کمرے میں بیٹھ کر سنائی گئی ٹریول ویڈیو

جس دن نوازشریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں گیارہ سال قید سنائی گئی، اس روز میں سیر کرنے وادی سون سکیسر گیا تھا۔
میرا تعلق ضلع چکوال سے ہے، اور ضلع خوشاب تقریباً پڑوس میں ہی پڑتا ہے اس کے باوجود میں زندگی کے چھتیس سال تک یہ علاقہ دیکھنے سے محروم تھا۔ آخر ایک دن چھٹی کے ساتھ اضافی چھٹی مانگی، جو مل بھی گئی اور سون سکیسر دیکھنے کا ارادہ کر لیا۔ میں روزگار کی وجہ سے لاہور میں مقیم ہوں، تو لاہور سے کلر کہار کا راستہ گوگل کے نقشے کی مدد سے سمجھا۔ انٹرنیٹ کی مدد سے ہی وہاں موجود ہوٹلز کے بارے میں کچھ آگاہی لی۔ ایک جگہ فون پر بات کر کے نرخ وغیرہ بھی پوچھ لیے ۔ یعنی ہوم ورک مکمل کیا اور نکل کھڑے ہوئے۔
ان دنوں محکمہ زراعت کا بہت چرچا تھا۔
معاملہ یوں ہے کہ دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات ہونے والے تھے۔سیاسی اور قانونی محاذ پر بہت گہماگہمی تھی۔ کچھ وفاداریاں تبدیل ہو رہی تھیں، کچھ کرائی جا رہی تھیں۔ ملک کے ایک حساس ادارے پر الزام لگایا جا رہا تھا کہ وہ انتخابات میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا چاہتا ہے۔
انہی دنوں ملتان سے ن لیگ کے امیدوار صوبائی اسمبلی رانا سراج اقبال نے ایک پریس کانفرنس کی اور الزام لگایا کہ حساس ادارے کے اہل کاروں نے انہیں مارا پیٹا ہے اور ن لیگ چھوڑنے پر مجبور کیا ہے۔
یہ بیان بہت ہی زیادہ گردش کرنے لگ پڑا۔جو لوگ اب تک حساس ادارے پر صرف الزام لگا رہے تھے وہ کہنے لگے کہ دیکھ لیں ، اب تو گواہی بھی مل گئی ہے۔
لیکن ہوا یہ کہ رانا سراج اقبال صاحب اپنے پہلے بیان سے انکاری ہو گئے۔ اور کہا کہ انہیں غلط فہمی ہو گئی تھی۔ ان پر تشدد کرنے والے حساس ادارے کے لوگ نہیں تھے۔ محکمہ زراعت کے لوگ تھے۔
بیان کے اس بدلاو نے ہر جگہ محکمہ زراعت کا بول بالا کر دیا۔ سمجھنے والے تو سب سمجھتے ہیں۔ اب لوگوں کی زبانیں کون بند کرا سکتا ہے۔ خیر بند تو کرائی جا سکتی ہیں زبانیں۔ لیکن شرارتی لوگ اس طرح کی باتیں کہنے لگے کہ چوں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اسے محکمہ زراعت ہی چلاتا ہے۔ اور محکمہ زراعت ہی فیصلے کرتا ہے کہ یہ وقت جمہوری فصل کے لیے مناسب ہے یا نہیں۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔
وادی سون سکیسر کے سفر میں ایک جگہ مجھے محکمہ زراعت کے دفتر کا بورڈ نظر آیا، تو میرے دماغ میں وہی ساری کہانی دوبارہ گھوم گئی۔ میں نے گاڑی روکی اور فٹ سے اس بورڈ کی فوٹو کھینچ لی۔
دوپہر کے وقت ہم وادی سون سکیسر کی کھبےکی جھیل پہنچے۔ وہاں جھیل کنارے ہی محکمہ سیاحت والوں کا ہوٹل ہے۔ ان سے کھانا لانے کی درخواست کی۔ وہاں کاونٹر پر موجود دو لڑکے موبائل فون پر کسی ٹیلی وژن چینل کی خبریں سن رہے تھے۔ ہمارا کھانا آنے تک نوازشریف کے خلاف عدالت کا فیصلہ بھی آ گیا۔ انہیں گیارہ برس کی سزا سنائی گئی تو کاؤنٹر پر موجود لڑکے خاصے خوش دکھائی دیے۔
کھانا ختم کرنے اور چائے آنے کے وقفے میں ان سے گفتگو ہوئی تو کہنے لگے بہت اچھا فیصلہ آیا ہے۔ کرپٹوں کو سزا ملنی چاہیے۔
میں نے کہا اچھا یہ بتائیےکیا یہاں رات ٹھہرنے کا بندوبست ہے۔
جواب ملا، پانچ ہزار روپے پر کمرے مل جائیں گے۔
