نیازی صاحب کا شربت

خدا جانے شرارت تھی یا لالچ۔ دفتر میں کچھ عناصر نے نیازی صاحب کے شربت پر میلی آنکھ رکھ لی۔ گلاس بھر پیا، اور مقدار کی کمی سادہ پانی سے پوری کر دی۔
ماہ رمضان کا شاید آخری عشرہ چل رہا تھا۔ نیازی صاحب نے افطاری سے قبل حسب معمول آفس کینٹین کی فریج سے شربت کی بوتل نکالی۔ لیکن شربت خلاف معمول پھیکا سا نکلا۔ شاید بیگم سے حساب کتاب میں کچھ بھول ہوئی ہو۔۔۔ نیازی صاحب نے صبر کے ‘پھیکے’ گھونٹ بھرتے ہوئے شربت حلق سے اتار دیا۔
اگلے روز شربت پسند عناصر نے زیادہ مقدار پر صفایا کیا، ظاہر ہے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے پانی بھی اسی مقدار میں بڑھانا پڑا۔ اب نیازی صاحب کو پھیکے شربت کے پیچھے کسی منظم واردات کا ذائقہ محسوس ہوا۔
ڈھنڈورا پیٹا گیا، مجرموں کی سرکوبی کے لیے منصوبے بنائے گئے لیکن شربت پسند عناصر پھر اپنا کام دکھا گئے۔ دفتر کو تو بات چیت کا ایک موضوع ہاتھ آ گیا۔ نیازی صاحب دفتر آتے تو شربت کی گم شدگی پر ان سے تعزیت کی جاتی، شربت کی حفاظت کے لیے تدبیریں باندھی جاتیں، اور شام افطاری کے وقت جب بوتل فریج سے نکالی جاتی تو چور تمام مٹھاس چرا لے جا چکے ہوتے۔
اب کی بار کچھ پکا انتظام تھا۔ نیازی صاحب بوتل کے ڈھکن کو اسکاچ ٹیپ سے سیل کر چکے تھے۔ میٹھے کا توڑ کرنے کے لیے شربت میں کچھ کچھ کھٹاس بھی ڈالی تھی، اس میں تیرتا تخم ملنگا الگ بہار دکھا رہا تھا۔ نیازی صاحب نے دیکھنے والوں کی تفریح کے لیے شربت کی خصوصیات ایک بار پھر بیان کیں، تخم ملنگا کی شوخیاں دکھانے کے لیے بوتل کو قلابازی بھی لگوائی۔۔۔ لیکن سیل کھولنے کے بعد شربت چکھا گیا تو وہ غریب کی زندگی کی طرح پھیکا تھا۔ بلکہ شربت تو سرے سے تھا ہی نہیں، بوتل میں فقط پانی اور اور تخم ملنگا تھا۔
دیدہ دلیری نہ جانے کسے کہتے ہیں، شربت پسند عناصر کے دیدوں کا پانی تو ڈھل چکا تھا اور دلیری بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ ادھر نیازی صاحب کے ہم درد ان سے یک جہتی کا اظہار جاری رکھے ہوئے تھے۔ فیس بک کا استعمال بھی کیا جا رہا تھا۔ افطاری سے پہلے شربت کی حفاظت کے لیے اقدامات اور پیغامات شیئر کیے جاتے، اور شربت چوری کے بعد نیازی صاحب کے تاثرات ریکارڈ کر کے پوسٹ کیے جاتے۔ ایک ویڈیو پیغام میں جوش خطابت دکھاتے ہوئے نیازی صاحب یہ کہتے بھی پائے گئے۔۔۔ آج تو جس نے شربت پینا ہے، اسے میری لاش سے گزرنا ہوگا۔
بہر حال۔ ماہ رمضان کے بعد اس کہانی کا ڈراپ سین ہوا۔ نیازی صاحب کی خدمت میں روح افزاء کی نئی (اور مٹھاس سے بھری ہوئی) بوتل پیش کی گئی۔ تصاویر کھینچ کر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں۔
دروغ بہ گردن راوی۔۔۔ کہنے والے کہتے ہیں، اسی شام روح افزاء کی وہ نئی بوتل بھی چوری کر لی گئی تھی۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s