اس تصویر کی کہانی

اس دن راشد صاحب نے گاڑی خریدنی تھی، لہذا پانچ لاکھ روپے گھر سے لے کر آئے تھے۔
یہ وہی راشد صاحب ہیں جو اس وقت تک ہمارے کروڑوں روپے کے مقروض ہو چکے ہیں۔ وجہ جاننے کے لیے پڑھیں، تم میرے مقروض ہو راشد
خیر ہمیں راشد صاحب کے ارادے اور نقدی کی بھنک پڑی تو اتنی زیادہ رقم کو چھونے کے لیے مچل پڑے۔ تصویر کھینچوانے کے بہانے رقم مانگی۔ پرائے پیسے ہاتھ میں آئے تو واپس کرنے کو دل نہ کرے۔ طبعیت یہ رقم غائب کرنے پر مائل ہونے لگی۔ راشد صاحب کا دھیان بٹانے کو بارہا کہا، "وہ دیکھو چڑیا۔” لیکن شاید ان کی اس جملے سے کوئی اچھی یاد وابستہ نہ تھی، چڑیا دیکھنے کے بجائے ہمیں ہی زیادہ غور سے دیکھنے لگے۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

مجھے تلہ گنگ سے بچاؤ

وقار ملک بھائی۔ آپ تو بڑے لیکھک ہو۔
کچھ تو اس گتھی کو سلجھاؤ۔
مجھے تلہ گنگ سے بچاؤ۔
یہ مجھ پر جادو کرتا ہے۔ چھیڑتا ہے مجھ کو۔
جب میں تلہ گنگ جاتا ہوں تو یہ گاڑی کو پر لگا دیتا ہے، مگر واپسی پر گاڑی ریس ہی نہیں پکڑتی۔ ہر موڑ پر آہستہ ہو جاتی ہے۔ میں بیک ویو مرر پر دیکھتا ہوں تو مجھے واپس بلاتا ہے۔ میرے حلق میں گولا سا پھنسا دیتا ہے۔ باہر سب سوکھا ہوتا ہے، لیکن گاڑی کی ونڈ شیلڈ دھندلا جاتی ہے۔ سڑک کنارے کھڑا ہر درخت اپنی بانہیں پھیلا دیتا ہے۔ اب آپ ہی کہو وقار بھائی، میں کس کس درخت سے لپٹوں۔
اور تو اور، یہ لاہور میں بھی میرے پیچھے پیچھے چلا آتا ہے۔ جب نہر کنارے لگے کسی درخت کو سڑک کی چوڑائی پر قربان ہوتے دیکھتا ہوں تو مجھے تلہ گنگ کی دھریک یاد آ جاتی ہے۔ بتاؤ نا وقار بھائی ایسا کیوں ہوتا ہے۔
وقار بھائی۔ آپ تو خود تلہ گنگ کے ہو۔ مجھے بتاؤ نا۔ یہ تلہ گنگ جادو گر تو نہیں ہے؟ میں جب لاہور میں نل کھول کر دانت صاف کرتا ہوں تو یہ اپنی بارانی زمین اور زیر زمین پانی کی معدوم ہوتی سطح کے ساتھ میرے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ مجھے نل کھول کر دانت نہیں صاف کرنے دیتا۔ جب لاہور میں کوئی اپنی گاڑی پانی کا پائپ لگا کر دھوتا ہے تو یہ تلہ گنگ مجھے شاکی نظروں سے دیکھنے لگتا ہے۔ کہتا ہے بتاؤ ان لوگوں کو کہ پانی ضائع نہ کریں۔ یہاں لاہور میں بھی زیر زمین پانی کی سطح کوئی اتنی تسلی بخش نہیں۔ یہاں تمہاری گاڑی تو دھل جائے گی لیکن تلہ گنگ میں گلے سوکھ جائیں گے۔ پڑھنا جاری رکھیں

