سکہ، ٹرین اور دستاویزی فلم

وہ بہت شائستہ  خاتون تھیں، لیکن ان کی گفتگو میں انگریزی کے لفظ اور فقرے یوں درآتے، جیسے کچی بستیوں میں سیلاب آتا ہے۔ بغیر اطلاع کے، اور بلااجازت۔ یونیورسٹی میں مجھ سمیت کلاس کے تمام پینڈو لڑکے خواہ مخواہ مرعوب ہوجاتے۔ ہمارا انگریزی سے تعارف صرف چندالفاظ تک محدود تھا، مسئلہ شٹ اپ، گیٹ آؤٹ، وغیرہ۔ اسی لیے ہم انگریزی کو ڈانٹ ڈپٹ کی زبان سمجھتے تھے۔ کوئی ہاؤ آر یو بھی پوچھ لیتا تو ہوائیاں اڑنے لگتیں۔ اپنا حال بتاتے بھی یوں لگتا جیسے وضاحت دے رہے ہیں۔
(خواتین اور انگریزی سے بدکنے کے واقعات ان دو تحریروں میں بھی بیان کر چکے ہیں: خواتین، انگریزی اور خاکسار۔ ان کی شکایت)
مرعوبیت کےاس ماحول میں، ایک بار ان خاتون نے دوران گفتگو کندھے اچکا کے باآواز بلند کہا "ڈاااااا”۔
ہم گھبرا کر خاموش ہو گئے، انتظار کیاکہ "ڈا” کے چشمے سے مزید لفظ بھی پھوٹیں گے۔ لیکن وہ یوں مطمئن بیٹھیں تھیں کہ اس ایک لفظ نے سب کچھ کہہ دیا ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ جہاں انگریزی میں "ظاہر ہے” کہنا ہو، ماڈرن خواتین وہاں "ڈا” کہتی ہیں۔ یہاں تک تو ٹھیک تھا، لیکن وہ خاتون ہر معاملے میں ہی” ڈا” بیچ میں لے آتیں۔ آف کورس، وائے ناٹ، یس، نو، اوہ نو، کی جگہ بھی "ڈا” ہی استعمال ہوتا اور سننے والا سیاق و سباق کو مدنظر رکھتے ہوئے معنی تلاش کرتا۔
جب یونیورسٹی والوں نے اپنی دانست میں ہمیں سب کچھ پڑھا دیا، تو ہماری استعداد کا جائزہ لینے کافیصلہ کیا۔ ہم نے کچھ سیکھا بھی ہے یا کورے ہی رہےہیں، اس کا تعین کرنے کے لیے ہمیں ایک پراجیکٹ جمع کرانے کے لیے کہا گیا۔مذکورہ خاتون،ہم اور دو دیگر احباب نے دستاویزی فلم بنانے کا سوچا۔ موضوع بچے تھے۔۔۔ دکانوں میں کام کرنے والے، کوڑا اٹھانے والے، مزدوری کرنے والے، بھیک مانگنے والے، نشہ کرنے والے، نشہ بیچنے والےبچے۔
بچوں کو فلمانے ہم لاہور کی پوش آبادی گلبرگ سےملحقہ ریلوے لائن تک بھی جا پہنچے۔ان خاتون نے ایسا علاقہ شاید پہلی باردیکھا تھا۔ لوگ ریلوے لائن پر چارپائی بچھائے بیٹھے تھے۔ ٹرین کے آنے کا غلغلہ ہوا تو چارپائی ایک طرف کر لی، ٹرین گزرنے کے بعد پھر بچھا لی۔یہاں ہم نے ذکر کیا ، اگر ایک سکہ ریلوے لائن پر رکھ دیا جائے، اور ٹرین اس کے اوپر سے گزرے،توکیسے وہ سکہ چپٹا ہو جائے گا۔  یہ سن کر وہ خاتون پرجوش ہوگئیں اور نسخہ آزمانے کافیصلہ کیا۔ ٹرین آنے کی آواز آ رہی تھی، جلدی جلدی ایک سکہ برآمد کیا گیا، اسے پٹڑی پر رکھا گیا۔۔۔جہاں سکہ رکھا ہے اس جگہ کی نشانی کیا ہو؟ ادھر ادھردیکھا، ایک پھولےسے شاپر پر نظر پڑی، اسے اٹھا کر سکے کے قریب رکھ دیا ۔ ٹرین قریب آ چکی تھی، ہم سب دور ہٹ کر کھڑے ہوگئے۔
ٹرین کے گزرنے کے بعد اس شاپر کی تلاش ہوئی، جس نے سکے کی نشاندہی کرنی تھی۔ اب کی بار ذرا سکون سے دیکھا تو معلوم پڑا۔۔۔خاتون جسے جلدبازی میں شاپر سمجھی تھیں، وہ استعمال شدہ پیمپر تھا۔

Advertisements

2 thoughts on “سکہ، ٹرین اور دستاویزی فلم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s