پانامہ فیصلہ، جو میں نے سمجھا

سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھنے کے بعد جو بات مجھے سمجھ آئی وہ یہ ہے
نواز شریف دبئی میں ایک کمپنی کے چیئرمین تھے۔ چیئرمین کے طور پر ان کی (کاغذوں کی حد تک) کچھ تنخواہ مقرر تھی جو انہوں نے کبھی وصول نہیں کی۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے، چاہے نواز شریف نے تنخواہ وصول نہ کی ہو لیکن اس کے باوجود الیکشن کمیشن کو جمع کرائے گئے گوشواروں میں غیر وصول شدہ تنخواہ کا ذکر کرنا چاہیے تھا۔ چونکہ نواز شریف نے ایسا نہیں کیا، لہذا وہ صادق اور امین بھی نہیں رہے، اور نااہل کیے جاتے ہیں۔
نواز شریف کو آئین پاکستان کی شق 62 (1) ف کے تحت نااہل کیا گیا ہے۔ اس شق کے مطابق کوئی بھی شخص صرف اسی صورت پارلیمنٹ کا ممبر بن سکتا ہے (یا رہ سکتا ہے) اگر وہ
عقل مند ہو، نیک ہو، فضول خرچ نہ ہو، صادق ہو اور امین ہو۔
فیصلہ پڑھنے کے بعد ایک بات سمجھنے سے قاصر ہوں۔ پانامہ کیس شروع ہی اس انکشاف کے بعد ہوا کہ نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کی پانامہ میں آف شور کمپنیاں ہیں۔ ان پر الزام لگایا گیا کہ اثاثے بنانے کے لیے رقوم کی منتقلی میں کرپشن کی گئی۔ نواز خاندان کا موقف تھا بیرون ملک اثاثے جائز آمدنی سے بنائے گئے۔
کیس سپریم کورٹ میں گیا تو نواز خاندان سے پوچھا گیا، گلف اسٹیل مل کیسے بنی؟ رقم جدہ، قطر اور برطانیہ کیسے پہنچی؟ نواز شریف کے بچے کم عمری میں لندن فلیٹس کے مالک کیسے بنے؟ برطانیہ میں کمپنیاں بنانے کے لیے رقم کہاں سے گئی اور کیسے گئی؟
سپریم کورٹ نواز خاندان کی وضاحت سے مطمئن نہ ہوئی تو انہی سوالوں کے جواب تلاش کرنے کے لیے ایک تحقیقاتی ٹیم بنائی گئی۔ یہ ٹیم بھی اس نتیجے پر پہنچی کہ نواز شریف اور ان کے بچوں کے اثاثے ان کے وسائل سے بڑھ کر ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم نے یہ کھوج بھی لگایا کہ نواز شریف کی صاحب زادی مریم نواز ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کی مالکن تھیں لیکن دستاویزات میں جعل سازی کر کے انہیں صرف ٹرسٹی دکھایا گیا۔
یہ کیس کرپشن، منی لانڈرنگ، جعل سازی اور جھوٹ کا تھا۔ اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے لندن کی جائیدادوں، آمدن سے زائد اثاثوں اور کرپشن کی تحقیقات کا حکم تو نیب کو دے دیا ہے۔ لیکن نواز شریف کو جس بات پر نااہل قرار دیا گیا ہے اس بات کا پورے فسانے میں کہیں ذکر ہی نہ تھا۔
یہ ایسے ہی ہے کہ کسی شخص نے مجھ سے قرض لے رکھا ہو، اور میں ان پیسوں کا (جو واجب الادا ہیں لیکن مجھے ملے نہیں) اپنے ٹیکس گوشواروں میں ذکر ہی نہ کروں۔
پانامہ کیس میں نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کوئی قابل یقین منی ٹریل پیش نہیں کر سکے۔ لندن جائیدادیں کن ذرائع سے بنائی گئیں، اس کی بھی مناسب وضاحت نہ آئی۔ سپریم کورٹ میں ان کے پیش کردہ دلائل سن کر واضح محسوس ہوتا تھا کہ دال میں بہت زیادہ کالا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس پر تو کوئی فیصلہ دینے کے بجائے مزید تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، لیکن بظاہر ایک بہت ہی معمولی سی تکنیکی غلطی پر نواز شریف کو جھوٹا اور خائن قرار دیتے ہوئے گھر بھیج دیا ہے۔ اگر سپریم کورٹ اثاثوں پر وضاحت سے مطمئن نہ تھی تو اسی بنیاد پر نواز شریف کے خلاف فیصلہ دے سکتی تھی (جیسے 20 اپریل کو دو ججز نے دیا)۔
گویا نواز شریف نے اگر کچھ چھپایا ہے اس پر نااہل نہیں ہوئے، بلکہ جو کچھ بتایا ہے اس پر فارغ کر دیے گئے ہیں۔ گویا نواز شریف کرپٹ ہیں یا نہیں؟ اس کی تو تحقیقات ہوں گی، لیکن یہ طے ہے کہ وہ صادق اور امین نہیں۔
مجھے اپنی قانون دانی اور انگریزی میں کمی کا اعتراف ہے، لہذا فیصلہ سمجھنے میں کوئی غلطی ہوئی ہو تو رہنمائی فرمائیے گا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s