مچھر طبیعت لوگ

جب بھی سردیاں آنے والی ہوں، یا جانے والی ہوں۔۔۔ مچھر نامی مخلوق کا راج قائم ہوتا ہے۔ ذرا کھڑکی کھلی رہ گئی تو غول کا غول کمرے میں در آتا ہے۔ آپ سوتے ہیں تو یہ کان میں آ کر بھنبھناتا ہے، آپ کو غافل پا کر آپ کا خون چوستا ہے۔ جس کی وجہ سے آپ کو خارش ہوتی ہے۔ آپ ہڑبڑا کر کھجاتے ہیں اور کروٹ بدل کر پھر سو جاتے ہیں۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ مچھر پلٹ پلٹ کر حملے کرتے ہیں اور آپ کی ساری رات کھجانے اور کروٹیں بدلنے میں گزر جاتی ہے۔ صبح کسل مندی ہوتی ہے لیکن زندگی کے معمولات شروع کرتے ہی آپ مچھروں سے رات بھر کی لڑائی بھول جاتے ہیں۔
کبھی کبھی مچھروں سے جنگ کی بدمزگی آپ کے چہرے پر بھی دکھتی ہے اور کوئی پوچھ بیٹھتا ہے، "خیر ہے، مضمحل کیوں ہو؟” تو آپ کندھے اچکاتے ہیں اور لاپروائی سے جواب دیتے ہیں، "کچھ نہیں، رات مچھر بہت تھے۔”
بس اتنی سی اہمیت ہوتی ہے مچھر کی آپ کی زندگی میں۔
تو صاحب، یہ عاجز  حساب کتاب کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے، کہ اپنی زندگیوں میں بھی کچھ لوگوں کو مچھر جتنی ہی اہمیت دی جائے تو خاصا سکون رہے۔
یہ مچھر طبیعت کے لوگ بھی آپ کے کان میں بھنبھناتے ہیں، آپ کو غافل پا کر کاٹ کھاتے ہیں، لیکن ان کے معاملے میں آپ ہڑبڑا کر کروٹ بدلنے کے بجائے انہیں اہمیت دینے لگتے ہیں۔ ان کی بھنبھناہٹ کو اعصاب پر سوار کر لیتے ہیں۔ ہر وقت اسی بارے میں سوچتے ہیں، اندر ہی اندر کھولتے ہیں۔ ان لوگوں کی وجہ سے آپ زندگی کے ساتھ دوڑنے بھاگنے کے بجائے الگ بیٹھ کر کڑھتے ہیں، ان کے لگائے گئے زخموں کو سینت سینت کر رکھتے ہیں۔
حالانکہ مچھر کی طرح ایسے لوگ بھی صرف ایک تالی کی ہی مار ہوتے ہیں۔
بھئی نہ کریں نا ایسا!
جیسے مچھر کا کاٹنا اگلی صبح یاد تک نہیں رہتا ایسے ہی مچھر طبیعت لوگوں کی بھنبھناہٹ اور چبھن کو بھی بھول جائیے۔ کیا آپ مچھر کے بارے میں چند جملوں سے زیادہ کسی سے گفتگو کرتے ہیں؟ نہیں نا؟ تو مچھر جیسے لوگوں کو بھی ڈسکس نہ کیا کریں۔ یہ کاٹیں تو آپ بس کھجائیں اور کروٹ بدل کر زندگی کی گاڑی میں آگے بڑھ جائیں۔
مچھر کی طرح ان سے بچنے کی تدابیر بھی کر لیں۔ اپنی زندگی کے گرد جالی والا دروازہ لگائیں۔ جہاں سے مچھر کو تو رکاوٹ ہو لیکن تازہ ہوا کے آنے میں کوئی روک ٹوک نہ ہو۔ خوشی کی خوشبو والی مچھر مار دوا کا چھڑکاؤ کریں۔ قہقہوں والا کوائل جلائیں اور مچھر جیسے لوگوں کو مار بھگائیں۔
ویسے تو مچھر جیسے لوگوں کو اتنی اہمیت دینے کی بھی ضرورت نہیں۔ لیکن احتیاط بہتر ہے۔ یوں تو اکثر مچھر صرف کھجلی پیدا کرتے ہیں لیکن کچھ کچھ ملیریا اور ڈینگی کا سبب بھی بن جاتے ہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s