خان صاحب کی کیا مجبوری تھی؟

جاوید ہاشمی کے بیان نے مشکل میں ڈال دیا ہے۔ کہتے ہیں تحریک انصاف شاہراہ دستور پر ہی رہنے کا فیصلہ کر چکی تھی کہ شیخ رشید عمران خان کے لیے ایک پیغام لے کر آئے۔ عمران نے پارٹی کے متفقہ فیصلے سے پھرتے ہوئے کہا، "مجبوری ہے، اب آگے جانا ہوگا۔”
اب عمران خان تردید کرتے ہیں، لیکن ان کی بدقسمتی سے، اسی رات پارٹی رہنما اسد عمر نے بھی ٹیلی وژن پر اعلان کیا تھاکہ کسی سرکاری عمارت میں داخل نہیں ہوں گے۔ لیکن عمران خان کو وزیراعظم ہاؤس جانے کا فیصلہ کسی مجبوری میں کرنا پڑا۔
آخر وہ کیا مجبوری تھی؟ وزیراعظم ہاؤس کی جانب بڑھنے کا فیصلہ غالباً تیس اگست کی رات آٹھ بجے سے نو بجے کے درمیان کیا گیا۔اس وقت کی فوٹیج دیکھیں (24ویں منٹ سے) تو تحریک انصاف کی قیادت کنٹینر پر ایک بحث میں مبتلا دکھائی دیتی ہے۔ سب کے چہروں پر کشیدگی مترشح ہے۔ شفقت محمود کا چہرہ تو بالکل ہی اترا ہوا ہے۔ جاوید ہاشمی اور عمران خان کچھ اختلافی جملوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔ ہاشمی کچھ دلائل دیتے ہیں، عمران انکار میں سر ہلاتے ہیں۔ اس کے بعد عمران خان شفقت محمود سے کوئی گفتگو کرتے ہیں، شفقت محمود خاموشی سے سنتے رہتے ہیں، کوئی جواب نہیں دیتے۔اور فوٹیج میں غالباً اکتیس منٹ اور تیس سیکنڈ پر وہ لمحہ آیا، جب کپتان نے باغی کو کہہ دیا، "آپ کو اختلاف ہے تو آپ جا سکتے ہیں۔”
تینتیس منٹ اور تیس سیکنڈ پر دیکھا جا سکتا ہے کہ عمران خان کسی سے گفتگو کرنے کے لیے جانا چاہتے ہیں، لیکن شیخ رشید انہیں بازو سے مضبوطی سے پکڑ لیتے ہیں۔

