اینکر نے ہم کو عبث بدنام کیا

دفتری کام میں مشغول تھے کہ دائیں ہاتھ خالی کرسی پر ایک خاتون آ کر بیٹھ گئیں۔ یہ کون ہیں؟ کیوں آئی ہیں؟ تجسس تو ہوا لیکن پوچھنے کا یارا نہ ہوا۔
یہی کھدبد لیے ہم کام میں مصروف رہے۔ آخر تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر ان کا حدوداربعہ اور غرض و غایت دریافت کر لیا۔ معلوم ہوا اینکر کی اسامی پر تقرری ہوئی ہے۔ یہاں آنے سے قبل سال بھر دوسرے چینل میں کام کر چکی ہیں۔ چکی کی اس مشقت کے ساتھ ساتھ مشق پڑھائی بھی جاری ہے۔ اور خیر سے اپنی جماعت میں اول بھی آتی ہیں۔
ہم مرعوب ہوئے، چینل میں خوش آمدید کہا، نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا اور اپنے کام میں مگن ہو گئے۔
اگلے روز دفتر پہنچے تو معلوم ہوا کہ خاتون پرانے چینل میں واپس چلی گئی ہیں۔ وہاں انہیں بہتر تنخواہ اور مراعات کی پیش کش تھی۔ لیکن سنانے والوں نے ایک اور بات بھی سنائی، خاتون جاتے جاتے ہمارے چینل کے لوگوں کو پینڈو قرار دے گئی ہیں۔
خدا جانے بات ان کے منہ سے نکلی بھی یا نہیں، کوٹھے ضرور چڑھ گئی۔ اب ڈھول پیٹا جا رہا ہے، ایک دوسرے کو بتاتا ہے، دوسرا حیرانی سے انگلیاں دانتوں میں دابتا ہے، آنکھیں پٹ پٹاتا ہے اور یہ بات تیسرے کو سنانے چل دیتا ہے۔
ہوتے ہوتے یاروں نے اڑا دی کہ چونکہ ہم ان کے قریب بیٹھنے کے سزاوار تھے، لہذا پینڈو بھی ہمیں ہی قرار دیا گیا ہے۔ گویا خاتون کو چینل سے متنفر کرنے کا سبب ہم ہی بنے ہیں۔
آس پڑوس کے جو "حضرات” ان سے گفت و شنید نہ کر پائے تھے، اپنی محرومی کی جلن میں دشنام طرازیوں سے کام لینے لگے۔ ہماری معصومانہ بات چیت کو التفات کے معنی پہنانے کی کوشش بھی کی گئی۔ اب کیا بتائیں کہ ہم تو پہلے ہی عقد گزیدہ ہیں، اس لیے صنف نازک سے سہمے رہتے ہیں۔
پڑھیں: خواتین، انگریزی، اور خاکسار
ہمیں ذمہ دار قرار دینے والوں نے اس پر غور نہ کیا کہ خاتون نے دفتر میں بیٹھتے ہی دیکھا ہو گا، لکڑی کے جن تختوں پر کمپیوٹر دھرے ہیں، ان تختوں پر اہل دفتر نے میز ہونے کی تہمت دھری ہے۔ میز کے اوپر اور اردگرد تمام اسباب پر گرد کی تہہ ہے۔
پڑھیں: یہ ہے ایک ٹی وی چینل کا دفتر
انہوں نے دیکھا ہو گا کہ خبریں چل رہی ہیں لیکن انہیں چلانے والے خود کھڑے ہیں۔ کیونکہ کرسیاں دوسرے کمرے میں ہیں جہاں آنے والے خبرنامے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ نیوز روم میں جو کرسیاں بچی ہیں وہ آہنی زنجیروں کے ساتھ بندھی ہیں، اور صاحب زنجیر کے علاوہ کسی اور کے کام آنے کے قابل نہیں۔
پڑھیں: ہمارے دفتر کی کرسیاں
