پائیداری

چولہے میں آگ لگانے کے لیے آلہ نصب تھا۔ ہم بٹن دباتے تو چنگاری سی اٹھتی اور آگ جل جاتی۔ کچھ عرصہ استعمال کے بعد وہ آلہ خراب ہو گیا تو سیاسی باتیں کر کے چولہا دہکانے کی کوشش کرتے رہے۔ بات نہ بنتی تو ماچس استعمال کر لیتے۔
ایک روز جی میں آئی، ماچس کی تیلیاں جلانا اولڈ فیشنڈ سا لگتا ہے۔ بازار سے لائٹر خرید لاتے ہیں۔ وہاں دو اقسام میسر تھیں۔ ایک لائٹر تیل جلا کر آگ نکالتا تھا، دوسرے میں سیل ڈلتے، بٹن دبانے پر چنگاری سی چھوٹتی۔ دکان میں ہی ایک پستول نما چیز پر نظر پڑی۔ معلوم ہوا یہ بھی لائٹر ہے۔ ٹریگر دبائیں تو پستول کے دہانے سے چنگاری نکلے گی اور چولہے میں آگ دہک اٹھے گی۔ اس میں سیل ڈلتا تھا نہ ہی تیل، گویا آگ کے معاملے میں خود کفیل تھا۔
دکاندار سے پوچھا، کیوں بھئی، کتنا عرصہ نکال جائے گا یہ لائٹر؟
کہنے لگا، سر ایسی چیزیں تو لائف لانگ ہوتی ہیں۔ تین سال تک تو کہیں نہیں جاتا

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s