صرف پانچ قدم میں کامیابی

آپ زندگی میں کچھ بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ آپ سے صرف پانچ قدم کی دوری پر ہے۔ جی ہاں، صرف پانچ قدم کی دوری پر۔
رابن شرما اپنی کتاب دا مونک ہو سولڈ ہز فراری میں کہتے ہیں ۔۔ آپ نے کوئی بھی مقصد حاصل کرنا ہو، پانچ قدم اٹھائیں اور کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔
پہلا قدم
آپ جو بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں، اپنے دماغ میں اس کی ایک واضح تصویر بنائیں۔ مثلاً آپ نے وزن کم کرنا ہے۔۔ تو ہر روز اپنے آپ کو ایک پتلے دبلے شخص کے طور پر تصور کریں۔ آپ کا تصور جتنا واضح ہوگا، عمل بھی اتنا ہی واضح ہو گا۔

دوسرا قدم
آپ نے اپنے مقصد کی واضح تصویر بنا لی، اب اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ اپنے ارادے سے پیچھے نہ ہٹیں۔ پڑھنا جاری رکھیں

آپ کہاں کے صحافی ہو

دفتر سے واپسی پر ایک بیکری نما جنرل اسٹور سے گھر کے لیے چیزیں خریدتا ہوں۔ بیکری مالک خوش مزاج شخص ہیں۔ کبھی فراغت ہو تو گپ لگا لیتے ہیں۔
آج اطلاع نما سوال کیا، پھر جا رہا ہے وزیراعظم؟
میں نے کہا فی الحال تو ایسے کوئی آثار نہیں۔
کہنے لگے، "میں آپ کو اندر کی خبر دیتا ہوں۔ نوازشریف اگلے مہینے استعفیٰ دے دے گا۔اور  برطانیہ کا وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون ایک ہفتے کے اندر اندر مستعفی ہو جائے گا۔ ”
یعنی ان صاحب کو پاکستانی وزیراعظم کےساتھ ساتھ برطانوی وزیراعظم کے ارادوں کا بھی علم ہے! میں مرعوب سا ہوا۔
پوچھنے لگے، "آپ کو پتہ ہے پانامہ لیکس کی گیم ڈالی کس نے ہے؟”
کم علمی کا اعتراف کیے بغیر چارہ نہ تھا۔
فاتحانہ نظروں سے مجھے دیکھ کر کہنے لگے، "شہباز شریف نے۔” پڑھنا جاری رکھیں

لینڈ لائن ٹیلی فون کی کہانی

ہم ایک لینڈ لائن ٹیلی فون ہیں۔ کیا؟ نہیں پہچانا؟ ارے وہی جو ٹی وی لاؤنج میں کونے میں پڑے رہتے ہے۔ لاحول ولا، آپ کے بزرگوار کی بات نہیں ہو رہی، ارے وہی جو آپ کے ڈی ایس ایل کنکشن کے ساتھ جہیز میں آئے تھے۔
چلیں شکر ہے آپ نے پہچانا تو۔ ہم عرض کر رہے تھے۔۔۔ بھئی آپ پھر اپنے موبائل فون سے کھیلنے لگے! دیکھیے جناب زمانے نے ہمارے ساتھ کیا چال چلی ہے۔ کہاں تو ہمارا کنکشن لگوانے کے لیے وزیروں کی سفارش کروانا پڑتی تھی، کہاں نیم دلی سے کی گئی فون کال پر جھٹ سے لگا دیے جاتے ہیں۔ ایسی بے قدری۔
پہلے ہم سجا سنوار کر گھر میں مرکزی جگہ دھرے جاتے تھے، جو آتا جاتا ایک پیار بھری نظر ضرور ڈالتا۔ اجی اس زمانے میں ہم پر ذمہ داری بھی تو بہت بھاری تھی۔ ساری دنیا کے رابطے کا ایک ہم ہی ذریعہ تھے۔ پھر معاشرتی اخلاق کے بھی امین۔ جہاں کسی پروانے نے شمع کو فون ملایا، ہم نے شمع کے ابے مشتاق کو جگایا۔ طالب اور مطلوب کے درمیان کباب کی ہڈی ہم ہی ہوتے تھے۔ گفتگو رومانوی ہونے لگتی تو حیا کے مارے ریسیور میں کھڑکھڑاہٹ پیدا ہو جاتی۔ بات اور جذبات دونوں ہی سرد پڑ جاتے۔ پڑھنا جاری رکھیں