جوش ملیح آبادی کی بیگم

جوش ملیح آبادی نے اپنی خود نوشت "یادوں کی براءت” میں ایک باب اپنی تند خو اور غصہ ور اہلیہ کے بارے میں لکھا ہے۔  سچ پوچھیے  ہمیں تو وہی سب سے دلچسپ لگا۔ شادی شدہ حضرات کی نصیحت اور غیرشادی شدہ افراد کی عبرت کے لیے اس کا خلاصہ بیان کیے دے رہے ہیں۔
جوش ملیح آبادی کی بیوی برہم مزاج تو تھیں ہی، لیکن برہمی کے یہ پودے کئی نسلوں سے پروان چڑھ رہے تھے۔دراصل اس برہمی کا ایک خاندانی پس منظر تھا۔
لکھتے ہیں اہلیہ کی پرنانی سالمہ بیگم کے غیظ و غضب کی وجہ سے ان کے والد نے  الگ محل دے رکھا تھا۔
ان کے دو بچے بچپن میں ہی جاتے رہے، لہذا انہیں یقین تھا کہ محل کی ملازماؤں میں سے کوئی انہیں نظر کے زور سے مار ڈالتی ہے۔ (اس کےلیے ٹنھیا کی اصطلاح استعمال کی، یعنی وہ عورت جو جادو ٹونے سے اپنی آنکھوں میں ایسی مہلک طاقت پیدا کر لے، کہ بچوں کو نگاہ کے زور سے مار ڈالے۔)
چنانچہ جب ان کا تیسرا بچہ پیدا ہوا تو بڑے بڑے پردے ڈال دیے گئے، اور ملازماؤں کو زچہ خانے میں قدم رکھنے سے منع کردیا گیا۔ بدقسمتی سے ایک لونڈی نے دوسری منزل پر بچے کو دیکھ لیا۔ سالمہ بیگم نے گڑھا کھودنے کا حکم دیا اور لونڈی کو اس میں زندہ دفن کرادیا۔
ایک بار، ان کی مرضی کے برخلاف ان کے شوہر لکھنئوچلے گئے۔ انہیں اتنا غصہ آیا، کہ سل منگائی، اسے اتنے زور سے اپنے سینے پر مارا کہ روح قفص عنصری سے پرواز کر گئی۔(ان کے میاں کو واقعے کا علم ہوا تو انہوں نے بھی خودکشی کر لی)۔
اب سوچیں ، جن خاتون  نے غیظ و غضب ورثے میں پایا ہو، جن کی پرنانی لونڈی کو زندہ دفنا دیں، اور شوہر کی نافرمانی پر خودکشی کر لیں۔۔۔وہ  خاتون جوش کے ہوش کیسے اڑاتی ہوں گی۔
جوش ملیح آبادی لکھتے ہیں ان کی اہلیہ  اپنی ہر بدگمانی یا وسوسے کو حقیقت سمجھتیں۔ جب ان کے دل میں کوئی واہمہ پیدا ہوتا کہ "ایسا ہوا ہوگا” تو اس کے معنی ہوتے  وہ امر درحقیقت ویسا ہی ہو چکا ہے۔
اس لیے گھر واپسی پر جوش صاحب کی شیروانی کو تیز روشنی میں دیکھا جاتا، کہ کہیں کسی زلف کا بال تو اس میں چمٹا ہوا نہیں۔ ساتھ ہی شیروانی اور کرتے کو سونگھ کر پتا چلایا جاتا کہ کسی اور کے جسم، تیل یا عطر کو خوشبو تو کپڑوں سے نہیں آ رہی۔
بیگم صاحبہ کو آدھی رات کو وہم ہوتا کہ جوش ملیح آبادی کہیں اٹھ کر گئے تھے۔ اس واسطے ان کے تلوے ٹٹول کر دیکھے جاتے کہ وہ ٹھنڈے ہیں یا گرم۔
اور پھر جب وہ صبح اٹھ کر مشق سخن کےلیے کچھ سوچتے تو سوال ہوتا، رات کو خواب میں کسے دیکھا کہ جو اس قدر گم سم بنے بیٹھے ہو؟
