لعنت بھیج کر شیئر کریں

ایک جدید ماڈل کی قیمتی کار سڑکوں پر رواں ہے۔ سیاہ چشمے پہن کر کار چلانے والے شخص سے دولت مندی ٹپک رہی ہے۔ کار میں اسکول یونیفارم پہنے چار بچے بیٹھے ہیں، اور اونگھتی نظروں سے گردوپیش کو دیکھ رہے ہیں۔
چوک پر ٹریفک کا اشارہ سرخ ہے، لیکن کار والا بے پروائی سے اسے کاٹتے ہوئے آگے بڑھ جاتا ہے۔ اگلے سگنل پر بھی یہی کہانی دہرائی جاتی ہے کہ ٹریفک کانسٹیبل اسے روک لیتا ہے۔ اب کار والے کو غصہ آ جاتا ہے، وہ چوٹ کھائے کتے کی طرح بھونکتے ہوئے گاڑی سے نکلتا ہے
"تم نے مجھے روکنے کی جرائت کیسے کی؟”
کانسٹیبل حیران ہوتا ہے، "جناب آپ نے دو جگہ ٹریفک اشارہ توڑا ہے۔”
کار والا مغلظات بکتا ہے، کانسٹیبل کی پیٹی اتروانے کی دھمکی دیتا ہے۔ پچیس ہزار روپے کمانے والا قانون کا رکھوالا،  قانون شکن سے مرعوب ہو جاتا ہے، اور گاڑی آگے بڑھ جاتی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

ناشکرے

یار وہ جو افسر ہے نا
کون؟ وہ داڑھی والا؟
ہاں یار وہی سڑیل۔ بہت ہی برا افسر ہے
ٹھیک کہتا ہے یار۔جو کام لے کر جاؤ، اس میں سے کیڑے نکال لیتا ہے
کیڑے نہ نکالے تو اپنی افسری کیسے دکھائے
اور وہ جو افسر ہے نا۔۔۔
وہ گنجا؟
ہاں، بال جھڑ گئے، مگرافسری نہ آئی
پتہ نہیں کس نے اسے افسر لگا دیا ہے، جیسا بھی کام لے کر جاؤ، اسے منظور کر لیتا ہے
ہنہ، کام آتا ہو گا تو کیڑے نکالے گا نا

ہر پاکستانی کی ڈائری

حسب معمول دفتر کے لیے لیٹ ہو ں، موٹرسائیکل کی چابی اٹھاتا ہوں تو نظر ساتھ رکھے ہیلمٹ پر بھی پڑتی ہے۔
میں سر جھٹکتا ہوں، قانون اور ہیلمٹ دونوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے باہر نکل جاتا ہوں۔
آگے  ٹریفک کا سرخ اشارہ میرا منہ چڑارہا ہے۔ ہارن بجا بجا کر اپنے آگے کھڑے لوگوں کو دائیں بائیں سرکنے پر مجبور کرتا ہوں، اتنی دیر میں اشارہ سبز ہو جاتا ہے۔لگتا ہے میرے علاوہ ہر شخص اسی چوک پر قیام کا ارادہ لے کر گھر سے نکلا ہے، میں ہارن پر ہاتھ رکھتا ہوں اور آسمان سر پر اٹھا لیتا ہوں۔
اگلا اشارہ بھی سرخ ہے، لیکن میرے سے آگے کوئی گاڑی نہیں، لہذا آسانی سے اسے کاٹ دیتا ہوں۔ میری وجہ سے ایک گاڑی کو اچانک بریک لگانا پڑتے ہیں، ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی خاتون کا سر ڈیش بورڈ سے ٹکراتا ہے، گاڑی والا کھڑکی سے سر نکال کر کچھ کہتا ہے۔ میں کچھ نہیں سنتا،آگے بڑھ جاتا ہوں۔ پڑھنا جاری رکھیں

بادشاہ کی قبر پر زرد روشنی

مقبرہ جہانگیر کے داخلی دروازے پر بیٹھے شخص نے ٹکٹ کے پیسے تو وصول کر لیے، لیکن ٹکٹ نہ دی۔کہنے لگا، آپ ٹینشن نہ لیں، اندر چلے جائیں۔ ہمیں ٹینشن تو بہت ہوئی، یہ پیسے وہ حکومت کو پہنچانے کے بجائے اپنی جیب میں ڈالے گا۔ جہانگیر زندہ ہوتا تو ہم اسی وقت زنجیر عدل کھینچ دیتے۔
اندر پختہ روش پر نوجوانوں کی ٹولیاں کرکٹ میچ کھیل رہی ہیں۔ تاریخی عمارت میں جا بجا تاریخ لکھی ہے۔ کہیں کہیں فون نمبر بھی لکھے ہیں۔ جو کوئی آیا ہے، عمارت کی دیوار کو وزیٹرز بک سمجھ کر اپنے تاثرات رقم کر گیا ہے۔
میں نورالدین جہانگیر کی قبر پر خاموش کھڑا ہوں۔ دربان چھت کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے، یہ فانوس 1901 میں لگایا گیا۔ میں اوپر دیکھتا ہوں، 1901 کے فانوس میں فلپس کا ساٹھ واٹ کا بلب، بادشاہ کے جاہ و جلال پرمریل سی   روشنی بکھیر رہا ہے۔
واپسی پر وہی دربان میری طرف امید بھری نظروں سے دیکھتا ہے، شاید اپنی معلومات کے عوض کچھ رقم چاہتا ہے۔ جہانگیر زندہ ہوتا تو اسے موتیوں سے لاد دیتا، میں نظریں بچا کر نکل جاتا ہوں۔ پڑھنا جاری رکھیں