دو منٹ میں مسئلہ حل کریں

زندگی میں آنے والے ذاتی، کاروباری یا سماجی مسائل سے ہم سبھی پریشان ہوتے ہیں اور انہیں فوری طور پر حل کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔ اس بارے میں پڑھتے ہوئے ایک انتہائی دلچسپ چیز معلوم ہوئی۔
آپ نے کوئی بھی مسئلہ حل کرنا ہے تو گھبراہٹ یا پریشانی کے بجائے، ایک چیلنج سمجھ کر اس پر قابو پانے کی کوشش کریں۔ مسئلے کے حل کا تمام دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ ردعمل کیا دیتے ہیں۔
سب سے پہلے ایسا کریں کہ خود پر قابو پائیں ۔۔۔ اپنے آپ کو یقین دلائیں آپ اسے حل کر لیں گے
پھر یوں کریں کہ مسئلے کو مسئلہ نہ کہیں ۔۔ پرابلم نہ کہیں۔۔۔ برابلم ایک منفی لفظ ہے۔۔۔ پریشان کر دیتا ہے
اسے ایک سچوئیشن کہہ لیں پڑھنا جاری رکھیں

میرا پنیر کہاں گیا

ایک جگہ پر چار لوگ رہتے تھے، ان میں سے دو چوہے تھے۔۔اور دو انہی جتنے چھوٹے چھوٹے انسان ۔۔چوہوں کے نام تھے سنف اور سکری اورانسانوں کے نام تھے ہیم اور ہاء۔۔۔
چاروں روزانہ اپنے کھانے کے لیے پنیر تلاش کرتے
چوہے چونکہ بے عقل تھے، اس لیے انہیں جس قسم کا پنیر مل جاتا وہ کھا لیتے
انسان چونکہ عقل مند تھے، انہیں ایک خاص قسم کے پنیر کی تلاش تھی۔ ان کا خیال تھا وہ خاص پنیر ملا تو ہی انہیں خوشی ملے گی۔
سنف اور سکری منہ اٹھا کر چل پڑتے۔ کہیں پنیر مل جاتا اور کہیں ناکامی ملتی۔
ہیم اور ہا خاص قسم کا پنیر تلاش کرنے کے منصوبے بناتے رہتے اور ناکامی پر بہت اداس ہو جاتے
آخر ایک دن چاروں کو ایک جگہ ملی۔۔۔ جہاں پنیر کا خزانہ پڑا تھا پڑھنا جاری رکھیں

مشکل کا حل کیسے نکالیں؟

دراصل مشکل اتنی اہم نہیں ہوتی، جتنا اہم ہمارا ردعمل ہوتا ہے۔
اس بات کو مثال کے ذریعے واضح کرتے ہیں۔
ٹونی رابنز ایک امریکی بزنس مین ہیں، اور سیلف ہیلپ پر کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ جب وہ گیارہ سال کے تھے تو ان کے گھر کے حالات کچھ ٹھیک نہ تھے۔ ان کے والد بے روز گار تھے ۔۔۔ والد اور والدہ میں لڑائی بھی رہتی۔
ایسے میں ایک تہوار کے موقع پر چند اجنبی لوگوں نے ان کے گھر کھانا بھیجا۔
ٹونی رابنز کے والد نے کہا ۔۔۔ اچھا، تو اب ہمیں خیرات بھیجی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے مجھے ناکارہ شخص سمجھا جاتا ہے۔ اس بات پر جھگڑ کر وہ گھر سے باہر چلے گئے
ٹونی رابنز کا ردعمل کچھ مختلف تھا۔۔۔ پڑھنا جاری رکھیں