جوش ملیح آبادی نے بہت امارت بھی دیکھی، اور اتنا ہی زوال بھی دیکھا۔ کہاں وہ وقت ۔۔۔ تولیا اٹھائے غسل خانے جا رہے تھے کہ والد نے ٹوکا، "شبیر یہ کیا رکاکت ہے کہ تو اپنے ہاتھ میں تولیا اٹھا کر جا رہا ہے، کیا مامائیں اصیلیں مر چکی ہیں؟” اور کہاں وہ وقت بھی آیا جب ان کے پاس کوئی ذریعہ معاش باقی نہ رہا اور ان کے فرزند کو گاڑیاں ٹھیک کرنے کی ورکشاپ بنانا پڑی۔
جوش ملیح آبادی کی خود نوشت "یادوں کی براءت” کا بہت چرچا سنا تھا، لیکن مارکیٹ میں اس کا ہاتھ سے کتابت شدہ نسخہ ہی موجود تھا، جو پڑھنے میں بھلا محسوس نہ ہوتا۔ آخر اب بک کارنر شو روم جہلم کی جانب سے چھاپا گیا نسخہ ہاتھ آیا جس پر یادوں کی بارات کے ساتھ ضمنی سرخی کے طور پر لکھا تھا "قلمی نسخہ اور اس کے گمشدہ اوراق۔۔تحقیق و تدوین ڈاکٹر ہلال نقوی۔” پہلے تو ٹھٹکے کہ کسی کی خود نوشت میں کسی دوسرے کی تحقیق و تدوین کا کیا کام؟ لیکن خرید ہی لیا۔
کتاب کے آغاز میں ہلال نقوی صاحب لکھتے ہیں ۔۔۔ایک طبقہ شدید معترض ہے کہ یادوں کی بارات میں کئی جگہوں پر خصوصاً معاشقوں کے بیان میں جوش صاحب نے اخلاقیات کی ساری حدیں پار کر لی ہیں۔۔
اب آپ سے کیا چھپانا، اس جملے نے تو ہمارے شوق کے گھوڑے کو ایڑ لگا دی۔ صفحے پر صفحے پلٹتے گئے اور کوئی غیر اخلاقی بات نہ ملی۔ اب یا تو ہماری اخلاقیات کا معیار خاصا گر گیا ہے، یا پھر ہلال نقوی صاحب نے ایسی باتیں حذف کر دی ہیں۔ہم پریشان ہیں کہ اس کتاب میں اصل خودنوشت سے کتنا انحراف کیا گیا ہے؟
چلتے چلتے جوش صاحب کے کچھ جملوں کا لطف بھی اٹھا لیجیے، اور دیکھیے کہ ان کی نثر میں بھی کیسی شاعری ہے۔اعجاز الحق قدوسی صاحب کہ بارے میں لکھتے ہیں
ماحول کے دباؤ سے لب پر اللہ اللہ، لیکن دل میں بتوں کی چاہ۔۔۔صوم و صلوٰۃ گاہ گاہ۔۔۔سر میں ہمہ وقت سودائے گناہ۔۔۔بظاہر مولانا، بباطن مستانہ۔۔۔کردہ گناہوں کے سروں پر تقوے کی دلائی، نا کردہ گناہوں کی داد کے تمنائی۔۔۔ پیش نظر حوروغلماں کے لذات، الجھی داڑھی ، سلجھے خیالات۔۔میرے زمانہ دکن کے بہت ہی پرانے، خلوت و جلوت کے رفیق۔۔اوپر سے جامد، اندر سے رقیق۔

Advertisements

2 thoughts on “جوش ملیح آبادی کی بیگم

  1. کیا یہ کتاب آپ نے واقعی خریدی اور پڑھی ہے کیونک آپ کتاب کے نام سے ہی نابلد ہیں
    کتاب کا نام ” یادوں کی براءت یعنی یادوں سے چھٹکارہ ہے
    یادوں کی بارات نہیں ۔

    پسند کریں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s