خود سے چار معاہدے کرو۔۔۔اور اپنی زندگی جیو

ہم اکثر پرفیکشن یا تکمیل کا ایک تصور قائم کر لیتے ہیں۔ اور پھر ساری زندگی اس تصور کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں۔ ہم پرفیکٹ (مکمل ) اس لیے نظر آنا چاہتے ہیں تاکہ لوگ ہمیں تسلیم کریں۔ خود کو دوسروں کی نظر سے دیکھتےہیں۔  اسی خودساختہ پرفیکشن کی  عینک سے ہم دوسروں کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں اور ان سے بھی پرفیکٹ ہونے کی توقع کرتے ہیں۔
خود کو دوسروں سے تسلیم کراتے کراتے ہم اپنی زندگی جینا چھوڑ دیتے ہیں۔
اب آپ کے پاس دو راستے ہیں۔ یا تودوسروں کے نظریات کے آگے ہار مان لیں اور ان کی جیسی زندگی جینا شروع کر دیں۔ یا پھر اپنا ذہن استعمال کریں، اور اپنا راستہ خود متعین کریں۔
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ نے دوسروں کی بات پر یقین رکھنا ہے، یا اپنے آپ پر؟
ذرا اس زندگی کا تصور کریں جس میں آپ کا رویہ دوسروں کے تابع نہیں، جس زندگی میں دوسرے آپ کو جج نہیں کر رہے۔ آپ کسی کی رائے کے محتاج نہیں۔ آپ کسی کو کنٹرول نہیں کر رہے اور کوئی آپ کو کنٹرول نہیں کر رہا۔
ایسی زندگی، جس میں آپ کو ہمیشہ درست ہونے کی ضرورت نہیں رہی۔ اور کسی دوسرے کو غلط ثابت کرنے کی بھی ضرورت نہیں رہی۔آپ نے خوش رہنا ہے یا پریشان۔ یہ آپ کا اپنا اختیار ہے۔
کون ایسی زندگی نہیں گزارنا چاہے گا؟
Miguel Angel Ruizنامی مصنف نے ایک کتاب لکھی ہے، جس کا نام ہے فور ایگری منٹس، یعنی چار معاہدے۔
اگر اپنی زندگی جینا ہے،تو خود سے یہ چار معاہدے کر لو۔
پہلا معاہدہ:  لفظ کے استعمال میں ہمیشہ محتاط رہو
لفظ ایک طاقت ہے، جسے آپ تخلیق کرتے ہیں۔کوئی آپ کےلیے برے الفاظ استعمال کرے تو آپ رنجیدہ ہوتے ہیں، اچھے استعمال کرے تو خوش ہو جاتے ہیں۔ جو آپ سے ناراض ہوں، وہ اپنا جذباتی زہر الفاظ کی صورت آپ تک منتقل کر دیتےہیں۔ اپنا غصہ، حسد، اور نفرت پھیلانے کےلیے بھی الفاظ کا سہارا ہی لیا جاتا ہے۔آپ کو کسی کی بات سے رنج پہنچا، تو بدلہ لینے کے لیے بھی آپ الفاظ کا استعمال ہی کریں گے۔
لہذا مصنف آپ سے کہتا ہے، لفظ کے استعمال میں احتیاط برتو۔ اور اگر کسی کے خلاف منفی الفاظ سنو تو فوراً ہی منفی رائے نہ قائم کر لو۔ کون جانتا ہے ان منفی الفاظ کے پیچھے کیا کہانی ہے۔ کسی کے بارے میں کوئی بھی رائے صرف ذاتی تجربے کی بنیاد پر قائم کرو۔ اپنے ذہن کو منفی خیالات/الفاظ کی آماجگاہ نہ بننے دو۔
دوسرا معاہدہ: دل پر مت لے یار
کوئی ہمیں مذاق کا نشانہ بنائے، یا ہمارے بارے میں منفی رائے ظاہر کرے، تو ہم فوراً غمگین ہو جاتے ہیں۔ دل پر لے جاتے ہیں۔ ذرا سی بات پر بڑا روگ لگا لیتےہیں۔ کیونکہ ہمیں ہمیشہ درست دکھنا ہوتا ہے، پرفیکٹ رہنا ہوتا ہے۔
لیکن صاحب،  فور ایگری منٹس کے مصنف کہتےہیں۔۔۔ کسی بھی بات کو دل پر نہ لیں۔ آپ غیر ضروری پریشانیوں سے نجات پا لیں گے۔اور یہ صرف منفی رائے تک محدود نہیں، مصنف کا تو کہنا ہے کوئی آپ کے بارے میں اچھی رائے ظاہر کرے، تو اسے بھی دل پر نہ لیں۔
تیسرا معاہدہ : کچھ بھی فرض نہ کرو
ہمیں کوئی مسکرا کر دیکھ لے تو دل میں سو سو خیال باندھ لیتے ہیں۔ کسی کی صرف ایک نظر سے اپنے گرد خوابوں اور خیالوں کی دنیابسا لیتے ہیں۔ اور پھر اس پر یقین بھی کرنا چاہتے ہیں، اپنے خیالوں کو حقیقت میں ڈھالنا چاہتے ہیں۔ اور آخر میں علم ہوتا ہے۔۔۔یہ تو صرف آپ کے ذہن کی اختراع تھی۔
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سنا افسانہ تھا
لہذا، فرض کرنے سے بہتر ہے، سوال پوچھو، اور حتمی جواب حاصل کر لو۔ ہمارے ہاں اکثر مسائل فرض کرنے سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔آپ فرض کی ہوئی چیز پر اتنا یقین کر لیتے ہیں کہ اسے ہی درست سمجھنے لگتے ہیں، اور حقیقت سامنے آئے تو اسے ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ اس وقت آپ نہیں سوچتے کہ جسے آپ حقیقت سمجھتے ہیں، وہ تو آپ کا خیال تھا۔ جسے آپ نے اصلیت سمجھا ، وہ تو آپ نے فرض کیا تھا۔
اس لیے، کچھ بھی فرض کرنے سے پہلے سوال کریں، اور حتمی جواب حاصل کریں۔زندگی آسان ہو جائے گی۔
چوتھا معاہدہ: ہمیشہ اپنی پوری کوشش کرو
کوئی بھی کام کریں، پوری توانائی اور محنت سے کریں۔ اور یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ آپ کی پوری کوشش بھی حالات اور واقعات کے تابع ہوتی ہے۔ صبح اٹھتے وقت آپ توانائی سے بھرپور ہوتے ہیں، اس وقت کام کا معیار کچھ اور ہوگا، تھکن کے وقت کچھ اور۔۔۔ لیکن  کوئی کام کرتے ہوئے ذہن میں رکھیں کہ  آپ اپنی پوری کوشش کریں گے۔
اس کے بعد مصنف نے جو لکھا، ہمیں اس کی سمجھ تو نہیں آئی، لیکن لکھے دیتے ہیں۔ ۔۔ وہ کہتے ہیں کوئی کام بھی کرتے ہوئے صلے کی تمنا یا توقع نہ رکھیں۔ بس کام کا مزا لیں، صلہ آخر کار مل ہی جائے گا، اور شاید آپ کی توقع سے بھی زیادہ ملے۔
یہ بات البتہ اپنے حلق سے نہیں اتری۔ صلے کے بغیر تو کام سے دلچسپی ہی ختم ہو جاتی ہے۔ اور جب یہ بھی نہ علم ہو کہ صلہ کب ملے گا، تو کام کیسے کریں؟
آخر میں مصنف لکھتا ہے کہ ان چار معاہدوں کو بھی جان کا روگ نہ بناؤ۔ عمل کرنے کی پوری کوشش کرو، لیکن چوک جاؤ تو گھبراؤ نہیں۔ اگلے دن سے پھر شروع کر دو۔ ایک ہی بات بار بار دہراؤ گے تو اس پر عبور حاصل کر لوگے۔
یہ پہلے پہلے مشکل لگے گا، لیکن آخر کار یہ عادت بن جائے گی، اور آپ دریافت کریں گے کہ ان چارمعاہدوں  کے ذریعےآپ  اپنی زندگی پرحکمرانی کر رہے ہیں۔ آپ حیران رہ جائیں گے کہ آپ کی زندگی کتنی بہتر ہو گئی ہے۔ آپ کو علم ہوگا، کہ آزادی کی زندگی گزارنے سے ہمیں کوئی اور نہیں روکتا، ہم خود ہی اپنے راستے کی رکاوٹ بن کر کھڑے رہتےہیں۔

