چینی چھوڑنے کا دکھ

آپ کے ارد گرد ایسے لوگ ضرور ہوں گے، جو چائے میں چینی نہیں لیتے
میں ایسے نام نہاد، کھوٹے نفیس لوگوں سے بہت تنگ ہوں۔ کیوں کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ پھیکی چائے پی کر آپ ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں؟
دیکھیں۔ چینی کے بغیر چائے ایسے ہی ہے جیسے روح کے بغیر انسان۔ لیکن کچھ لوگ پھیکی، بلکہ کڑوی چائے پی پی کر خود کو سوفیسٹی کیٹڈ سمجھنے لگتے ہیں، اور جو ایسا نہ کرے، اسے خود سے کم تر سمجھتے ہیں۔ ان میں خواہ مخواہ کا احساس برتری کمپلیکس آ جاتا ہے۔ یوں برتاؤ  کرنے لگتے ہیں جیسے وہ بڑی توپ چیز ہیں۔ کسی محفل میں ان سے پوچھا جائے، کہ کتنی شکر لیں گے، تو سر جھٹک کر انگریزی میں جواب دیتے ہیں
No sugar please.
رفتہ رفتہ ان کا یہ کمپلیکس اتنا بڑھ جاتا ہے کہ کافی بھی بلیک پینے لگتے ہیں۔ یعنی چینی کے ساتھ ساتھ دودھ بھی چھوڑ دیتے ہیں۔
ایسے لوگ دوسروں کو مجبور تو نہیں کرتے کہ وہ بھی چینی نہ لیا کریں، لیکن ایسی باتیں ضرور کرتے ہیں، یو نو! میں نے جب سے شوگر چھوڑی ہے، میری لائف ہی بدل گئی ہے۔ بندہ پوچھے، چائے میں چینی نہیں تو لائف کا اچار ڈالنا ہے۔
جس طرح یہ خود کو کیری کرتے ہیں، چینی لینے والا بندہ بے چارہ خود کو کم تر سمجھنے لگتا ہے۔ اور پھر وہ دن آ جاتا ہے جب اچھی خاصی چینی والی چائے پینے والا انسان، خود بھی چینی چھوڑنے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔
کسی دوسرے کا کیا کہیں، خود اپنے ساتھ یہی کہانی ہوئی۔ اپنے حلقہ احباب میں ایک دو ایسے حضرات دیکھے جو چائے میں چینی نہیں لیتے تھے اور اس بات پر بڑا فخر وغیرہ بھی کرتے تھے۔ تو ڈرتے ڈرتے ان سے پوچھا، یار یہ کڑوا کسیلا مائع کیسے پی لیتے ہو۔ وہ کندھے اچکا کر بولے۔۔۔ بس ہفتے دو ہفتے میں عادت ہو جاتی ہے۔
تو ہم ان کی باتوں میں آ گئے۔ گھر والوں کو کہہ دیا کہ آج کے بعد سے ہماری چائے میں چینی نہ ڈالی جائے۔ وہ بھی ایسے ظالم کہ جھٹ سے مان گئے۔
پہلے یہ حال تھا کہ دن میں کم از کم نو کپ چائے پیتے تھے۔ ہر کپ میں دو چمچ چینی ڈالتے۔ یوں ایک دن میں صرف چائے کے مد میں اٹھارہ چمچ چینی ہو جاتی۔ اور چائے کے ساتھ جو دیگر لوازمات ہوتے ہیں مثلا کیک رس، بسکٹ، مٹھائی ۔۔۔ وہ اس کے علاوہ۔
اب چینی چھوٹی تو لگ پتہ گیا۔ پہلا ہفتہ تو ہم نے یہ سوچ کر کڑوے گھونٹ بھرے کہ ہفتے دو ہفتے میں عادت ہو جائے گی۔ جب دوسرے ہفتے کے بعد بھی کڑوی چائے دل کو نہ بھائی تو ترغیب دینے والوں سے پوچھا۔۔۔ بھیا دو ہفتے ہونے کو آئے ہیں، میٹھی چائے کی بہت یاد آتی ہے۔ وہ ظالم کہنے لگے، بس چالیس دنوں میں عادت ہو جائے گی۔ چالیس دنوں بعد پوچھا، کہنے لگے، دو مہینے بعد عادت ہو جائے گی۔
اب ہم کڑوی چائے پیتے ہیں، اور اس کی کڑواہٹ مارنے کو ساتھ میں آٹھ دس کیک رس کھاتے ہیں ۔۔۔ مزا پھر بھی نہیں آتا ۔۔۔ اور نام نہاد نفیس لوگوں کو جھولی اٹھا اٹھا کر دعائیں دیتے ہیں۔

Advertisements

One thought on “چینی چھوڑنے کا دکھ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s