جسٹس قاضی فائز کے لیے ایک اور کٹہرا تیار

بابر ستار معروف وکیل ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے کے بعد انہوں نے چند ٹویٹس کی ہیں، جنہیں پڑھنےسے تصویر کا ایک دوسرا (اور بھیانک)رخ سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔
مفاد عامہ کے پیش نظر ، خادم نے ان کاترجمہ کیا ہے (یا کرنے کی کوشش کی ہے)
بابر ستار لکھتے ہیں
قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے پر بطور ایک وکیل اور ایک شہری تبصرہ کروں گا۔ بدقسمتی سے آج جشن منانے کا موقع نہیں ہے۔جس قدر چیزیں تبدیل ہوئیں، درحقیقت اتنی ہی یکساں ہیں۔
آئیں امید کریں کہ اس فیصلے کو سیاہ تاریخ کی تکرار کے طور پر یاد نہ رکھا جائے۔ ایک المیے یا ایک ڈھونگ کے طور پر نہ یاد رکھا جائے۔ یہ فیصلہ درحقیقت مٹھاس میں لپٹی ایک کڑوی گولی ہے۔
پیرانمبر 1 میں قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے ،ریاست کو ان کے خلاف کیس مزید مضبوط بنانے کا ایک اور موقع دیا گیا ہے۔
جس عدالت نے مسز فائز کی جانب سے پیش کردہ منی ٹریل پر اطمینان کا اظہار کیا، اسی عدالت نے اب ایف بی آر کو ان کے اور بچوں کے اثاثوں کی چھان بین کا حکم دےد یا ہے۔
اثاثے بھی وہ، جو 2004 سے 2013کے درمیان بنائے گئے۔ حالاں کہ ، قانوناً، ایف بی آر صرف گزشتہ پانچ سال کےاثاثوں کی تحقیقات کر سکتا ہے۔
وہ مدت گزر چکی، اور اس عدالتی حکم کے بغیر ایف بی آر کبھی بھی یہ تحقیقات نہ کرسکتا تھا۔
جس سپریم کورٹ نے قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کالعدم قرار دیا، اسی سپریم کورٹ نے ان کے خلاف ایک نیا کیس بنا دیا ہے۔
کالعدم قرار نہ دیاجاتا، تو قاضی فائز ایک کمزور ریفرنس کا سامنا کرتے۔ لیکن اب، 75 دن بعد وہ پھر سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہوں گے۔
اور اس دوران حکومت کے زیر اثر ایف بی آر ،اہلیہ کے ریکارڈز کا آڈٹ کرنے اور قاضی فائز کو ملوث کرنے میں آزاد ہو گا۔
ہمارے ٹیکس نظام سے جس کا بھی واسطہ پڑا، وہ جانتا ہے کہ آڈٹ کیسے ہوتے ہیں، اور کسی کو بھی کلین چٹ نہیں ملتی۔
ایف بی آر کو صرف یہ کہنا ہوگا، کہ قاضی فائز کی اہلیہ چھ لاکھ پاؤنڈ کی رقم میں سے، سو پاؤنڈ پر مطمئن نہ کرسکیں ۔ یہ رقم انہیں قاضی فائز عیسیٰ نے دی تھی لیکن ظاہر نہ کی تھی۔ لہذا وہ قصور وار ہیں۔
یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کو 16 سال کے ریکارڈ ایف بی آر کے سامنے پیش کرنے کے لیے کیوں کہا گیا (حالاں کہ قانون صرف پانچ سال کی حد لگاتا ہے)۔
یہ بات بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ جج کی بیوی پرٹیکس آرڈر سپریم جوڈیشل کونسل کو کیوں بھیجا جائے ، کیوں کہ ججز کی بیویاں تو سپریم جوڈیشل کونسل کے دائرہ اختیار میں ہی نہیں آتیں۔
سپریم کورٹ یہ کیسے جانتی ہے کہ ایف بی آر قاضی فائز کی اہلیہ کو کلین چٹ نہیں دے گی؟ اگر کلین چٹ دیتی ہے، تو چیف جسٹس اس پر غور کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کو کیوں کہیں گے (جیسے کہ فیصلے کے پیرا نمبر9 میں لکھا ہے)۔
اگر ایف بی آر مسز فائز عیسیٰ کے ذمہ کچھ واجب الادا ٹیکس نکال بھی لیتا ہے تو اس کا سپریم جوڈیشل کونسل سے کیا تعلق ہے؟کیا تمام ججز کی بیگمات کے بارے میں احکامات چیف جسٹس کو بھیجے جاتے ہیں اور سپریم جوڈیشل کونسل میں پیش کیے جاتے ہیں؟
سپریم کورٹ نے معاملہ کھلا نہیں چھوڑا۔ عدالتی حکم یہ فرض کر رہا ہے کہ ایف بی آر نہ صرف مسز فائز، بلکہ فائز عیسیٰ کو بھی ملوث قرار دے گا۔ لہذا ایف بی آر کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنی تحقیقات چیف جسٹس کے سامنے پیش کرے ، اور چیف جسٹس کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ یہ تحقیقات سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش کرے۔
لہذا، قاضی فائز کے خلاف ایک کیس تیار ہے جو 75دنوں میں پیش کیا جائے گا۔
فیصلے کا پیرا نمبر 10، پیرا نمبر 1 کے الٹ ہے (جس میں ریفرنس کالعدم قرار دیاگیا)۔ کیوں کہ اس میں کہا گیا ہے ، اگر ایف بی آر کوئی رپورٹ جمع نہیں کراتا، تو 100دن میں سپریم جوڈیشل کونسل، از خود نوٹس لے لے گی۔
لہذا اگر حکومت یا ایف بی آر جسٹس فائزاور اہلیہ کے خلاف کچھ بھی تلاش نہ کر سکے، اس کے باوجود جسٹس فائز عیسیٰ وہیں کھڑے ہوں گے جہاں سے یہ معاملہ شروع ہوا۔
عدالتی جواب دہی اور آزادی کی بات نہیں کرتے۔ لیکن کیا کسی بھی سرکاری افسر کو ریاست کے سامنے کھڑا ہونا چاہیے۔ کیا سبق ملتا ہےجب بے داغ شہرت کے مالک سپریم کورٹ کے ایک جج اور اس کے خاندان کا شکارکیا جائے۔ اور جب حکومت ایک کوشش میں ناکام ہو جائے تو اس کے ترکش میں نئے تیر ڈال دیے جائیں۔
پیغام سب کے لیے بہت ہی واضح ہے، سیدھے ہو جاؤ! ورنہ نقصان اٹھاؤ گے۔ بقا چاہتے ہو تو سر جھکانا پڑے گا۔ یہاں قانون کی حکمرانی کی بات نہیں کی جا رہی۔ بادشاہ زندہ باد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s