ایک کروڑ کا پرچم

9 نومبر 2016 کو روزنامہ ایکسپریس میں خبر پڑھی۔۔۔ اور پڑھ کر شہر اقتدار کے مختاروں پر حیرت ہوئی۔
خبر کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس کے سبزہ زار میں سب سے بڑا قومی پرچم لہرانے کا منصوبہ ہے۔ منصوبے پر ایک کروڑ دس لاکھ روپے لاگت آئے گی۔
جی ہاں۔ جس ملک میں عام آدمی کو بنیادی سہولیات تک رسائی نہیں، اس کی پارلیمان میں ایک کروڑ دس لاکھ روپے خرچ کر کے پرچم نصب کیا جائے گا۔
پرچم کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس کے سبزہ زار، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور ایوان صدر کی عمارت کے سامنے ایک سو بیس فٹ لمبا کھمبا نصب کیا جائے گا۔ پرچم کے نیچے ساٹھ فٹ لمبا اور پچاس فٹ چوڑا پلیٹ فارم تعمیر کیا جائے گا۔
اور پھر سے دل کو تھام لیجیے، کہ پاکستان کا یہ پرچم چین سے تیارکرایا جائے گا۔
یا حیرت! اگر آپ اپنے ملک کا پرچم تک تیار نہیں کر سکتے تو پہلے یہ صلاحیت ہی حاصل کر لیجیے۔ پھر بناتے رہیے بڑے بڑے پرچم۔
اس مہم کا مقصد بھی خاصا دلچسپ ہے۔ خبر کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان کا سافٹ امیج پیش کرنے کے لیے بنایا جا رہا ہے۔ گویا جب یہ پرچم لہرائے گا تو ملک سے جہالت، شدت پسندی، عدم برداشت کے اندھیرے چھٹ جائیں گے۔
فنڈز منظور ہو گئے تو یہ پرچم نومبر میں نصب کر دیا جائے گا۔ کاش صاحبان اختیار یہی رقم کسی عملی منصوبے کے لیے منظور کریں۔ اور اس بات کا بھی حساب لگایا جائے کہ ایسے پرچم کی تنصیب میں حقیقتاً کتنی رقم خرچ ہوتی ہے۔
پڑھنے والے یہ سوال خود سے تو پوچھ ہی رہے ہوں گے، آگے بھی پھیلائیں۔۔۔ کیا پارلیمان میں بڑا پرچم لہرانے سے اہلیان اور اراکین پارلیمان میں حب الوطنی کا حجم بھی بڑھ جائے گا؟ کیا بڑے پرچم کے سائے تلے سبھی ایک ہو جائیں گے؟ کیا ملک کے تمام گھمبیر مسائل حل کر لیے گئے ہیں جو ایسے اللوں تللوں پر خطیر رقم خرچ کی جائے؟
اگر ان تمام سوالوں کا جواب نفی میں ہے، تو کیوں نہ یہی رقم کسی بامقصد کام میں صرف کر لی جائے؟

پس نوشت: ذیل میں ایکسپریس میں چھپی خبر پیش کی جا رہی ہے۔

1103737279-1

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s