Advertisements

8 thoughts on “خود سے چار معاہدے کرو۔۔۔اور اپنی زندگی جیو

    • جناب عمیرمحمود صاحب ۔۔۔ میں آپ کا ہرکالم جو آپ لنکڈان پر شیئرکرتے ہیں تقریباً پڑھتا ہوں اور یقیناً اس میں مچھے کوئی اچھی چیز مل جاتی ہے جو زندگی میں کام آسکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کے یہ چار معاہدوں کےبارے میں سوچا جائے تو مسائل سے کافی حد تک افاقہ ہو سکتا ہے۔ اور آپ خوش رہ سکتے ہیں۔۔۔
      کیونکہ خوش رہنے کاایک اچھا طریقہ یہ ہے کہ دوسروں کی زندگی میں دخل دینا چھوڑ دو گے تو تمہاری اپنی زندگی کافی حد تک آسان ہوجائےگی۔۔۔

      پسند کریں

  1. آج دوسری بار میں تبصرہ لکھ رہا ہوں ۔ نمعلوم ہی بھی شائع کر پاؤں گا یا نہیں ۔ آپ نے درست لکھا ہے ۔ میرا زندگی بھر کا تجربہ یہ ہے کہ میرے ہموطن ایسی باتوں پر توجہ نہیں دیتے ۔ پوچھ سکتا ہوں کہ آپ کی اسلام آباد میں رہائش کس جگہ ہے ؟

    پسند کریں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s