مرغے لڑانے والے صحافی

بدقسمتی سے شعبہ صحافت میں ایسے حضرات کا عمل دخل بڑھ گیا ہے، جو صحافت کو بھی حماقت کا مترادف سمجھتے ہیں۔ ایسے مبینہ صحافی خبر اور اشتہار میں زیادہ فرق نہیں کرتے۔۔۔اشتہار کی طرح خبر کو بھی ناچ ناچ کر بیان کرنا چاہتےہیں۔  یہ حضرات خبر اور ڈکار کے بارے میں ایک جیسے خیالات رکھتے ہیں، یعنی دونوں کو روکا نہ جائے۔ خبر اور ڈکار ،جب اور جہاں آئے، مار دیا جائے۔
ایسے صحافی خبر بنانے، سنوارنے، اور نکھارنے پر نہیں، صرف اسے چلانے پر یقین رکھتےہیں۔ لہذا خبر میں غلطیاں تو بہت ہوتی ہیں، خبریت بالکل بھی نہیں ہوتی۔مجھے لگتا ہے، ایسے حضرات شعبہ صحافت میں آنے سے قبل مرغے لڑاتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ دماغ نہیں لڑاتے، چونچیں لڑاتےہیں، اور آخر کار خبر کو بھی مرغ کی طرح  ہلال کردیتےہیں۔ خبر کو اوڑھنا بچھونا ضرور سمجھتے ہیں، لیکن اوڑھنے کی جگہ اکثر اسے بچھا دیتےہیں۔
مرغے لڑانے والے صحافی ، جو خبر مل جائے اس پر شکر نہیں کرتے، جو نہ ملے اس کا شکوہ ضرور کرتےہیں۔  محاوروں کی ترتیب تک الٹ دی ہے؛ کہتے ہیں "جھاڑی میں چھپے دو مرغے ہاتھ آئے ایک مرغے سے بہتر ہیں۔”
دوسرے چینل کی خبر اور فوٹیج بھی یوں پکڑتے ہیں جیسے پڑوسی کی مرغی پکڑی جاتی ہے۔ (بعد میں اس کا حشر بھی پڑوسی کی مرغی والا ہی کرتے ہیں)
انہیں خبر پہلے چلانے کی جتنی فکر ہوتی ہے، خبر کی اہمیت کی اتنی نہیں ہوتی۔  تبھی تو مرغے کی طرح سینہ پھلا پھلا کر کہتے پھرتے ہیں، یہ خبر ہم نے سب سے پہلے دی، یہ فوٹیج سب سے پہلے دکھائی، انتخابات کا یہ نتیجہ  ابھی آیا بھی نہیں تھا کہ ہم نے دے دیا۔
اس دوڑ میں کسی سیاسی جماعت کے اتنے امیدوار جیت جاتے ہیں، جتنے اس نے کھڑے بھی نہیں کیے ہوتے۔
ایسے صحافی لفافہ صحافت پر نہیں، قیافہ صحافت پر یقین رکھتے ہیں۔
(نوٹ: لفافہ نہ لینے میں کوئی اخلاقی دشواری نہیں، لفافہ پھینک حضرات نیوز روم والوں پر شفقت ہی نہیں فرماتے۔تاہم جب معاملہ نیوز روم کے بجائے ٹاک شو میں پہنچے تو لفافہ لے کر قیافہ لگایا جاتا ہے۔۔ اورہاں  قیافہ اندازے لگانے کو کہتےہیں۔ )
خبر چلائے بغیر ان کا گزر نہیں، اور اندازہ لگائے بغیر گزارا نہیں۔ اس لیے خبر آنے پر خوش ہوتےہیں، خبر منفی ہو تو اور زیادہ خوش ہوتےہیں۔
کوئی (غلط ) خبر جلدی سے چلا کر دوسرے ٹی وی چینلز کی اسکرین یوں دیکھتے ہیں جیسے کوئی مرغا لڑانے والا حریف کو چت کرنے کے بعد دیکھتا ہے۔ گردن اکڑتی نہیں۔۔۔پھول جاتی ہے۔ سر پر کلغی ہوتی تو وہ بھی تن جاتی۔ اکثر تو فاتح مرغے کی طرح کڑکڑاتے بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جلد باز صحافت

Advertisements

6 thoughts on “مرغے لڑانے والے صحافی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s