بے صبرے صحافی

خبر اور صبر ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ اسی لیے جو خبر دیتے ہیں ان میں صبر نہیں ہوتا۔ صحافی تو ویسے بھی صبر سے دور اور خبر سے قریب رہنا چاہتے ہیں۔ خبر  پاس آجائے تو وہ حالت ہو جاتی ہے ، جیسی  انڈا دینے کے بعد مرغی کی ہوتی ہے۔جگہ جگہ کڑکڑاتے پھرتے ہیں۔دوسرے چینل دیکھتے ہیں، وہاں متعلقہ خبر نہ پا کر اپنی خوش بختی اور ان کی بدبختی پر اتراتے ہیں۔
یہی خبر کسی دوسرے چینل پر پہلے چل جائے تو ان پر چل چلاؤ کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ یوں ٹہلتے ہیں جیسے اپنا سرمایہ لٹا بیٹھے ہوں۔رپورٹر سے خبر کا تقاضا بھی یوں کرتے ہیں جیسے دیا ہوا قرض واپس مانگ رہے ہوں۔لہجے میں تلملاہٹ اور جل ککٹرا پن آجاتا ہے۔
کوئی اہم شخصیت بیمار بھی ہو جائے تو یہ وفات کی امید باندھ لیتے ہیں۔ احتیاطاً ان کی زندگی پر رپورٹ بھی تیار کرا چھوڑتے ہیں، مبادا کسی وقت بھی چلانی پڑ جائے۔
فلم انڈسٹری کے کوئی ہیرو اور ہیروئن ایک دوسرے کو صرف مسکرا کر دیکھ لیں تو انہیں شادی کے گانے سوجھنے لگتے ہیں۔ پیش بندی کے طور پر ان کے آنگن میں کھلنے والے پھول کی خبر بھی تیار کر چھوڑتے ہیں۔ تاکہ جب یہ خبر آ ہی جائے تو فائل کرنے میں تاخیر نہ ہو۔
نازک حالات میں فوجی کمانڈروں کا اجلاس ہو تو یہ اپنی طرف سے جمہوریت کی بساط لپیٹ  دیتے ہیں۔
پہلے خبر دینے کے معاملے میں اتنے حساس ہوتے ہیں کہ  اپنے اعتبار کا خسارہ برداشت کر لیتے ہیں، تاخیر برداشت نہیں کرتے۔
خالی بادل چھا جائیں تو بارش کی خبر چلوا دیتےہیں۔ کہتے ہیں کہیں نہ کہیں تو ہوئی ہو گی بارش، خبر دینے میں پیچھے کیوں رہیں۔
جلوس  لاہور سے روانہ ہو تو یہ اسلام آباد میں رپورٹر کو چوکنا کر دیتے ہیں۔۔۔بھئی مظاہرین روانہ ہو چکے ہیں، نظر رکھنا، اسلام آباد پہنچنے کی خبر سب سے پہلے ہمارے ہی چینل پر چلنی چاہیے۔

اور پھر جب یہ بے صبرے صحافی جلدی جلدی میں کوئی خبر چلاتے ہیں، تو کیا ہوتا ہے، جاننے کے لیے پڑھیں جلدباز صحافت

Advertisements

4 thoughts on “بے صبرے صحافی

  1. درست فرمایا ہے
    میں کسی بلاگ پر آپ کا تبصرہ پڑھ کر یہاں پہنچا ہوں ۔ آپ نے لکھا ہے ”اور جب یہ بھی پتہ نہ ہو کہ اپنا کام کیا ہے تو؟“
    میں نے ایک انجنیئرنگ کالج کے زمانے کا (۰1960) شعر حال ہی میں اپنے بلاگ پر لکھا تھا
    آہستہ چلو کہ روانی آئے ۔ جو بات بڑتی ہو بنانی آئے
    آغاز جس کا نہ معلوم ہو شاداب ۔ کیا خاک تمہیں وہ کہانی آئے
    http://www.theajmals.com

    پسند کریں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s