نیشنل جیوگرافک میں پاکستانی ٹی وی کا صحافی

ایک دفعہ پاکستان کے ٹی وی نیوز چینلز میں کام کرنے والا صحافی نیشنل جیوگرافک میں بھرتی ہو گیا۔
وہاں جا کر اس نے وخت ڈال دیا۔ ہر وقت جلدی مچائے رکھتا۔ نہ ڈھنگ سے ایڈیٹنگ کرنے دیتا نہ کہانی کے ربط کا خیال رکھتا۔ بس جو فوٹیج جیسے ملتی اسے وہیں جوڑ جاڑ کر نشر کر دیتا۔ ایک کہانی چلنے کے دوران کوئی نئی آ جاتی تو پہلی روک کر دوسری چلا دیتا۔ نہ اسے کچھ سمجھ آتی نہ دیکھنے والوں کو۔ ہاتھی پر دستاویزی فلم چلی تو اس میں چوہوں کے شاٹ بھی لگے ہوئے تھے۔ افسروں نے پوچھا کہ یہ کیا؟ کہنے لگا فوٹیج آئی تھی میں نے سوچا اچھی ہے، ابھی نہ چلائی تو ضائع ہو جائے گی۔ ایک بار ہائی ریزولوشن فلم میں وٹس ایپ سے آئی فوٹیج ٹھوک دی۔ پوچھا گیا تو بتایا کہ نمائندے نے بھیجی تھی، کہیں تو استعمال کرنی تھی نا! افسر اسے سمجھا سمجھا کر تھک گئے کہ ہر آئی ہوئی چیز چلانے والی نہیں ہوتی، تمہیں یہاں اس لیے نہیں رکھا کہ جو آئے چلا دو۔ بلکہ تمہارا کام چھانٹی کرنا ہے اور صرف بہترین چیز نشر کرنا ہے۔ لیکن خبری صحافی کو اپنے افسروں کی بات سمجھ نہ آتی۔
ایک بار شیر کی تصویر آئی۔ اس نے ‘بریکنگ نیوز’ چلا دی، یہ شیر شکار کرنے کا ‘سوچ’ رہا ہے۔ پوچھا گیا کہ بھئی آپ نے شیر سے ٹیلی پیتھی کب کی؟ اور اس میں بریکنگ نیوز کی کیا بات تھی؟ کہنے لگا اب تصویر آئی تھی تو کسی طرح تو چلانی تھی نا۔
ایک بار چیتوں پر دستاویزی فلم چل رہی تھی، چیتا اپنے شکار پر جھپٹنے کو تھا کہ ایک دم زیبروں کی فوٹیج چلنے لگی۔ پوچھا گیا تو کہا میں نے ایک وقت میں دو کہانیاں ‘بھگتا’ دیں، اچھا نہیں کیا؟ افسروں نے پھر سر پیٹ لیا۔ سمجھایا گیا کہ کہانی بھگتاتے نہیں، بتاتے ہیں۔ لیکن صحافی کو کچھ سمجھ نہ آئی۔
تنگ آ کر اسے فیلڈ میں بھیج دیا گیا۔ یہاں اس نے ہیڈ آفس والوں کے ساتھ ساتھ جنگل کے جانوروں کو بھی وخت ڈال دیا۔ وہ جوہڑ پر پانی پی رہے ہوتے تو انہیں کہتا ہاتھ اٹھا کر مظاہرہ کرو میں نے فوٹیج بنانی ہے۔
وٹس ایپ گروپ میں جو فوٹیج آتی وہ ہیڈ آفس بھیج دیتا اور اسے نشر کرنے کا مطالبہ کرتا۔ اپنی ہر فوٹیج کو ایکسکلوژو کہتا۔
اسے جو کام کرنے کو کہا جاتا وہ ٹوٹل پورا کر کے واپس آ جاتا۔ بندروں کی رپورٹ بنانے بھیجا جاتا تو چیونٹیوں کی فوٹیج بنا لاتا اور کہتا آج تو جنگل سے یہی کچھ ملا ہے۔ زرافے کی معدوم ہوتی نسل پر رپورٹ بنا کر لایا تو اس میں زرافے کا موقف ہی نہیں تھا۔
بعد میں تو فیلڈ میں جانا بالکل ہی چھوڑ دیا، کیمرہ مین خود ہی جا کر فوٹیج بنا لاتا۔
آخر کار اسے واپس نیوز چینل بھیج دیا گیا۔ یہاں آ کر وہ ‘فوری صحافت’ کا عملی مظاہرہ کرتا ہے، اور اب اس کی ‘ایڈیٹوریل ججمنٹ’ پر کسی کو اعتراض نہیں ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s