نظر اور صبر

کیا بتائیں، عینک جب سے ناک اور اعصاب پر سوار ہوئی ہے، اپنی تو قسمت ہی پھوٹ گئی ہے۔ دیکھنے والے ہمیں پڑھا لکھا ، عقل مند اور دانش ور سمجھ لیتے ہیں۔ معاملہ یہاں تک رہے تو ٹھیک،  وہ تو ہماری فہم اور دانش کا امتحان بھی لینے لگتے ہیں۔ ہمیں  بحر اور عرض  کا فرق نہیں معلوم، یہ بین الاقوامی سیاست کے امور پوچھنے لگیں گے۔ ہم اپنے محلے کے کونسلر کو نہیں جانتے، یہ برطانیہ میں پاکستانی میئر منتخب ہونے پر رائے چاہیں گے۔
غرض، عجیب مشکل ہے۔ ہم عینک کو چھوڑنا چاہتے ہیں، یہ ہمیں نہیں چھوڑتی۔ عینک ان معاملات کو بھی دھندلا دیتی ہے جہاں آنکھوں کے تیر چلتے ہیں اور جگر کے آر پار ہوتے ہیں۔ ہمارے دل میں برپا ہیجان پر سردمہری کا خول چڑھا دیتی ہے، ہم بھی عینک کا حیا کرتے ہوئے جھینپ جھینپ جاتے ہیں۔
ہمیں عینک لگی کیسے؟ اس کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے۔ بچپن سے ہی وہ دیدہ ور بننا چاہتے تھے جس کی فقط پیدائش کے لیے نرگس کو ہزاروں سال رونا پڑتا ہے۔ لیکن اس مقصد کے لیے مطلوبہ خوبیاں اپنی ذات میں عنقا تھیں۔ لہذا ہم نے اپنی  باطنی نالائقی کو عینک کی ظاہری بردباری سے چھپانے کا فیصلہ کیا۔
لیکن نظر خراب نہ ہو تو عینک کیوں کر لگائی جائے؟ حل یہی نظر آیا کہ کسی طرح والدین کو اپنی نظر کی خرابی کا یقین دلایا جائے، وہ ہمیں عینک بنوا دیں گے اور ہم اپنی عقلی خامیوں کو عینک کے پردے سے ڈھانپ دیں گے۔ چشمہ لگانے والے دوستوں سے نظر کی خرابی کی علامات پوچھیں۔ انہوں نے بتایا دھندلا نظر آتا ہے، پلکیں بار بار چھپکانا پڑتی ہیں، ٹی وی دیکھنے کے لیے بھی قریب بیٹھنا پڑتا ہے، سر میں درد رہتا ہے۔
گھر والوں کے سامنے ہم نے خود پر یہ تمام علامات طاری کیں لیکن انہوں نے توجہ ہی نہ دی۔ ہر وقت پلکیں ٹپٹپاتے۔۔۔ ٹی وی دیکھتے ہوئے فاصلے مٹا دیتے، سر بھی سہلاتے رہتے۔۔۔ جب وہ اشاروں کی زبان نہ سمجھے تو خود ہی کہہ دیا کہ ہماری نظر کمزور ہو گئی ہے۔ والد صاحب نے پریشانی سے پوچھا، کتنی کمزور ہو گئی ہے؟ ہم اس وقت برآمدے میں تھے۔ والد صاحب کا موٹرسائیکل چند قدم کے فاصلے پر تھا۔  اشارہ کر کے کہا ہم سے تو اس موٹرسائیکل کا نمبر تک نہیں پڑھا جا رہا۔ یہ سن کر انہیں  بہت تشویش ہوئی۔ ایک دو اور قریبی چیزوں کی جانب اشارہ کر کے پوچھا۔ ہم نے کہا ہمیں تو کچھ نظر نہیں آ رہا۔
ہنگامی بنیادوں پر ہمیں آنکھوں کے ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا۔ جن حضرات کو پہلے اتفاق نہیں ہوا ان کی سہولت کے لیے بتاتے چلیں کہ آنکھوں کے ڈاکٹر صاحبان نے عینک کا ایک سانچہ سا رکھا ہوتا ہے۔ وہ آپ کی ناک پر رکھتے ہیں،  سانچے میں مختلف نمبر کے شیشے لگا کر سامنے لکھے الفاظ پڑھنے کا کہتے ہیں۔ کچھ لفظ موٹے اور بڑے ہوتے ہیں، کچھ باریک اور چھوٹے۔ جس نمبر کے عدسے سے آپ تمام الفاظ باآسانی پڑھنے لگیں ، وہی آپ کی عینک کا نمبر ٹھہرے گا۔
