افسر بجلی ہوتا ہے

افسر بجلی کی طرح ہوتا ہے۔ یعنی دفتر میں نہ بھی موجود ہو تو اس کے آنے کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔ آجائے تو پھر جانے کا انتظار شروع ہوجاتا ہے۔ بجلی کی طرح افسر کی ناراضی بھی برداشت نہیں کی جاسکتی۔ تاہم  افسر بجلی کی طرح جھٹکا دے بھی سکتا ہے اور جھٹکا کر بھی سکتا ہے۔
بجلی کی مانند افسر کی بھی دوستی اچھی ہوتی ہے، نہ دشمنی۔ ہر ملازمت پیشہ انسان کو افسر نامی ہستی سے ضرور پالا پڑتا ہے۔ اور کسی نہ کسی موقع پر ماتحت رہنے والا شخص خود بھی کبھی افسر بن جاتا ہے۔ البتہ انسان بدل جاتے ہیں، افسری نہیں بدلتی۔  افسران کو ان درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
نوکیلے افسر:ایسے افسر گوشت پوست سے نہیں، کانٹوں سے بنے ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ کانٹے ان کی زبان پر ہوتے ہیں اور ماتحت کی روح تک کو زخمی کر دیتےہیں۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

آصف ناشتہ کرنے گیا ہے

بیکری پرہر تھوڑی دیر بعد ایک پکار پڑتی ، "او آصف، جلدی آ یار!”
ایک پک اپ پر پانی کی بوتلیں لد کر آئی تھیں، جنہیں اتارا جانا تھا۔ پک اپ کے گرد جمگھٹا لگا تھا، تمام افراد کے چہرے پر پریشانی تھی اور کسی آصف کو بلایا جا رہا تھا۔
تھوڑی دیر مزید غورکرنے سے معلوم ہوا کہ پک اَپ کے گرد گھیرا ڈالے افراد میں سے ایک تو ڈرائیور ہے، آصف کو آوازیں لگانے والابیکری کا ملازم ہے جس کے ذمہ پانی کی بوتلیں اتارناہے۔ سپروائزر اور دیگر عملہ اس کے علاوہ ہیں۔ آصف کو پکارنے والا شخص تھوڑی تھوڑی دیر بعد بے بسی سے سپروائزر کی جانب دیکھتا اور شکوہ کرتا ، "دیکھیں نا سر، آصف آ ہی نہیں رہا۔” پڑھنا جاری رکھیں