بسکٹ، پڑوسن، اور اوون

گھر میں اوون تو آ گیا تھا، لیکن استعمال سے واقفیت نہ تھی۔ کون سے عناصر ملیں تو کیک بنتا ہے، اور کس آنچ پر دہکایا جائے تو نئی شان اور آن والا پیزا تیار ہوگا؟ ان تمام سوالوں کے جواب کے لیے امی جان نے آس پڑوس کی سہیلیوں سے رابطہ کیا۔
اب روز کا معمول ہوگیا، پہلے ترکیب پوچھی جاتی، پھر اجزاء منگوائے جاتے، پکوانے کا مرحلہ متعلقہ سہیلی کی نگرانی میں طے پاتا۔ امی جان سب ڈائری میں درج کرتی جاتیں تاکہ سند رہیں اور آئندہ بھی بوقت پکوائی کام آئیں۔
ہم اسکول سے واپس آتے تو گھر مہک رہا ہوتا، امی کی کوئی نہ کوئی سہیلی موجود ہوتیں، اوون برآمدے کے بیچوں بیچ دھرا ہوتا۔ اس میں انواع و اقسام کے ملغوبے رکھے جاتے، اور اشتہا انگیز خوراک بن کر باہر نکلتے۔ روز شام کی چائے کے ساتھ کیک اڑایا جاتا، کچھ نمکین کھانے پر طبیعت مائل ہوتی تو یہی برقی بھٹی مرغا بھی روسٹ کر دیتی۔
اس روزبھی ایساہی منظر تھا، پڑوس والی آنٹی اور امی جان برآمدے کے بیچ رکھے اوون کے سامنے باادب بیٹھی تھیں۔ اوون پر لگے ٹائمر نے ٹن کی آواز نکالی تو خواتین کے انہماک میں فرق آیا۔ جو ٹرے باہر نکلی تو اس میں گول گول بسکٹ یوں ترتیب سے پڑے تھے جیسے کوئی پلٹن محاذ پر جا رہی ہو۔
آنٹی نے فخر سے بسکٹوں کو اور امی جان نے عقیدت سے اوون کو دیکھا۔ اس کے بعد دونوں کی نظر ہم پر پڑی۔ آنٹی ہولے سے مسکرائیں اور ہمیں بسکٹ کھانے کی دعوت دی۔
ایک چھوٹے سے اوون کی ٹرے میں بسکٹ ہوں گے ہی کتنے؟ ہم نے دونوں ہاتھ بڑھا کر اوک سی بنا لی، جیسے بسکٹ کھانے نہیں، پینے ہیں۔ اور جتنا مال سمیٹ سکتے تھے، سمیٹ لیا۔ والدہ نے سرزنش کرتی نظروں سے گھورا، لیکن اس وقت وہ اپنے غضب کا عملی اظہار کرنے سے قاصر تھیں، لہذا دانت پیس کر رہ گئیں۔
کمرے میں جا کر ہم نے بسکٹ تناول فرمائے اور دوبارہ شکار کی غرض سے باہر کو نکلے۔ اب کی بار امی جان نے غضب ناک نظروں سے گھورنے پر اکتفا نہ کیا، ہاتھ بڑھا کر زور کی چٹکی بھی کاٹ لی۔ ہمارے منہ سے سسکاری نکلی تو اوون سے جھوجھتی آنٹی بھی متوجہ ہوئیں۔ ہمارے ٹرے کی طرف بڑھے ہاتھ اور ہماری ٹانگ کی چٹکی کاٹتا امی کا ہاتھ جیسے جامد سے ہو گئے۔ آنٹی سٹپٹائیں، معاملہ سمجھ میں آیا تو کہنے لگیں، "لینے دیں نا بھابھی۔” یوں امی جان کی گرفت کمزور پڑی اور ہم اوک میں بہت سے بسکٹ بھر کر دوبارہ کمرے میں آ گئے۔
نہ جانے یہ واردات کتنی بار دہرائی گئی۔ ہم اوک بھر بسکٹ کھا کر جب باہر جاتے، نئی ٹرے اوون سے نکلنے کو تیار ہوتی۔ امی ہمیں روکنے کی کوشش کرتیں، آنٹی کہتیں "لینے دیں نا بھابھی،” اور امی بے بسی سے دیکھتی رہ جاتیں۔
اب کے ہم مال غنیمت پر ہاتھ صاف کر ہی رہے تھے کہ دروازہ کھلا، اور امی جان کمرے میں آ گئیں۔ ہماری سانسیں تھم سی گئیں، اب ہمیں بچانے والا کوئی نہ تھا، یقین ہو گیا کہ آج ان مٹھی بھر بسکٹوں کی وجہ سے ہم جان سے جائیں گے۔ لیکن نظریں اٹھائیں تو کچھ اور ہی منظر دیکھا۔ امی جان کے چہرے پر درشتی کے بجائے پشیمانی تھی۔ کہنے لگیں، یہ جو تم بسکٹوں کے "جام لنڈھا” رہے ہو، یہ آنٹی کے ہیں۔ ان کا اوون خراب تھا، اس لیے وہ اپنا سامان لے کر ہمارے ہاں بسکٹ بنانے آئی ہیں۔
یہ سننا تھا کہ ہم پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔ یاد آیا کہ امی جب بھی ہمیں بسکٹ لینے سے روکتیں، اور آنٹی کہتیں "لینے دیں نا بھابھی” تو ان کی آواز میں کس قدر بے بسی ہوتی تھی۔

Advertisements

One thought on “بسکٹ، پڑوسن، اور اوون

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s