بھورے کوٹ کی سیاہ کہانی

2003 میں لاہور وارد ہوئے تو والد صاحب نے جیکٹ نما کوٹ ہمراہ کیا۔ خاکی سے رنگ کی یہ جیکٹ خاصی کارآمد تھی۔ کئی برس تک ہمیں سردی سے بچاتی رہی۔ جیکٹ بدلنے میں وسائل سے زیادہ خواہش کی کمی آڑے آتی۔ بھلا ایک کار آمد جیکٹ کے ہوتے ہوئے دوسری کیوں خریدی جائے۔
بر سر روزگار ہوئے تو بھی سردیوں میں اسی جیکٹ کا آسرا رہا۔ یہ اور بات کہ گزرتے ماہ و سال اپنے نشان اس پر چھوڑتے جا رہے تھے ۔۔۔ پھر بھی اسے پہن کر عافیت کا احساس ہوتا۔ جیکٹ کی یکسانیت پر یار دوست شاید پہلے بھی طعنے دیتے رہے ہوں، اب ان پر غور کرنا شروع کیا۔
یوں سردیوں کے مقابلے کے لیے ایک سیاہ رنگ کا کوٹ خریدا گیا۔ خاص بات یہ تھی کہ اس کے دو حصے تھے۔ زپ کے ذریعے علیحدہ ہو جاتے۔ اس سے اگلی سردیوں نے ہماری الماری میں ایک سیاہی مائل سرمئی رنگ کے کوٹ کا اضافہ دیکھا۔ اسی برس تقریباً اسی رنگ کی لیکن وضع قطع میں مختلف جیکٹ خریدی گئی۔ اس بندوبست کے بعد ہم کوٹ/جیکٹ بدل بدل کر دفتر جانے لگے۔ نسبتاً کم سردی کے لیے ایک سیاہ اور ایک سیاہی مائل سرمئی اپر بھی لیا گیا۔

ہمارے پہناووں پر اتری دھنک سے حاسدین کے سینوں پر سانپ لوٹنے لگے۔ پڑھنا جاری رکھیں

ایمپرا الیکشن، چند گزارشات

ٹی وی پروڈیوسرز کی تنظیم ایمپرا کے الیکشن ہونے کو آئے ہیں۔ ہر جانب سے ووٹ اسپورٹ ۔۔۔ قول و قرار ۔۔۔ عہد و پیماں ۔۔۔ التجاؤں صداؤں ۔۔۔ کا شور ہے۔
ووٹ مانگنے والوں سے گزارش ہے کہ کیوں نہ آپ ایک ایجنڈا بنا لیں۔ بتائیں کہ آپ کا لائحہ عمل کیا ہو گا۔ کیوں کر آپ کو ووٹ دیا جائے اور دوسرے امیدوار کو نہ دیا جائے۔
ایجنڈے میں صرف دعوے ہی نہ ہوں بلکہ ان کو پورا کرنے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا، اس کی تفصیل بھی ہو۔ پچھلے سال فتح پانے والوں نے سال بھر کیا کار ہائے نمایاں سر انجام دیے، اس کی تصریح بھی کر دی جائے۔ نجی محفلوں میں اگر کوئی الزام لگائے جا رہے ہیں تو ان کا ذکر بھی علی الاعلان ہو، تاکہ ملزم کو وضاحت کا موقع ملے۔
خاکسار کی گزارش یہ ہے کہ یہ ووٹ کسی دھڑے بندی، دوستی، یا دباؤ میں مانگا جائے، نہ ہی دیا جائے۔
ہر امیدوار اپنی سوچ، لائحہ عمل کو وضاحت سے بیان کرے۔ تاکہ ووٹر عقل سے فیصلہ کرے، نہ کہ جذبات سے۔
گزارش یہ بھی ہے کہ ان انتخابات کو اپنی انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔ نظریاتی اختلاف کو نہ صرف تسلیم کیا جائے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے۔
اگر آپ کا کوئی دوست آپ کے مخالف دھڑے کو ووٹ ڈالنے جا رہا ہے تو یہ اس کا حق ہے۔ اس کی پسند آپ کی دوستی کی راہ میں حائل نہیں ہونی چاہیے۔
اب تک تو سوشل میڈیا پر یار دوست کسی کی اسپورٹ کا اعلان کر رہے ہیں۔ ان سے کہنا یہ ہے کہ وہ اپنے امیدوار کو اسپورٹ کرنے کی وجہ بھی بتائیں تاکہ جو اسے نہیں جانتا وہ بھی اپنا ذہن بنا سکے۔
کسی امیدوار کو منتخب کرنے کےلیے معیار کیا ہونا چاہیے؟
کیا اس کا ذاتی حوالے سے اچھا ہونا ہی کافی ہے، یا اس بات کو بھی مد نظر رکھا جائے کہ منتخب ہونے کے بعد وہ کرے گا کیا؟