آخر ہم کرنا کیا چاہتے ہیں؟

یہ وہ سوال ہے جو ہم اکثر خود سے کرتے ہیں، اور کبھی اس کا شافی جواب نہیں پاتے۔ تبھی ہم نے گوگل کی معرفت کچھ سیانوں سے مشورہ لینے کا فیصلہ کیا۔
سوال سادہ سا ہے، ایسا کیا کیا جائے جو من کو بھی بھائے اور پیسے بھی چوکھے کمائے؟ بابا گوگل نےجن بُدھی دانوں کے خیالات ہم تک پہنچائے، وہ جان کر تھوڑی مایوسی ہوئی۔ یہ عاقل کہتے ہیں کام کوئی بھی کرو، کمائی کا مت سوچو۔ بس جو جی میں آئے وہ کرو، کرتے چلے جاؤ، کمائی کی صورت آپ ہی پیدا ہو جائے گی۔
بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی!
جب تک کچھ یافت ہو گی تب تک پاپی پیٹ کا کیا بندوبست ہو؟  کوئی ٹائم فریم بھی تو ہونا چاہیے نا۔اور جی میں بھی کوئی ایک خیال تھوڑی آتا ہے۔  یہ دانا فرماتے ہیں چار پانچ مشقیں کیجیے، آپ کی زندگی کا مقصد خود سامنے آن کھڑا ہو گا۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

کیا میں کامیاب ہوں؟

یار میں تنگ آ گیا ہوں۔۔۔ اس نے تھکے تھکے انداز میں کی بورڈ پر انگلیاں چلاتے ہوئے کہا۔
کس چیز سے تنگ آ گئے ہو؟ میں نے فطری سا سوال پوچھا۔
یہی نا۔۔۔ اب دیکھو یہ بھی کوئی کام ہے جو میں کر رہا ہوں۔ اسے شاید مجھ سے کسی سوال کی توقع نہ تھی۔
پھر تم کون سا کام کرنا چاہتے ہو؟ میں نے مزید دلچسپی لی۔
اس نے تھوڑا سا سوچا، جیسے کچھ سوجھ نہ رہا ہو، پھر کہنے لگا، "یار کام تو یہی ٹھیک ہے، لیکن میری تنخواہ بھی تو دیکھو۔”
یعنی تمہاری تنخواہ بڑھا دی جائے تو اسی کام میں زیادہ دلچسپی لینے لگو گے؟ میرے سوال پر اس نے اثبات میں سر تو ہلایا لیکن چہرے کے تاثرات بتاتے تھے گویا اپنی ہی بات پر یقین نہ ہو۔
جس دوست سے یہ گفتگو ہوئی وہ ایک مناسب دفتر میں مناسب تنخواہ پر کام کر رہا ہے۔ دفتر لانا اور واپس لے جانا بھی انتظامیہ کے ذمے ہے، ایک حد تک طبی سہولیات بھی ادارہ ہی فراہم کرتا ہے۔۔۔ گویا اس کی نوکری بہت سوں کے لیے بہت مثالی ہے لیکن وہ خود اس سے بھی بڑھ کر کچھ چاہتا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

