔ اور یہ محبت یک طرفہ نہیں۔ ہم ان پر جان چھڑکتے ہیں تو انہوں نے بھی موبائل میں اپنی محبوبہ کا نمبر ہمارے نام سے محفوظ کر رکھا ہے۔
مرزا صاحب اتنے نیک ہیں کہ خواتین کو نظر اٹھا کے نہیں دیکھتے۔ ہمیشہ کن اکھیوں سے دیکھتے ہیں۔ پھر اپنے نہ ہونے والے گناہوں پر توبہ کرتے رہتے ہیں۔
مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ اور اپنے عقد ثانیہ کی شدت سے آرزو ہے۔ غالباً اسی وجہ سے ثانیہ نامی ہر خاتون کو التفات سے دیکھتے ہیں۔ شعیب ملک کی شادی پر جتنی خوشی انہیں ہوئی، شاید شعیب کو بھی نہ ہوئی ہو۔ ثانیہ مرزا نے شادی کے بعد بھی اپنا نام تبدیل نہ کرنے کا اعلان کیا تو مزید خوش ہوئے۔
اخلاق کا دامن کبھی کبھارچھوڑ بھی دیں، تہذیب کا ہر گز نہیں چھوڑتے۔ جب کبھی تازہ عشق کی واردات سناتے ہیں، حالات اور حیا کے تقاضوں کے تحت ایک خاص حد پر آکر خاموش ہو جاتے ہیں۔ آتش شوق میں جل کر ہم کریدتے رہتے ہیں۔۔۔وہ  زیر لب مسکراتے ہوئے اپنی لذت اور ہماری طلب میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔
مرزا کی کوئی بات دلیل اور منطق سے خالی نہیں ہوتی۔ ہر مسئلے پر دو زاویے پیش کرتے ہیں۔ پھر ان پر دلائل کے انبار لاددیتے ہیں۔ آخر میں پوچھنے والے کو خود یاد نہیں رہتا کہ اس کا مسئلہ تھا کیا۔
سختی سے وقت کی پابندی کرتے ہیں۔ یعنی وقت مقررہ سے ہمیشہ بیس منٹ تاخیر سے آتے ہیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ بیس کے بجائے اکیس منٹ کی تاخیر ہوئی ہو۔
پاکستان میں دہشت گردی کو یہودونصاریٰ کی سازش سمجھتے ہیں۔ ہر خود کش دہشت گرد کے مرنے کے بعد اس کے درجات کی بلندی کی دعا کرتے ہیں۔ مسلم امہ میں پائی جانے والی دیگر خرافات مسئلاً  علم سے دوری، آپسی اختلافات، گرانفروشی، رشوت ستانی، ملاوٹ وغیرہ کو بھی یہود کی سازش گردانتے ہیں۔ اور ایک اسلامی حکومت کے قیام کو تمام بیماریوں سے نجات کا نسخہ سمجھتے ہیں۔
مرزا شاہین سیالکوٹی اتنے ہمہ جہت ہیں، کہ ان کے بارے میں دفتر کے دفتر لکھے جا سکتے ہیں۔ حرف آخر یہ کہ تمام اختلافات کے باوجود ہم انہیں اور وہ ہمیں خوش اسلوبی سے برداشت کرتے ہیں۔ اور شاید برداشت ہی تہذیب کا حسن ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s