نواز شریف کا ذوق طعام

ترک صدر کی پاکستان آمد، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب، اور تحریک انصاف کی جانب سے بائیکاٹ نے شاید کچھ سیاسی الجھاؤ پیدا کیا ہو، لیکن ہمیں تو کرامت اللہ غوری کی کتاب بار شناسائی میں لکھا ایک واقعہ یاد آ گیا۔
کرامت اللہ غوری سفارت کاری سے وابستہ رہے ہیں۔ دوران ملازمت پاکستان کے جن حکمرانوں سے واسطہ رہا، ان کا احوال اپنی کتاب بار شناسائی میں لکھا ہے۔ لکھتے ہیں، وہ ترکی میں بطور سفیر اپنے فرائض ادا کر رہے تھے تو جولائی 1999 میں استنبول اور گرد و نواح میں ہلاکت خیز زلزلہ آیا۔ نواز شریف اس وقت اپنی وزارت عظمیٰ کی دوسری اننگز کھیل رہے تھے۔ انہوں نے تعزیت کے لیے ترکی آنے کا فیصلہ کیا۔ یہاں انہوں نے ترک حکمرانوں سے اظہار غم کیا، زلزلے سے متاثرہ علاقے دیکھے اور دل گرفتہ ہوئے۔ لیکن افسوس کی اس فضا میں بھی میاں نواز شریف کا ذوق طعام سر اٹھا کر کھڑا ہو گیا۔ انہوں نے رات کا کھانا اپنے پسندیدہ کباب ریستوراں میں 151109154529-ali-haydar-istanbul-super-169کھانے کی فرمائش کر دی۔
کرامت اللہ غوری لکھتے ہیں، استنبول کا یہ معروف کباب ریستوراں ائیرپورٹ کے نزدیک تھا اور اس کی وجہ شہرت گزشتہ کئی برسوں سے یہ تھی کہ میاں نواز شریف اس کے خصوصی سرپرستوں میں سے تھے۔ کئی بار یورپ جاتے ہوئے یا واپسی پر صرف کباب کھانے کےلیے کچھ گھنٹے استنبول میں قیام کرتے۔
ذوق طعام اپنی جگہ لیکن سفارتی لحاظ سے نامناسب معلوم ہوتا تھا کہ ترک عوام سے تعزیت کے لیے آیا پاکستانی وزیراعظم اس قسم کی تفریح کا مرتکب ہو۔ کرامت اللہ غوری صاحب نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تو نواز شریف نے کہا، اچھا چلو نہیں جاتے لیکن اس ریستوراں سے کباب منگوا تو سکتے ہیں؟
کرامت اللہ غوری نے جواب دیا، سر! آپ کھانا ضرور منگوا سکتے ہیں لیکن یہ تو سوچیے کہ آپ کے لیے کباب کوئی گمنام طریقے سے تو نہیں آئیں گے۔ سیکیورٹی پروٹوکول کے طور پر کھانے کو پہلے کوئی اور چکھے گا، یوں ترک میزبان جان جائیں گے کہ ان کے ٹریجیڈی کے عالم میں پاکستانی دوست یہ عیاشی کر رہے ہیں۔
نواز شریف نے کباب منگوانے کا ارادہ تو ترک کر دیا، لیکن افسردہ ہو گئے۔ تب کرامت اللہ غوری نے مشورہ دیا کہ کیوں نہ کبابی کو فون کر دیا جائے۔ وہ نواز شریف کی روانگی سے قبل ان کے پسندیدہ کباب جہاز میں رکھوا دے اور وہ واپسی کے سفر کے دوران ان کا لطف اٹھائیں۔
یہ تجویز سن کر نواز شریف کھل اٹھے اور ترکی سے واپسی پر اپنے پسندیدہ کبابوں کا لطف اٹھایا۔

پس نوشت: پرویز مشرف بھی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ترکی گئے۔ وہاں ان کے ساتھ کیا ہوا، پڑھیے جب مشرف کو ترکی میں ڈانٹ پڑی۔

اور کتاب میں بیان کیا گیا یہ قصہ بھی پڑھنے کی چیز ہے، ضیاءالحق کمال کے اداکار تھے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s