JeSuisMumtazQadri

میں ممتاز قادری ہوں
میں جس کی حفاظت کے لیے تنخواہ لیتا ہوں
اسے ہی مار دیتا ہوں
میں اس نبی کو مانتا ہو جو دونوں جہانوں کے لیے رحمت ہے
وہ نبی جس نے کبھی کسی کو تکلیف نہیں دی
وہ نبی جو معاف کر دیتا ہے
لیکن میں کسی کو معاف نہیں کرتا۔۔۔ کر ہی نہیں سکتا
دوسرے نے کیا کہا، اس کی تشریح کرنے والا بھی میں ہوں
اپنی تشریح کو درست اور دوسرے کی تشریح غلط سمجھنے والا بھی میں ہوں
فیصلہ کرنے والا بھی میں ہوں فیصلہ سنانے والا بھی میں ہوں
کون جنتی ہے اور کون دوزخی
کون اصل مسلمان ہے اور کون اصل میں کافر ہے
یہ فیصلہ کرنے والا بھی میں ہوں پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

میڈیا مالکان کے نام کھلا خط

آپ ایک ٹی وی چینل کھولنے والے ہیں یا کھولے بیٹھے ہیں۔ آپ نے اس کی کامیابی کے لیے چند افراد کو بھرتی کر رکھا ہے۔ اور آپ توقع رکھتے ہیں کہ یہ افراد آپ کے چینل کو مقبولیت میں پہلے نمبر پر لے کر آئیں۔ یہ ترتیب بظاہر درست ہے۔ لیکن اس سے بھی پہلے کچھ ایسی چیزیں ہیں جن کا فیصلہ آپ کے ملازمین نے نہیں، بلکہ آپ نے خود کرنا ہے۔
آپ کا چینل کتنا بکتا ہے (ب کے نیچے زیر کے ساتھ پڑھیں)، اس کا دارومدار متعدد عوامل پر ہے۔ یعنی اگر آپ صحافی سے کہیں بھیا ناظرین بھی کھینچ لاؤ، تو وہ صحافی کی بنیادی ذمہ داری نہیں۔ اس کی بنیادی ذمہ داری ایسی خبریں دینا ہے جو درست ہوں اور بہتر انداز میں ناظر تک پہنچا دی جائیں۔ اسی طرح ڈرامے کے ہدایت کار کی ذمہ داری ایک بہترین ڈرامہ بنانا ہے، اس ڈرامے کے لیے اشتہار کیسے لائیں جائیں، اسے کس دن اور کس وقت نشر کیا جائے، یہ فیصلہ ایک اور شعبے کی ہو گی۔
لہذا آپ ٹی وی چینل کھول چکے ہیں یا کھولنے والے ہیں تو چند بنیادی باتوں کا تعین آپ نے خود ہی کرنا ہو گا۔ یا ان باتوں کے تعین کے لیے علیحدہ سے کسی ملازم کو ذمہ داری دینا ہو گی۔ آپ کو خود سے چند بنیادی سوال پوچھنا ہوں گے۔ پڑھنا جاری رکھیں

