ان کی شکایت

ہمارے ٹیلی وژن چینل پر بین الاقوامی خبروں کے لیے ایک ڈیسک ہے۔ دنیا بھر سے پاکستانیوں کی دلچسپی کی خبریں تلاش کرنا، اور اردو میں ترجمہ کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ایک زمانے میں   ڈیسک کا انچارک ایسی خاتون کو بنایا گیا جو اردو لکھنا جانتی تھیں نہ بولنا۔ کسی دوسرے ملک سے پاکستان آئی تھیں، اور انگریزی اخبار سے منسلک رہی تھیں۔ اب کام کی صورت کیا ہو؟ وہ جس خبر کو ضروری سمجھتیں، اس کے اہم حصوں کو نشان زدہ کر کے ماتحت عملے کو دے دیتیں۔  وہ ترجمہ کرتا، خاتون تصدیق کرتیں کہ نشان زدہ حصے خبر میں شامل ہیں، اور خبر فائل کر دی جاتی، جس کا دورانیہ ڈیڑھ سے دو منٹ تک کا ہوتا۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

خواتین، انگریزی اور خاکسار

خواتین ہوں یا انگریزی، خاکسار دونوں سےیکساں گھبراتا ہے۔
کیوں کہ خاکسار کو نہ انگریزی کی سمجھ آتی ہے، نہ خواتین کی۔
انگریزی ہمارے دماغ اور خواتین ہمارے ایمان میں خلل ڈالتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ کسی محفل میں خواتین کی موجودگی حواس باختہ کردیتی ہے۔  کھانا پینا بھول جاتا ہے۔ نظریں ڈونگوں اور چمچوں کے بجائے جھمکوں اور آویزوں میں اٹکنے لگتی ہیں۔
ایسے میں سالن کے گھونٹ بھرنے لگتے ہیں اور پانی میں نوالہ ڈبو لیتے ہیں۔ کباب سالم کھا جاتے ہیں، اور بسکٹ کو کیچپ لگا لیتے ہیں۔ پڑھنا جاری رکھیں

ملازم پیشہ لوگو! اپنے آپ سے سوال کرو

ہم صحافی ویسے تو سوال پوچھتے بھی ہیں، اور سوال اٹھاتے بھی ہیں، لیکن اپنے آپ سے کچھ بنیادی سوال کبھی نہیں کرتے۔ جب فہرست بنائی تو احساس ہوا، ہر ملازم پیشہ آدمی خود سے یہ سوال ضرور کرے:
کیا مجھے اپنی محنت کامناسب صلہ مل رہا ہے؟
دفتر میں بہت سے لوگ میرے سے بہت کم کام کرتے ہیں، پھر ان کی تنخواہ میرے برابر، یا مجھ سے زیادہ کیوں ہے؟
کیا اس نوکری میں میرے لیےترقی کے واضح مواقع ہیں؟
کیا اس ادارے میں ترقی کا کوئی واضح طریقہ کار وضع کیا گیا ہے؟ پڑھنا جاری رکھیں

بلاول بھٹو کی ڈائری

ساری رات مجھے ٹھیک سے نیند نہ آسکی، برے برے خواب آتے رہے۔
صبح سویرے اٹھ کر میں نے ڈیڈ سے پوچھا۔۔۔ڈیڈ میری تقریر ٹوئٹر پر نہیں ہو سکتی؟
ڈیڈ نے  منع کر دیا۔ میں نے زمین پر لیٹ کر زور زور سے ٹانگیں چلانا اور رونا شروع کر دیا۔ پھر ڈیڈ نے وعدہ کیاکہ میں تقریر کروں تو وہ مجھے نئے ماڈل کا کیو موبائل لے کر دیں گے۔تب جا کر میں راضی ہوا۔
اب جناب، سب پارٹی والے مجھے تقریر کا رٹا لگوانے لگے۔ لیکن ایک مسئلہ ہو گیا۔۔۔ میں جب زور سے بولتا تھا تو پہلے میرا اور پھر ان سب کا ہاسا نکل جاتا تھا۔ پڑھنا جاری رکھیں

کیا بابو صحافی نوکری چھوڑ دے؟

بابو بچپن سے ہی صحافی بننا چاہتا تھا۔ تعلیم بھی اسی شعبے میں پائی، اور منتوں مرادوں کے بعد ایک ٹی وی چینل میں نوکری بھی مل گئی۔ بابو کو لگا اسے زندگی مل گئی ہے؛ وقت پر لگا کر اڑنے لگا اور پلک جھپکتے میں سات سال گزر گئے۔
اب بابوکے ساتھ ایک مسئلہ ہے۔
بابو نے جس تنخواہ پر نوکری شروع کی تھی، سات سال بعد اس  میں  چند ہزار روپے کا ہی اضافہ  ہوا ہے۔ اس کے مقابلے میں اخراجات کئی گنا بڑھ گئے ہیں، اور بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔
بابو کو یہ بھی علم نہیں کہ اسے مزید کتنے سال اسی تنخواہ پر کام کرنا ہوگا۔ پڑھنا جاری رکھیں

رکشے والے کا بھائی

رکشہ ہوا سے باتیں کر رہا تھا، اور میں اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش میں تھا۔
رکشے والا ایک مغرور شہ سوار کی مانند،راستے میں آنے والی ہر شے پر ایک حقارت بھری نظر ڈالتا، اور آگے بڑھ جاتا۔ گاڑیاں، موٹرسائیکل اور ٹریفک کے سگنل، رکشے والا سب کو کاٹتا ہوا آگے ہی آگے بڑھتا جارہا تھا۔
جب اس نے یکے بعد دیگرے تین سگنل توڑے تو میں تھوڑا حیران ہوا۔
"بھائی صاحب، آپ سگنل توڑتے جارہے ہیں، چالان کی کوئی فکرنہیں ہے آپ کو؟” میں پوچھ ہی بیٹھا۔
"صاحب میرا بھائی ٹریفک وارڈن ہے، کہیں چالان وغیرہ ہونے لگے تو وہ سفارش کردیتا ہے، اس لیے مجھے کوئی فکر نہیں۔” پڑھنا جاری رکھیں