یہ ترتیب بھی ذہن میں رہے کہ نظر بہتر ہو تو عینک کا نمبر کم لگے گا، زیادہ خراب ہو تو عینک کا نمبر اسی مناسبت سے بڑھتا جائے گا۔
ہماری علامات جان کر ڈاکٹر صاحب نے بھاری نمبر کے شیشے لگائے اور سامنے لکھے الفاظ پڑھنے کا کہا۔ ہمیں تو کچھ نظر نہ آیا۔۔۔بھاری نمبروں سے دھندلاہٹ کم نہ ہوئی تو ڈاکٹر صاحب آہستہ آہستہ نمبر کم کرتے گئے۔ یہاں تک کہ جب نمبر  صفر کے قریب رہ گیا تو ہمیں صاف صاف نظر آنے لگا۔ شاید ہماری نظر بالکل ٹھیک ہی تھی لیکن ڈاکٹر صاحب نے اتمام حجت کے لیے منفی صفر اعشاریہ دو پانچ نمبر کی عینک تجویز کر دی۔ بازار سے سنہرے رنگ کا فریم خریدا گیا اور ہم نے ناک پر عینک ٹکا لی۔
ابتدا میں تو اپنا آپ معتبر سا معلوم ہوا،  لیکن رفتہ رفتہ عینک سے چڑنے لگے۔ جس مقام پر عینک ہماری ناک پر قیام کرتی اور جہاں عینک کی بانہیں ہمارے کانوں سے لپٹتیں، وہاں خارش سی رہنے لگی۔ تنگ آ کر ہم نے عینک چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اب عینک کے بغیر کلاس روم میں بلیک بورڈ دھندلا سا نظر آنے لگا۔ یعنی عینک لگانے سے ہماری نظر خراب ہو چکی تھی۔  وہ دن اور آج کا دن۔ عینک ہماری ناک اور اعصاب پر مستقل سوار ہے۔  اس سے پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں لیکن یہ نہیں چھوڑتی۔
آنکھوں نے جتنی دنیا دیکھی، عینک کا نمبر بھی اسی حساب سے بڑھتا رہا ہے۔ پھر ٹی وی چینل کی نوکری، جہاں ہر وقت ہی روشن اسکرینز پر نظر جمائے رکھنا ہوتی ہے۔ عینک بڑے بوڑھوں کی طرح ہماری جوانی پر سایہ فگن رہی ہے۔ اگر ہم باکردار رہے ہیں تو اس میں بھی ہمارے ضمیر سے زیادہ حصہ  عینک کا تھا۔ دلی حالات شوق آوارگی پر اکساتے تو بصری حالات قدم روک لیتے۔ جس جا "آ۔۔ہا۔۔” کہنا ہوتا وہاں استغفراللہ کہہ دیتے۔ ضعف بصارت میں یہ بھی ہوا کہ بینک سے آئے کاغذات کو کسی کا نامہ سمجھ کر جواب میں تین دفعہ "قبول ہے” لکھ کر بھجوا دیا۔
اب ماہ و سال اسی عینک کی ہم سری میں گزارنے کے بعد ہمیں نظر تو نہیں آتا، صبر ضرور آ جاتا ہے۔ ہم تو اس کا ذمہ داربھی عینک ہی کو سمجھتے ہیں کہ اپنی قسمت میں محبوبہ نہ آئی۔۔۔منکوحہ ہی آئی۔

Advertisements

3 thoughts on “نظر اور صبر

  1. جیسے بچپن میں عینک لگانے کے لئے منصوبہ بندی اور چالاکی کی ہے اب بھی ایسا ہی کریں۔۔اور اعلان کردیں گے بسارت ٹھیک ہوگی ہے۔۔آج سے عینک نہیں لگاؤں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور لینزز سے ہی کام چلا لیں۔۔پہلے والدین سے کھیلے اب دنیا سے کھلیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پسند کریں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s