فرخندہ حق نواز کی تلاش

کتابوں میں کہانیاں ہوتی ہیں، لیکن کچھ کتابوں کی بھی اپنی کہانیاں ہوتی ہیں۔ ہمیں فٹ پاتھ پر بکھری کتابیں پھرولنے کا ہوکا ہے، آج ایک کتاب سے وابستہ کہانی کہوں گا۔
یونیورسٹی کے دنوں میں ہمارے ایک دوست اسٹیج ڈرامے میں اداکاری کر رہے تھے، ڈرامے کا عنوان تھا "اردو ڈرامے کا جلسہ”۔ اس میں تاریخی اردو ڈراموں کے کچھ حصے اسٹیج کیے گئے، مثلاً راجہ اندر، خورشید، خوبصورت بلا اور تعلیم بالغاں وغیرہ۔
ہم ریہرسل کے دوران بھی دوست کے ہمراہ جاتے رہے اور ڈرامہ جب اسٹیج پر پیش کیا گیا تو بھی گئے۔ مکالموں کا لطف اٹھایا، شاید اسٹیج ڈرامے کے ابتدائی دنوں میں منظوم مکالمے لکھے جاتے تھے۔
یہ غالباً سنہ 2005 کی بات ہے۔ ایک دن فٹ پاتھ پر بوسیدہ سی کتاب نظر آئی، سرورق پر لکھا تھا، "خوبصورت بلا”۔ ارے اس نام سے تو ایک ڈرامے کا کچھ حصہ ہم دیکھ چکے ہیں۔ کتاب خرید لی۔ پڑھنا جاری رکھیں

میرے خوابوں کا پھاٹک

ایک دبی دبی سی خواہش بچپن سے پال رکھی ہے۔ کسی دور دراز علاقے میں ایک ریلوے پھاٹک ہو، اور ہمیں اس کے نگہبان کی نوکری مل جائے۔ بس اتنی سی ڈیوٹی ہو کہ ٹرین آنے کے وقت پھاٹک بند کر دیں اور جانے کے بعد کھول دیں۔
شاید ہم ذمہ داریوں سے بھاگتے ہیں اس لیے ایسی خواہش دل میں سمائی۔ شاید یہ خیال کوئی کہانی پڑھتے ہوئے آیا، کچھ بھی ہو، لیکن اس نے جڑ پکڑ لی اور ہمارے ساتھ ساتھ ہی جوان ہونے لگا۔
آہستہ آہستہ اس خیال میں ہم نے اپنی خواہشوں کے رنگ بھرنا شروع کر دیے۔ ریلوے پھاٹک ایسی جگہ ہو جہاں ٹرینوں کی زیادہ آمدورفت نہ ہو۔ بند کرنے اور کھولنے کے لیے زیادہ بار اٹھنا نہ پڑے۔ اور سر چھپانے کے لیے پھاٹک نگہبان کو سرکار چھوٹی سی کوٹھری تو دے گی ہی۔ بس اسی میں پڑے رہیں گے اور کتابیں پڑھیں گے۔
جی ہاں! خوابوں کا سارا تانا بانا اسی ایک چاہ کے گرد بنا کہ کتابیں پڑھنے کے لیے ڈھیر سارا وقت میسر ہو۔ نوکری کے جھمیلے اس کی راہ میں حائل نہ ہوں۔ پڑھنا جاری رکھیں

تم میرے مقروض ہو راشد

یہ اسی شام کا ذکر ہے جب ہم اپنی تنخواہ بڑھنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ آخری بار تںخواہ بڑھے کئی سال گزر چکے تھے، اور اس بار افواہ سی تھی کہ روایت توڑ دی جائے گی، اب کی بار پگار ضرور بڑھائی جائے گی۔
اوروں کا تو نہیں معلوم، ہم تو ہمہ وقت اس گھڑی کے بارے میں سوچتے جب مہینے کے آخر میں اضافہ شدہ تنخواہ ملے گی۔ جانے وہ اضافہ کتنا ہو گا؟ کئی سال ایک ہی تنخواہ پر کام کرنے کی کسر نکلے گی یا اونٹ کے منہ میں زیرہ ہو گا؟ کہیں جو ہماری کارکردگی کو بنیاد بنایا گیا تو الٹا تنخواہ کم نہ کر لی جائے؟ غرض، دن اسی اُدھیڑ بن میں گزرتا اور رات اسی شش و پنج میں کٹتی۔
جاگتی آنکھوں سے کبھی خواب دیکھتے کہ تنخواہ بے تحاشا بڑھ گئی ہے اور بینک اکاؤنٹ میں پھولے نہیں سما رہی۔ پڑھنا جاری رکھیں

