انکریمنٹ

بڑے صاحب نے کہا”آپ کی تنخواہیں بڑھانے کا فیصلہ ہو چکا۔ کچھ دنوں میں کارکردگی کا جائزہ شروع ہو جائے گا۔”
یہ سنتے ہی ایک خاموش سا بھونچال آگیا۔ اجلاس میں موجود کئی لوگوں کے دل کچھ لمحے کےلیے دھڑکنا بھول گئے۔ملاقات برخواست ہوئی تو دفتر کے دیگر ساتھیوں کو خبر دی گئی۔پھر فون ملے، ایس ایم ایس ہوئے، اور آن کی آن میں دوسری شفٹ میں کام کرنے والوں تک بھی خوش خبری پہنچ چکی تھی۔
یہاں ایک آئینی سا مسئلہ کھڑا ہو گیا۔ کیا کارکردگی کا جائزہ لے کر اگلے ماہ ہی اضافہ شدہ تنخواہ دی جائے گی؟ یا پھر یہ معاملہ اس سے بھی اگلے ماہ پر ٹال دیا جائے گا۔
بڑے صاحب سے وضاحت پوچھنے کی کسی میں تاب نہ تھی، اس لیے سبھی اپنے اپنے اندازے لگانے لگے۔ٹولیوں میں بحث ہونے لگی۔دلائل سے ثابت کیا جاتا کہ اگلے ماہ آنے والی تنخواہ اضافہ شدہ ہوگی۔یوں  اگلے ماہ کی تنخواہ کا شدت سے انتظار ہونے لگا۔
بات تھی بھی ایسی۔ کئی سال گزر گئے تھے، تنخواہیں نہیں بڑھی تھیں اور اخراجات کئی گنا بڑھ گئے تھے۔
ملازمین کہاں تو کئی سال پرانی تنخواہ پر کام کرتے رہے تھے، کہاں ایک ماہ گزارنا بھی مشکل لگنے لگا۔ ہر کوئی ملنے کے بعد مسکرا کے پوچھتا، "توپھر! بڑھ رہی ہے تنخواہ۔”
کچھ اس کا جواب محتاط  تبسم  سے دیتے، کچھ ہنس دیتےاور پوچھنے والے کا ہاتھ  گرم جوشی سے تھام لیتے۔کچھ بظاہر مایوسانہ سی باتیں کرتے لیکن دل میں لڈو پھوٹ رہے ہوتے۔
بات گھروں میں پہنچی تو وہاں سے بھی فرمائشیں آ گئیں۔ذوالفقار صاحب کا لڑکا  کہنے لگا اب کی بار نئی کلاس کے لیے کتابیں بھی نئی لوں گا۔ان کی بیگم بولیں آپ بھی نئی شرٹ لے لیجیے گا، اس کے تو کالر سے کپڑا بھی پھٹ گیاہے۔
پھر ایک دن ادارے کے مالک آ گئے، اور بڑے صاحب کے ساتھ کمرےمیں سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ یہ بڑے صاحب سے ہماری کارکردگی پوچھنے آئے ہوں گے۔۔۔ملازمین کی امیدیں اور خواہشات سینے میں جوش مارنے لگیں۔ چال میں مستی سی آ گئی۔ بہانے بہانے سے اس کمرے کے سامنے سے گزرتے۔  اس لمحے ان کی سماعتوں کا تمام ارتکاز کمرے میں ہونے والی گفتگو پر ہوتا۔ کہیں کوئی ایسا جملہ سننے کو مل جائے جو آنے والے پل کی خبر دے۔ بھاگ بھاگ کر کمرے میں چائے دینے والے ٹی بوائے سے پوچھا جاتا، "اندر کیا باتیں ہو رہی تھیں؟” وہ غریب کبھی کندھے اچکاتا، کبھی کہتا نئے کمپیوٹر لگانے کی بات ہو رہی تھی۔اس کی الجھی باتیں صورتحال کو مزید الجھا دیتیں۔
کوئی کھلے دروازے سے اندر کی ایک جھلک دیکھ پاتا تو سب کو آ کر بتاتا۔ مالک کرسی پر اطمینان سے بیٹھے تھے۔ بڑے صاحب سامنے بیٹھے مسکرا رہے تھے۔ اس دوران مالک اپنے لیپ ٹاپ پر کچھ لکھتے بھی جا رہے تھے۔
کچھ نے تو کی بورڈ پر حرکت کرتی انگلیوں سے اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ کیا لکھا جا رہا ہے۔
مالک نے پورے دو دن ادارے میں گزارے۔ یاروں نے گپ اڑائی، اس کا مطلب ہے تنخواہ میں اضافہ بھی دگنا ہو گا۔اس گپ پر سب کو درد بھری ہنسی آئی۔ پھر کسی نے یاد دلایا، اس سے پہلے بھی ایک بار تنخواہ میں اضافے کا کہا گیا تھا، اور کئی ماہ تک فیصلے پر عمل ہی نہیں ہو ا تھا۔
سب نے یہ بات یاد دلانے والے کر برابھلا کہا۔کچھ نے وہ وقت یاد کرکے جھرجھری بھی لی۔
یوں تو ایک دن کاٹنا بھی مشکل تھا، لیکن پورا مہینہ گزر گیا۔ اور تنخواہ آ گئی۔

Advertisements

3 thoughts on “انکریمنٹ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s