آخر عمران خان کو کیا مجبوری تھی؟ ہمیں اس بارے میں خبر تو نہیں، لیکن دھرنوں کی کوریج کے دوران کچھ اندازے ضرور ہوئے۔تیس اگست سے قبل عوامی تحریک اور تحریک انصاف نے بظاہر علیحدہ رہنے کا تاثر دیا۔ ایک جماعت کو موجودہ نظام میں ہی شفاف الیکشن درکار تھے، دوسری جماعت سرے سے اس نظام کو ہی نہیں مانتی۔ مطالبات  الگ، لیکن دونوں فریق نتیجہ ایک ہی مانگتے تھے، "وزیراعظم کا استعفیٰ”۔
بظاہر علیحدہ ہونے کے باوجود دونوں جماعتوں کی حرکات و سکنات میں ایک ہم آہنگی تھی، ایک نظم تھا۔۔۔یوں جیسے ایک ہی پریڈ ماسٹر دونوں کو یکساں کاشن دے رہا ہو۔ اس سے قبل ہی میڈیا کے کچھ چینلز کو دونوں جماعتوں کے حق میں  جانبدارانہ نشریات کا حکم بھی جاری کر دی گیا تھا۔
ہم آہنگی اور نظم و ضبط قدم قدم پر نظر آیا۔ دونوں ایک ہی دن لاہور سے روانہ ہوئے۔ اسلام آباد میں جن شاہراہوں پر قیام کیا وہ ایک دوسرےکےمتوازی تھیں۔
متوازی شاہراہوں پر موجودگی کے باوجود دونوں جماعتیں الگ تھلگ رہیں۔ دونوں کے جلسے الگ الگ ہوئے۔ ہر جلسے سے اس کے متعلقہ لیڈر نے خطاب کیا۔ لیکن ایک نظم اور ٹائمنگ کے ساتھ ۔ ایک جلسے سے لیڈر کی تقریر ختم ہوتی تو دوسرے جلسے سے شروع ہوتی۔  یوں ٹی وی چینلز کو دونوں کی تقریر سنانے میں کبھی مسئلہ نہیں ہوا۔ کبھی دونوں لیڈروں کی تقاریر اوور لیپ نہیں ہوئیں۔
جب دونوں جماعتوں نے ریڈ زون کی جانب بڑھنا تھا، اس روز تو کمال کی ٹائمنگ دیکھنے کو ملی۔ہم میڈیا والے تمام دن وہاں موجود رہے۔ ہم نے دونوں جماعتوں کی قیادت کو کہیں آپس میں ملاقات کرتے نہ دیکھا۔ فون پر بات کرنے کاسوال اس لیے نہ تھا کہ موبائل فونز کے سگنل بند کر دیے گئے تھے۔ اس کے باجود عوامی تحریک والوں نے وہ راستہ سرشام ہی کلیئر کرنا شروع کر دیا جہاں سے گزر کر تحریک انصاف والوں نے ان سے ملنا تھا (گویا راستہ اور لائحہ عمل پہلے سے طے شدہ تھا)۔
طاہرالقادری نے پہلے تقریر کی۔ اس کے بعد انہوں نے نماز کی بریک لی، اور پھر انتظار کرتے رہے۔ اس دوران دوسرے جلسے میں عمران خان کی تقریر کرائی گئی۔ عمران خان نے تقریر ختم کی تو طاہرالقادری نےدعا کرائی اور اپنے کارکنوں کو بھی آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ اتنی دیر میں  تحریک انصاف کے کارکن ان تک پہنچ چکے تھے،ایک کرین پہلے سے موجود تھی جو راستے میں موجود  بھاری بھرکم کنٹینرز کو ہٹاتی گئی۔اور دونوں قافلے ریڈ زون پہنچ گئے۔
یہاں بھی دونوں نے ایک دوسرے کے قریب ہی اپنے خیمے (کنٹینر) لگائے۔ دونوں جماعتوں نے بڑے بڑے اسپیکر کا انتظام کر رکھا تھا جہاں اپنی اپنی پارٹی کے ترانے چلائے جاتے۔ اس وجہ سے اگر ایک خیمے سے کوئی تقریر نشر کی جاتی تو دوسرے خیمے تک اس کی آواز نہ پہنچتی تھی۔ لیکن یہاں بھی تقاریر کا انتظام انتہائی نظم و نسق سے کیا گیا۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میڈیا چینلز کو مشکل ہوئی ہو کہ کس کی تقریر سنائیں اور کس کی نہ سنائیں۔ طاہرالقادری کی تقریر ختم ہوتی تو عمران خان نمودار ہو جاتے۔ کبھی بھی دونوں لیڈر اوورلیپ نہ ہوئے۔
پھر اعلانیہ مشاورت شروع ہو گئی۔ شاہ محمود قادری کے کنٹینر میں آتے جاتے دیکھے گئے تو رحیق عباسی کپتان کے کانوں میں سرگوشیاں کرتے نظر آئے۔
تب تیس اگست کی وہ ڈرامائی رات آئی، جب بقول جاوید ہاشمی، عمران خان نے کہا "مجبوری ہے، اب آگے جانا ہوگا۔”
شاید یہ وہی غیر محسوس اور منظم سی مجبوری تھی جو دھرنوں کے دوران ہمیں محسوس ہوتی رہی۔ شاید شیخ رشید نے کپتان کے کان میں کہا ہوگا، "پریڈ ماسٹر کاشن دے دیتا ہے، تو دستے کو آگے بڑھنا ہی پڑتا ہے۔”

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s