میں نے انٹرنیٹ کے ذریعے جس ہوٹل سے رابطہ کیا تھا، ان کا ایک روز کا کرایہ ایک ہزار روپے تھا۔ ساتھ میں دو عدد اضافی گدے دینے کا بھی وعدہ تھا۔ توکھبے کی جھیل اور اردگرد کا علاقہ پھرنے کے بعد رات قیام کے لیے وہیں جا پہنچے۔ وہاں گاڑی کے لیے الگ سے دروازہ تھا۔ جہاں سے داخل ہوکر ایک احاطے میں گاڑی پارک کی۔
ارادہ یہ کیا کہ اگلے روز صبح سویرے ہوٹل سے نکلیں گے ۔ دیگر قابل دید مقامات دیکھیں گے اور واپسی کی راہ لیں گے۔ صبح جب گاڑی نکالنے پہنچا تو دروازے پر بڑا سا تالہ لگا تھا۔ ریسپشن پر آیا تو وہاں کوئی بندہ ہی نہیں تھا۔جس فون نمبر پر ایک روز پہلے رابطہ ہوا تھا، وہ نمبر ملانا شروع کیا تو کوئی اٹھائے ہی نہ۔جب تک دروازے کی چابی ملی اور گاڑی نکالی تب تک منصوبے سے کوئی دو گھنٹے لیٹ ہو چکے تھے۔
اور بھوک لگنا بھی شروع ہو گئی تھی۔ لیکن ہمیں کیا معلوم تھا کہ آگے ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔
ہوٹل کے نیچے ہی ایک جگہ ناشتہ بن رہا تھا۔ اسے کہا کہ کچھ کھلا دو۔ پتہ نہیں اسے سمجھ نہیں آئی یا کیا ہوا کہ آدھا گھنٹہ انتظار کرنے کے بعد بھی اس نے ناشتہ نہ دیا۔ توہم بے زار ہو کر آگے بڑھ گئے۔ آگے جا کر غالباً اوچھالی جھیل دیکھی۔ اور راستہ بھر کوئی ایسی جگہ بھی ڈھونڈتے رہے جہاں سے ناشتہ مل سکے۔ کیوں کہ وقت گزر رہا تھا اور بھوک بڑھ رہی تھی۔
اوچھالی جھیل تک کہیں ناشتہ نہ ملا۔ واپسی پر سوچا کہ کھبے کی جھیل پر محکمہ سیاحت کے اسی ہوٹل سے ناشتہ کر لیں گے جہاں سے کھانا کھایا تھا۔
وہاں پہنچے تو انہوں نے کہا ہمارا باورچی تاخیر سے آئے گا۔
وہیں ایک اور ہوٹل بھی ہے جو ذرا اونچائی پر ہے اور جہاں بیٹھ کر کھبے کی جھیل نظر بھی آتی ہے۔ وہاں گئے، ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ آپ کا باورچی ہے، انہوں نے کہا جی ہے۔ پوچھا ناشتہ بنا کر دے گا۔ جواب ملا بالکل دے گا۔ تو ان سے کہا کہ انڈا پراٹھا کھلا دیجیے،ساتھ چائے بھی پلا دیجیے۔ انہوں نے کہا بیٹھیے۔ وہاں بیٹھ کر ناشتے کا انتظار کرتے دس پندرہ منٹ گزرے ہوں گے کہ ہوٹل کا لڑکا پاس آ کربولا۔ آپ کو ناشتہ نہیں مل سکے گا، ہمارے ہاں آٹا ہی ختم ہو گیا ہے۔
انہیں جلی کٹی سنا کروہاں سے روانہ ہوئے۔ اب ذہن میں آئی کہ بس سیدھے کلر کہار جاتے ہیں۔ وہاں بھی محکمہ سیاحت والوں کا ہوٹل ہے۔
کلر کہار پہنچے تو بارہ بج رہےتھے۔ گھڑی پر بھی،ہمارے چہروں پر بھی۔ ان سے کہا کھانا کھلا دیجیے۔ وہ کہنے لگے ابھی تو بارہ بجے ہیں، ہم تو دوپہر ڈیڑھ بجے کھانا شروع کرتے ہیں۔
یہاں سے بھی نا مراد نکلے۔ اب وہ حالت ہو گئی تھی کہ گردوپیش میں کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ بس خواہش تھی کہ کوئی کھانا کھلا دے۔ کلر کہار سے موٹروے پر چڑھے۔ ذہن میں تھا کہ کلر کہار سروس ایریا سے کچھ کھا لیں گے۔ پتہ چلا کہ جہاں سے آپ موٹروے پر چڑھتے ہیں کلر کہار کا سروس ایریا اس سے پیچھے رہ چکا ہوتا ہے۔
خیر جناب، خدا خدا کر کے بھیرہ کے سروس ایریا پہنچے۔ وہاں کھانے کا آرڈر دیا۔ اور کیا مزے دار کھانا تھا وہ۔ صبر کا پھل کتنامیٹھا نکلتا ہے، اندازہ اس روز ہوا۔
کھانا کھا کر نکلے تو لاہور پہنچ کر دم لیا۔ کتنا ہی وقت گزر چکا ہے ، لیکن وادی سون سکیسر کی یاد اب بھی دل میں چٹکیاں کاٹتی ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s