نتیجہ

پیارے ابو۔۔۔
مجھے یقین تھا آپ کو میری نئی دوست پسند نہیں آئے گی، خاص طور پر اس کا مختصر لباس اور جھانکتے بدن پر بنے ٹیٹو۔ آپ نے یہ بھی کہنا تھا وہ عمر میں تم سے بہت بڑی ہے۔ لیکن ابو، عشق میں یہ باتیں نہیں دیکھی جاتیں۔ مجھے تو بس وہی اچھی لگتی ہے، اس لیے میں اس کے ساتھ گھر سے بھاگ گیا ہوں۔
آپ کو پتہ ہے، اس کے ساتھ رہ کرتو منشیات بھی زیادہ نشہ آور لگتی ہیں۔جب ہم دونوں دم لگاتے ہیں تو دنیا اور بھی حسین لگنے لگتی ہے۔میں تو یہ بھی  سوچ رہا ہوں کہ پیٹ پالنے کے لیے منشیات کا کاروبار ہی شروع کر دوں۔ابھی اس کا بھائی اسمگلنگ کے الزام میں جیل کاٹ رہا ہے، چھٹ کر آگیا تو اس کام میں بھی ہاتھ ڈالوں گا۔ امید ہے معاشی مسائل کافی حد تک حل ہو جائیں گے۔ پڑھنا جاری رکھیں

عمران خان کا بھانجا

برطانوی اخبار گارڈین پر7 مارچ 2014 کی  چھپی ایک خبر ہاتھ لگی ہے۔عمران خان کے بھانجے کے بارے میں خبر پڑھ کر وہ محاورہ یاد آگیا،” باپ پر پوت، پتا پر گھوڑا، بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا۔”
معاملہ کچھ یوں ہے کہ عمران خان کے بھانجے حسن نیازی سٹی یونیورسٹی لندن میں زیر تعلیم تھے، اور طلبہ یونین کے صدر کا انتخاب لڑ رہے تھے۔
حسن نیازی نے بلاول بھٹو کے خلاف ٹویٹ میں نازیبا زبان استعمال کی (جیسے ان کے ماموں اپنے جلسوں میں سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرتے ہیں)۔لیکن برطانیہ میں اس بات پر کڑی تنقید ہوئی اور وہ الیکشن ہار گئے۔
اصل خبر یہ نہیں۔ پڑھنا جاری رکھیں

جماعت اسلامی کامسئلہ کیاہے؟

جماعت اسلامی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ملکی مسائل کا حل جہاد اور قتال فی سبیل اللہ میں سمجھتی ہے۔ یعنی اگر ملک میں تعلیم کی کمی ہے، آلودگی ہے، شہری تہذیب سے عاری ہیں، سرعام تھوکتے ہیں، راہ چلتے گندگی پھیلاتے ہیں، پھلوں کے چھلکے سڑک پر پھینک دیتے ہیں، دیوار کے پاس بیٹھ کر رفع حاجت کرتے ہیں، رشوت لیتے ہیں، اپنا کام ایمانداری سے نہیں کرتے، ملاوٹ کرتے ہیں،کم تولتے ہیں، گالم گلوچ کرتے ہیں، دوسروں کا حق مارتے ہیں،ملکی وسائل کا غلط استعمال کرتےہیں، پانی ضائع کرتے ہیں، زور زور سے ہارن بجاتے ہیں، قانون پر عمل نہیں کرتے، نقل کرتے ہیں، سفارش کرتے ہیں اور کراتے ہیں، حق دار کو حق نہیں دیتے، تو ان تمام مسائل کا حل تعلیم و تربیت میں نہیں، جہاد اور قتال میں ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

انکریمنٹ

بڑے صاحب نے کہا”آپ کی تنخواہیں بڑھانے کا فیصلہ ہو چکا۔ کچھ دنوں میں کارکردگی کا جائزہ شروع ہو جائے گا۔”
یہ سنتے ہی ایک خاموش سا بھونچال آگیا۔ اجلاس میں موجود کئی لوگوں کے دل کچھ لمحے کےلیے دھڑکنا بھول گئے۔ملاقات برخواست ہوئی تو دفتر کے دیگر ساتھیوں کو خبر دی گئی۔پھر فون ملے، ایس ایم ایس ہوئے، اور آن کی آن میں دوسری شفٹ میں کام کرنے والوں تک بھی خوش خبری پہنچ چکی تھی۔
یہاں ایک آئینی سا مسئلہ کھڑا ہو گیا۔ کیا کارکردگی کا جائزہ لے کر اگلے ماہ ہی اضافہ شدہ تنخواہ دی جائے گی؟ یا پھر یہ معاملہ اس سے بھی اگلے ماہ پر ٹال دیا جائے گا۔
بڑے صاحب سے وضاحت پوچھنے کی کسی میں تاب نہ تھی، اس لیے سبھی اپنے اپنے اندازے لگانے لگے۔ٹولیوں میں بحث ہونے لگی۔دلائل سے ثابت کیا جاتا کہ اگلے ماہ آنے والی تنخواہ اضافہ شدہ ہوگی۔یوں  اگلے ماہ کی تنخواہ کا شدت سے انتظار ہونے لگا۔ پڑھنا جاری رکھیں

