ناکام لوگوں کی 13 عادات

آپ نے کوشش کی۔۔ اور ناکام ہو گئے۔۔ تو اس کی بھی ایک وجہ تھی۔
بلکہ ایک بھی نہیں۔۔ اس کی تیرہ وجوہات تھیں۔۔
جی۔آپ میں، اور شاندار کامیابی کے راستے میں تیرہ وجوہات کھڑی ہوتی ہیں۔
ناکامی کی وجہ نمبر ایک۔ ۔ سب سے پہلے تو ہمیں پتہ ہی نہیں ہوتا، کہ ہم کرنا کیا چاہتے ہیں۔ کوئی باقاعدہ مقصد نہیں ہوتا۔ لائی لگ ہوتے ہیں۔ جو دوسروں کو کرتے دیکھتے ہیں، خود بھی وہی کرنے لگتے ہیں۔ اور پھر جلد ہی دل چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمت ہار دیتے ہیں۔ چوں کہ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ زندگی میں کرنا کیا ہے۔ اس لیے کوئی بھی کام دل سے نہیں کرتے۔
نمبر دو۔۔ لگن ہی نہیں ہوتی۔۔ نہ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ نہ آگے بڑھنے کا سوچتے ہیں۔ آگے بڑھنے کی ایک قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ ناکام لوگ یہ قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ اس لیے کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔
نمبر تین۔۔ مناسب معلومات نہیں ہوتیں۔ نہ انہیں حاصل کرتے ہیں۔ معلومات لے لیتے ہیں تو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انہیں استعمال کیسے کرنا ہے۔ اور کہاں کرنا ہے۔ یعنی جو بھی کام کرنا چاہتے ہیں، اس کے بارے میں پتہ نہیں ہوتا کہ یہ کام کیسے کیا جاتا ہے۔ اور پھر متعلقہ معلومات حاصل کرنے میں بھی سستی سے کام لیتے ہیں۔۔ بغیر کچھ پتہ کیے کام شروع کر دیتے ہیں۔ مشکل پڑتی ہے۔تو گھبرا جاتے ہیں اور کام چھوڑ دیتے ہیں۔
نمبر چار۔۔ جو کام کرنا ہو، اسے لگ کر نہیں کرتے۔ خود کو ایک ڈسپلن کا پابند نہیں بناتے۔ باقاعدگی سے کام نہیں کرتے، اور اگر ناکامی مل رہی ہو، تو بھی سمجھ نہیں پاتے کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم دل لگا کر کام تو کر ہی نہیں رہے۔
نمبر پانچ۔۔ آج کا کام کل پر چھوڑ دیتے ہیں۔ دراصل ہم کوئی بھی کام شروع کرنے کے لیے درست وقت کا انتظار ہی کرتے رہتے ہیں۔ اور وہ درست وقت کبھی نہیں آتا۔ آئیڈیاز بڑے بڑے سوچتے ہیں۔ لیکن ان پر عمل نہیں کرتے۔
ناکام ہونے کی وجہ نمبر چھ۔۔ کوئی کام شروع کر بھی دیں۔ تو بہت جلدی اکتا جاتے ہیں۔ کام شروع کرتےہیں، لیکن اسے مکمل نہیں کرتے۔ یاد رکھیں۔۔ناکامی کا دشمن نمبر ایک ہے۔۔ persistence۔ آپ persistent رہیں، یعنی لگے رہیں۔۔ کامیابی ضرور ملے گی۔
نمبر سات۔۔ ناکام لوگوں میں قوت فیصلہ نہیں ہوتی۔ جو کام یاب لوگ ہوتے ہیں، وہ بہت جلد کسی فیصلے پر پہنچ جاتے ہیں۔ اور پھر اگر وہ فیصلہ تبدیل کرنا ہی پڑے، تو اس میں جلد بازی نہیں کرتے۔ جو ناکام لوگ ہوتے ہیں۔ وہ کسی فیصلے پر پہنچنے میں تو بہت ہی زیادہ دیر لگاتے ہیں۔ لیکن اگر وہ فیصلہ تبدیل کرنا پڑ جائے۔۔تو اس میں جلد بازی سے کام لیتے ہیں۔
نمبر آٹھ۔۔ ناکام ہونے والے لوگ، ضرورت سے زیادہ محتاط ہوتے ہیں۔ اتنی احتیاط کرتے ہیں، اتنی احتیاط کرتے ہیں، کہ کوئی چانس ہی نہیں لیتے۔کوئی قدم ہی نہیں اٹھاتے کہ کہیں گر نہ جائیں۔ لہذا انہیں وہی ملتا ہے جو دوسروں سے بچ جاتا ہے۔
ناکام ہونے کی نویں وجہ ہے، غلط شعبے کا انتخاب۔ دوسروں کی دیکھا دیکھی کوئی کام شروع کر دیا جائے، تو پہلے پہل تو اس کی سمجھ نہیں آتی۔ جب سمجھ نہیں آتی تو کام سے ہی گھبراہٹ ہونے لگتی ہے۔ پھر، جو کام کرنے میں لطف نہیں آتا، وہ کام کرنے کا دل بھی نہیں کرتا۔ لہذا جو بھی لوگ غلط شعبے میں ٹانگ اڑا بیٹھتے ہیں، ناکام ہی ہوتے ہیں۔
ناکامی کی وجہ نمبر دس ہے، بے دلی: جو کام کرتےہیں، اس پر توجہ نہیں دیتے۔ توجہ نہیں دیتے تو آخر میں ناکامی ملتی ہے۔
ناکامی کی نمبر گیارہ۔۔ علم نہیں حاصل کرتے۔ جو کام کر رہے ہوں، اس کے بارے میں مزید سیکھنے اور مزید جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہ معلوم نہیں کرتے کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں اسے کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے؟
نمبر بارہ۔ وسروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی عادت نہیں ہوتی۔اپنی انا کے خول میں بند رہتے ہیں۔ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ سے بنائی رکھتے ہیں۔ اور ناکام ہو جاتے ہیں۔
نمبر تیرہ پر ہے ناکامی کی سب سے اہم وجہ۔ بددیانتی۔ جو کام بھی دیانت داری سے نہ کیا جائے، جی جان سے نہ کیا جائے، اس کا نتیجہ ناکامی کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔
اگر آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں، اور اس میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، تو اپنے گریبان میں جھانک کر بتائیں۔۔۔ان تیرہ عادتوں میں سے کون کون سی عادت آپ کے اندر موجود ہے۔
کامیابی چاہتے ہیں، تو ناکام لوگوں کی تیرہ عادتوں سے چھٹکارا پا لیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s