ٹیلی فونک مسیحا

زوجہ محترمہ کو نصف بہتر کیا کہنا، کہ ہم سے تو وہ بدرجہا بہتر ہیں۔ خیر، انہیں جلد میں خارش اور خراشوں کی شکایت ہوئی۔ غالباً برتن دھونے کے لیے جب ہمیں صابن پکڑایا ہو گا تو کیمیکل انفیکشن بن کر جلد پر جا بیٹھا ہوگا۔
لہذا فیصلہ ہوا کہ بدرجہا بہتر کو کسی جلدی ڈاکٹر کے پاس لے جایا جائے۔ واضح رہے کہ ماضی قریب اور بعید میں سر،آنکھوں اورگلے میں درد کی شکایت پر وہ ڈاکٹر کے پاس جانے سے انکار کر چکی تھیں۔ لیکن جلد کے معاملات ۔۔۔ کچھ نہیں ہوتا، خود ہی ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔ وغیرہ پر تو نہیں چھوڑے جا سکتے نا! ایک اسپتال فون کر کے جلدی ڈاکٹر کے اوقات معلوم کیے گئے۔ شام کو بیٹھتے تھے۔
کئی شامیں ہماری سستی کی نذر ہوئیں۔ کبھی ہم سو رہے ہوتے، کبھی تھکے ہوتے، کبھی بھول جاتے۔۔۔ آخر ایک روز ہم انہیں لے کر ڈاکٹر کے ہاں پہنچ ہی گئے۔ بھاری فیس وصول کرنے کے بعد انتظار کی قطار میں بٹھا دیا گیا۔ ایک اسسٹنٹ نما انسان، ہاتھ میں کاپی پکڑی ہوئی، کاپی پر نام لکھے ہوئے، ادھر سے اُدھر گھومتا تھا۔ جب مطب کا دروازہ کھلتا، انتظار میں سوکھتے کسی ایک مریض کو اندر بھجوا دیتا۔ فضا دواؤں کی بو اور مریضوں کی سنجیدگی سے بوجھل تھی۔ کچھ ہی دور استقبالیہ کاؤنٹر پر ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے، پیسے وصولی کی مہریں لگنے اور اسپتال اسٹاف میں سے کسی کے کھلکھلانے کی آواز سنائی دیتی۔
تھوڑے انتظار کےبعد ہمیں بھی اذن باریابی ملا۔ ڈاکٹر صاحب کے چہرے پر داڑھی، آنکھوں پر عینک اور ہاتھوں میں موبائل فون تھے۔ ایک موبائل فون کے ذریعے کسی سے گفتگو، دوسرے سے شاید پیغام پڑھتے تھے۔ گھورتی آنکھوں اور سنتے کانوں ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا گیا (ٹیلی فون تھامنے کی وجہ سے ہاتھ اشارہ کرنے سے قاصر تھے)۔ کچھ دیر میں کال ختم ہوئی۔ آنے کا مقصد پوچھا۔ بیگم بتانے لگیں تو انہوں نے فون پر ایک نمبر ڈائل کرنا شروع کر دیا۔ بات نامکمل ہی تھی کہ کال مل گئی۔ کہنے لگے۔۔۔ ہیلو سیٹھ صاحب۔ کبھی غریبوں کو بھی لفٹ کرا دیا کریں۔ اس کے بعد سے معاملات کچھ گڈمڈ سے ہو گئے۔ ڈاکٹر صاحب بات تو فون پر کرتے، لیکن اشاروں سے ہمیں بھی اپنی بات جاری رکھنے کا کہتے۔ سمجھ نہ آتا کہ یہ جو انہوں نے زور سے ‘اچھا’ کہا، اس کی وجہ بیماری کی علامات ہیں یا ٹیلی فون کی دوسری سمت موجود فرد کی گفتگو۔
کال ختم کرتے کرتے وہ پانچ چھ دوائیں تجویز کر چکے تھے۔ فون رکھتے ہوئے پوچھنے لگے، اور کچھ؟ ہم حیراں سے دیکھا کیے۔ کہنے لگے گھر کا کوئی کام نہیں کرنا۔ معلوم نہ ہوا ہمیں کہہ رہے ہیں یا بدرجہا بہتر کو؟ مریضہ نے کچھ ذیلی گفتگو کرنی چاہی، مثلاً احتیاط کیا کی جائے، کب تک دوا استعمال کرنی ہے وغیرہ وغیرہ لیکن اتنی ہی دیر میں وہ ایک اور فون کال ملا چکے تھے۔ اب کی بار بھی گفتگو کا آغاز اسی جملے سے ہوا۔۔۔ ہیلو سیٹھ صاحب، کبھی غریبوں کو بھی لفٹ کرا دیا کریں۔ ہاں ہاں! اب تو میں وہ دوا بھی لکھنے لگا ہوں۔
ہم ہونقوں کی طرح دیکھا کیے، جب وہ کال بھی ختم ہوئی تو انہوں نے ہمیں یوں گھورا جیسے پوچھتے ہوں، آپ لوگ ابھی تک گئے نہیں؟ ہم دواؤں کے استعمال کی بابت کچھ منمنائے۔ انہوں نے بات کاٹ دی، کہنے لگے باہر جائیں، حاجی صاحب سب سمجھا دیں گے، اور فون پھر کان سے لگا لیا۔
فیس کی رقم یوں ٹیلی فون بل کی مد میں خرچ ہوتے دیکھی تو صبر کے کڑوے گھونٹ بھرتے باہر آگئے۔ سوچا تھا حاجی صاحب شاید ان کے اسسٹنٹ ہوں گے۔ معلوم ہوا اسپتال کی فارمیسی میں ہوتے ہیں۔ وہاں گئے تو ہمیں شاپنگ بیگ بھر کر دوائیں پکڑا دی گئیں۔ وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ خارش صرف ایک فرد کو ہے، پورے محلے کو نہیں۔ جواب ملا یہ دوائیں بھی ایک فرد کے لیے ہی ہیں۔ بل بھی اتنا ہی بنا جتنی ڈاکٹر صاحب نے فیس وصول کی تھی۔
وہاں ہمیں اور حاجی صاحب کو ایک دوا کے طریقہ استعمال کے بارے میں کچھ الجھن ہوئی۔ انہوں نے رائے دی کہ ڈاکٹر صاحب سے ہی دوبارہ پوچھ لیا جائے۔ ہم پھر سے قطار میں آن کھڑے ہوئے۔ اسسٹنٹ نے کہا، ایک مریض اندر ہے، وہ فارغ ہوتا ہے تو آپ چلے جائیے گا۔ کچھ انتظار کے بعد دروازہ کھلا، ہم اندر گئے۔۔۔ ڈاکٹر صاحب نے موبائل فون بدستور کان سے لگا رکھا تھا۔

ختم شد۔۔۔

یہ بھی پڑھیے: کیا بیگم کو لانا میری ذمہ داری ہے؟

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s