شاید اس ماحول نے نئی خاتون اینکر پر اچھا تاثر نہ ڈالا ہو۔
جہاں تک ہمارا تعلق ہے، ہم نے ایسے بھی پینڈو پن کا مظاہرہ نہ کیا تھا۔ ہاں اس دن کھانے کے لیے جانا نہ ہوا تو پاپے منگوا لیے۔ اب سوکھے رس تو منہ میں کرلاتے ہیں، انہیں سدھانے کےلیے چائے میں ڈوبنا پڑا۔ اس سارے عمل میں انگلیاں چائے اور پاپے کے ملغوبے میں لتھڑ سی گئی تھیں تو انہیں بھی چاٹ کر ہی صاف کر لیا تھا۔
پھر یونہی ناک میں کھجلی سی محسوس ہوئی تو انگلی بڑھا کر سدباب کیا۔ اب جو برقی پیغام دیکھنے کےلیے موبائل پر نظر کی تو اسکرین کو صفائی طلب پایا۔ لعاب دہن کا چھڑکاؤ کیا، اسکرین کو شرٹ پر رگڑا تو دمکنے لگی تھی۔
دیکھیں اس قدر صفائی پسند طبعیت پائی ہے، پھر بھی پینڈو ہونے کا واویلا کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ کچھ وقت دفتر کے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ گزار لیتیں تو جانے کیا حالت ہوتی۔
مثلاً وہ صبح دفتر آنے والی خواتین کو دیکھتیں جو آنڈے پراٹھے کا ناشتہ کرتے ہوئے سیلفیاں لیتی ہیں اور فیس بک پر اپ لوڈ کر دیتی ہیں۔ یا ان صاحب سے پالا پڑتا جو اپنی تلاش کی ہوئی خبر سب کو بتاتے پھرتے ہیں۔ اس بنیاد پر سرخیاں بن جاتی ہیں، بلیٹن کا وقت آ جاتا ہے، تو خبر کی ڈھنڈیا پڑتی ہے۔ پوچھنے پر معصومانہ سا سوال ہوتا ہے، "اچھا، خبر وی بنانی سی؟” اگر واسطہ ان صاحب سے پڑ جاتا جو خبر بھی یوں دیتے ہیں جیسے دھمکی دے رہے ہوں، سہم ہی جاتیں۔ اور قیامت ہی تو آ جاتی جب کوئی خبر حسب منشاء نہ چلنے پر چیخ و پکار سنتیں (پکار ہماری، چیخیں کسی اور کی)۔
غرض اچھا ہی ہوا جو انہوں نے دیگ کا ایک دانہ چکھنے کے بعد پوری ہانڈی کا اندازہ لگا لیا۔ یقیناً چینل والوں کو پینڈو کہنے کی بات افواہ ہی ہو گی، اور ہمیں تو انہوں نے پینڈو بالکل بھی نہیں کہا ہو گا، لیکن یہاں کام جاری رکھتیں تو ضرور کہہ دیتیں۔
پڑھیں: ایک پینڈو اور پانچ ستاروں والا ہوٹل

Advertisements

3 thoughts on “اینکر نے ہم کو عبث بدنام کیا

  1. ہاہاہاہاہاہاہااہاہاہاہاہاہا ۔۔۔ بہت ہی خوب ۔۔ بس آپ نے جو درمیان میں جگہ جگہ "پڑھئیے” ایڈ کیا ہے وہ تھوڑا سا عجیب لگا ہے، اس کے بجائے اگر آپ ہائپرلنکنگ کرتے تو زیادہ بہتر للگتا ۔۔ جیسے جہاں ٹیکسٹ میں "دفتر” کا لفظ آیا ہے اس کے پیچھے دفتر کی کرسیاں کا لنک ڈال دیتے تو تحریر میں روانی بھی رہتی اور مجوزہ بلاگ کی طرف نشاندہی بھی ہوجاتی ۔۔
    ویسے آپ کے دفتر کے لوگ آپ کی تحریریں پڑھ کر قہقہے لگاتے ہیں یا گوشمالی کرتےہیں 😉

    Liked by 1 person

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s