پرنٹر کی کہانی اس کی زبانی

میں ایک حقیر پر تقصیر پرنٹر ہوں۔۔۔ نہ ذات نہ صفات، نہ ہی کوئی اوقات۔ کمپیوٹر سے منسلک رہتا ہوں، اور اسی کے احکامات کا تابع ہوں۔ میرے دامن میں چند اجلے صفحے ہوتے ہیں، جن پر سیاہی پھیر کر دنیا کے حوالے کر دیتا ہوں۔
جہاں مجھے نصب کیا گیا ہے، وہیں پر بہت سے بندے اور ٹی وی بھی نصب ہیں۔ ٹی وی تو ایک ہی جگہ کھڑے کھڑے گلا پھاڑتے ہیں، بندے ساتھ ساتھ دوڑتے بھاگتے بھی ہیں۔ کیسی جگہ ہے، سبھی خبر نامی کسی محترمہ کے دیوانے ہیں۔ لینا، پکڑنا، جانے نہ پائے، ارے اس نے پکڑ لی ہم نے کیوں نہ پکڑی۔۔۔ ہمہ وقت اسی قسم کی آوازیں گونجتی ہیں۔ خبر صاحبہ آگے آگے ہوتی ہیں اور یہ ان کے پیچھے۔ سبھی کہتے ہیں یہ ٹیلی وژن اسٹیشن ہے، مجھے تو اسپتال برائے  ذہنی و جذباتی امراض معلوم ہوتا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

شرمین سے شکایت کیوں؟

"دیکھ لیں، پاکستان کا نام کیا خوب روشن ہوا!”
شرمین عبید چنائے کو آسکر انعام ملنے کی خبر چلا کر فارغ ہوئے ہی تھے کہ ایک ساتھی نے طنز بھرا تبصرہ پھینکا۔
دستاویزی فلم ایسی لڑکی کی کہانی ہے، پسند کی شادی کرنے پر جس کا باپ اسے گولی مار کے دریا برد کر دیتا ہے۔ لیکن وہ لڑکی بچ جاتی ہے اور اپنے باپ کو معاف بھی کر دیتی ہے۔
شرمین کو دوسری بار فلمی دنیا کا سب سے بڑا انعام ملا تو سازشی نظریات کا طوفان آگیا۔ "کیا پاکستان میں کوئی مثبت کام نہیں ہوتا جو فلمایا جائے؟” ایک صاحب کا تبصرہ تھا۔ دوسرے بولے مثبت کام پر فلم بنی تو اسے آسکر نہیں ملے گا۔ تیسرے نے کہا ایسی فلمیں بنتی نہیں، بنوائی جاتی ہیں تاکہ پاکستان کو بدنام کیا جا سکے۔ گویا سبھی متفق تھے کہ فلم ہرگز انعام کی حقدار نہ تھی، آسکر انتظامیہ نے پاکستان کے خلاف ایک سازش کے تحت فلم کو نوازا۔
ہم نے اعتراض کرنے والے ایک صاحب سے پوچھا کیا انہوں نے فلم دیکھی ہے؟ جواب نفی میں تھا۔ پوچھا کیا آپ کے علم میں کوئی ایسی پاکستانی فلم ہے جس میں پاکستان کا مثبت چہرہ دکھایا گیا ہو اور اسے مسترد کر کے شرمین عبید کی فلم منتخب کی گئی ہو؟ ان کا جواب پھر نفی میں تھا۔ تیسرا سوال تھا، کیا ان کے پاس کوئی تقابلی جائزہ ہے، جب (مثال کے طور پر) ایک فلم پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی خوب صورتی پر بنائی گئی اور دوسری سوئٹزرلینڈ کی خوبصورتی پر، اور تعصب برتتے ہوئے سوئٹزرلینڈ کی فلم کو منتخب کیا گیا۔ جواب اس بار بھی انکار تھا۔
پڑھنا جاری رکھیں