دھرنوں سے براہ راست

دو رہنما پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ دونوں سارا دن اپنے اپنے کنٹینر میں اے سی لگا کر بیٹھے رہتے ہیں اور جس عوام کے لیے وہ انقلاب یا آزادی لانا چاہتے ہیں، وہ کڑکتی دھوپ میں سڑتی رہتی ہے۔ دونوں کی اولادیں ان دھرنوں میں شریک نہیں (شاید وہ بھی کسی ٹھنڈے کمرے میں ٹانگیں پسار کر دھرنے کی کوریج دیکھ رہی ہوں)، لیکن یہاں موجود کئی بچے ان کے کنٹینرز کو حسرت سے دیکھتے ہیں۔طاہرالقادری کے ساتھ جو لوگ ہیں، وہ کارکن سے زیادہ مرید معلوم ہوتے ہیں۔ یہ لوگ طاہرالقادری کو قبلہ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ ان کے چہروں پر تو بے بسی نظر آتی ہے، لیکن زباں پر نہیں آتی۔ یہ گم سم آسماں کی جانب دیکھتے رہتے ہیں۔ پوچھا جائے کہ کب جاؤ گے؟ جواب ملتا ہے جب قبلہ کا حکم ہو گا۔
دھرنے میں شریک ایسے لوگوں کی تو چاندی ہے جو سارا دن فارغ بیٹھتے ہیں اور تین وقت کی روٹیاں توڑتے ہیں۔ ظاہر ہے واپس جائیں گے تو کوئی کام دھندا کرنا پڑے گا۔
یہاں ہر وقت اونچی آواز میں نغمے گونجتے ہیں اور کان پھاڑتے ہیں۔ ایک نغمہ ہے
آگیا۔۔آگیا۔۔۔
اسلام کا سالار طاہر آگیا
طاہرالقادری نے شریف خاندان سے فیض پایا، اور پھر اسی خاندان کے خلاف نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ بات کہنے کےلیے نغمے کے بول ہیں۔۔۔
اے فرعونو! تم پر موسیٰ بن کر آگیا
آگیا۔۔۔آگیا۔۔۔اسلام کا سالار طاہر آگیا۔۔۔۔
موسیٰ تو اللہ کے نبی تھے۔ ایک انسان کو اللہ کے نبی سے نسبت دینا کس حد تک درست ہے۔ دینی تعلیمات پر دسترس رکھنے والے اس پر بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں۔
دھرنوں کی کوریج کے دوران کچھ دلچسپ مشاہدات بھی ہوئے۔ وہ بھی بیان کیے جائیں گے۔ فی الحال دونوں لیڈران اس بات کا جواب دے دیں کہ خود ٹھنڈے کمرے میں بیٹھے رہنا اور اپنے عقیدت مندوں کو کڑی دھوپ کے حوالے کر دینا۔۔۔کیا یہ انصاف ہے؟ کیا اس کا نام انقلاب ہے؟ کیا اس کا نام آزادی ہے؟

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s