یوسفی کی نئی کتاب سے چند جملے

مشتاق احمد یوسفی کی اس نئی کتاب  "شام شعر یاراں” میں ان کا روایتی انداز ماند نظر آتا ہے۔ مزاح میں کچھ کسر سی رہ گئی ہے، یا پھر شاید ہم نے امیدیں کچھ زیادہ وابستہ کر لی تھیں۔پہلی کتابوں کی ہر سطر پر قہقہہ پھوٹتا تھا، یہاں کئی کئی صفحے پلٹ جاتے ہیں اور زیر لب تبسم بھی نہیں آتا۔ایک دوست نے کہا یوسفی صاحب کوایسی  کتاب نہیں لکھنی چاہیے تھی۔ لیکن ہم ان سے متفق نہیں۔کتاب یوسفی صاحب پر ان کے چاہنے والوں کا قرض تھا، جو انہیں ادا کرنا ہی تھا۔
کتاب سے چند جملے پیش ہیں۔
دنیا میں جتنی بھی لذیذ چیزیں ہیں، ان میں سے آدھی تو مولوی صاحبان نے حرام کر دی ہیں اور باقی آدھی ڈاکٹر صاحبان نے۔ پڑھنا جاری رکھیں

عامر لیاقت سے پانچ سوال

عامر لیاقت صاحب۔ سنتا ہوں کہ رمضان نشریات کے بعد، اب آپ جیو پر مارننگ شو بھی "برپا” کرنے جا رہے ہیں۔یہ خبر سنی تو مجھے ایکسپریس والوں پر ترس بھی آیا، اور پیار بھی۔ جب آپ کچھ دنوں کے لیے وہاں سدھارے تھے، تو انہوں نے کتنی خوشیاں منائی تھیں۔آپ کو اپنا صدر ہی مقرر کر لیا تھا۔
آپ کی آمد کے روز بڑے سائز کا خیر مقدمی اشتہار شائع کیا گیا (اور جب تک آپ رہے، آپ کی محمودہ سلطانہ فاؤنڈیشن کے اشتہار بھی شائع ہوتے رہے)۔ایکسپریس نیوز نے رات نو بجے کے خبر نامے میں آپ کی آمد کو بریکنگ نیوزکے طور پر پیش کیا، اور آپ کا براہ راست انٹرویو لیا گیا(یہ انٹرویو آپ تحریرکے آخرمیں دیکھ سکتےہیں)۔
اس انٹرویو میں آپ نے عقل کے جو موتی بکھیرے، میں ابھی تک انہیں سمجھنے سے قاصر ہوں۔ جیو پر مارننگ شو شروع کرنے سے پہلے مندرجہ ذیل دانائی بھری باتوں کی وضاحت ضرور فرما  دیجیے گا۔ پڑھنا جاری رکھیں

بے صبرے صحافی

خبر اور صبر ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ اسی لیے جو خبر دیتے ہیں ان میں صبر نہیں ہوتا۔ صحافی تو ویسے بھی صبر سے دور اور خبر سے قریب رہنا چاہتے ہیں۔ خبر  پاس آجائے تو وہ حالت ہو جاتی ہے ، جیسی  انڈا دینے کے بعد مرغی کی ہوتی ہے۔جگہ جگہ کڑکڑاتے پھرتے ہیں۔دوسرے چینل دیکھتے ہیں، وہاں متعلقہ خبر نہ پا کر اپنی خوش بختی اور ان کی بدبختی پر اتراتے ہیں۔
یہی خبر کسی دوسرے چینل پر پہلے چل جائے تو ان پر چل چلاؤ کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ یوں ٹہلتے ہیں جیسے اپنا سرمایہ لٹا بیٹھے ہوں۔رپورٹر سے خبر کا تقاضا بھی یوں کرتے ہیں جیسے دیا ہوا قرض واپس مانگ رہے ہوں۔لہجے میں تلملاہٹ اور جل ککٹرا پن آجاتا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

زرداری کی کہانی، ہاشوانی کی زبانی

1983 کی رات ساڑھے گیارہ بجے صدر الدین ہاشوانی کو ایک کال موصول ہوئی۔
"سر ہوٹل کے ڈسکو میں جھگڑا ہو گیاہے۔” دوسری جانب میریٹ ہوٹل کراچی کے جنرل مینیجر تھے۔
جنرل مینیجرنے بتایا کہ دو افراد لڑ پڑے ہیں، اور ان کے گروہوں نے اسلحہ نکال لیا ہے۔ ہوٹل کے ڈسکو میں فائرنگ ہورہی ہے، بھگدڑ مچ گئی ہے۔صدرالدین ہاشوانی نےحکم دیا،  محافظوں سے کہہ کر ان افراد کو باہر پھینک دیا جائے۔
اس رات، لڑنے والے دو افراد میں سے ایک آصف زرداری تھے۔ پڑھنا جاری رکھیں

واہگہ بارڈر، جہاں نفرت بکتی تھی

واہگہ بارڈر جاتے تو طبقاتی تفریق پہلے گیٹ سے ہی شروع ہو جاتی۔
وی آئی پیز کے لیے الگ گیٹ ہے، اور اگر آپ ایک عام بلڈی سویلین ہیں تو آپ  کا راستہ مختلف ہوگا۔ آپ کی گاڑی جس جگہ پارک ہو گی وہاں دھول اڑتی ہو گی، اور یہاں سے پیدل چل کر آپ کو پریڈ گراؤنڈ تک جانا ہوگا۔ جب آپ پیدل چل چل کر تھک چکے ہوں گے تو دیکھیں گے کہ چند وی آئی پیز آخری حد تک اپنی گاڑیوں پر پہنچے ہیں، اور صاف ستھری جگہ پر  گاڑی پارک کرنے کے بعد خراماں خراماں چلے جا رہے ہیں۔
آپ کو داخلے کا ٹکٹ لینا ہوگا، اور جسمانی تلاشی کے مراحل سے گزرنا ہو گا۔
جب آپ پریڈ گراؤنڈ پہنچیں گے، تو یہاں بھی طبقاتی تفریق منہ چڑاتی نظر آئے گی۔ پڑھنا جاری رکھیں