کوئی دوسرا چھاپتا ہے تو چھاپ دے

ماں کے عالمی دن پر کالم نگار عبدالقادر حسن نے اپنے کالم میں لکھا۔۔۔
جب میں اپنے اخباروں میں ماں کی بے حرمتی کی خبریں پڑھتا ہوں تو کانپ جاتا ہوں کہ ہمارا معاشرہ کس سمت جا رہا ہے۔ اب تو یہ خبر چھپتی ہے کہ ماں نے بیٹے کو نشے یا جوئے کے لیے رقم دینے سے انکار کیا تو بیٹے نے ماں کو قتل کر دیا۔ جس معاشرے میں ماں کی یہ اوقات باقی رہ جائے اس میں اور کیا کچھ نہیں ہو گا۔ مجھے یاد ہے کہ برسوں پہلے، رپورٹنگ کے ابتدائی زمانے میں پہلی بار یہ خبر ملی کہ کسی بیٹے نے ماں کو قتل کر دیا ہے۔ میں یہ خبر لے کر گھبرا گیا کہ اب اس خبر کا کیا کروں، اسے چھاپوں یا دبا دوں۔ یہ بھی ڈر تھا کہ کوئی دوسرا اخبار اس کو چھاپ دے گا۔ چنانچہ اسی پریشانی میں ایڈیٹر کے پاس گیا اور بتایا کہ نظامی صاحب یہ خبر ہے کیا کریں۔
ایڈیٹر کو اپنی والدہ ماجدہ یاد آ گئی یا کیا ہوا کہ وہ بالکل چپ ہو گئے۔ تھوڑی دیر بعد کہا کہ خبر کو ضایع کر دیں کوئی دوسرا چھاپتا ہے تو چھاپتا رہے، ہم یہ جرأت نہیں کر سکتے۔

نتیجہ

پیارے ابو۔۔۔
مجھے یقین تھا آپ کو میری نئی دوست پسند نہیں آئے گی، خاص طور پر اس کا مختصر لباس اور جھانکتے بدن پر بنے ٹیٹو۔ آپ نے یہ بھی کہنا تھا وہ عمر میں تم سے بہت بڑی ہے۔ لیکن ابو، عشق میں یہ باتیں نہیں دیکھی جاتیں۔ مجھے تو بس وہی اچھی لگتی ہے، اس لیے میں اس کے ساتھ گھر سے بھاگ گیا ہوں۔
آپ کو پتہ ہے، اس کے ساتھ رہ کرتو منشیات بھی زیادہ نشہ آور لگتی ہیں۔جب ہم دونوں دم لگاتے ہیں تو دنیا اور بھی حسین لگنے لگتی ہے۔میں تو یہ بھی  سوچ رہا ہوں کہ پیٹ پالنے کے لیے منشیات کا کاروبار ہی شروع کر دوں۔ابھی اس کا بھائی اسمگلنگ کے الزام میں جیل کاٹ رہا ہے، چھٹ کر آگیا تو اس کام میں بھی ہاتھ ڈالوں گا۔ امید ہے معاشی مسائل کافی حد تک حل ہو جائیں گے۔ پڑھنا جاری رکھیں

عمران خان کا بھانجا

برطانوی اخبار گارڈین پر7 مارچ 2014 کی  چھپی ایک خبر ہاتھ لگی ہے۔عمران خان کے بھانجے کے بارے میں خبر پڑھ کر وہ محاورہ یاد آگیا،” باپ پر پوت، پتا پر گھوڑا، بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا۔”
معاملہ کچھ یوں ہے کہ عمران خان کے بھانجے حسن نیازی سٹی یونیورسٹی لندن میں زیر تعلیم تھے، اور طلبہ یونین کے صدر کا انتخاب لڑ رہے تھے۔
حسن نیازی نے بلاول بھٹو کے خلاف ٹویٹ میں نازیبا زبان استعمال کی (جیسے ان کے ماموں اپنے جلسوں میں سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرتے ہیں)۔لیکن برطانیہ میں اس بات پر کڑی تنقید ہوئی اور وہ الیکشن ہار گئے۔
اصل خبر یہ نہیں۔ پڑھنا جاری رکھیں

فلسطین کےنوحےمیں ایک نقطہ یہ بھی

فلسطینیوں پرٹوٹنےوالےمظالم انسانیت سوزہیں۔ اس پراسلامی برادری کی خاموشی مزیدافسوس ناک ہے۔فیس بک پر اپنے دفتری ساتھی فیصل وڑائچ کی یہ پوسٹ پڑھی تو شیئرکیے بنا نہ رہ سکا۔ وہ لکھتے ہیں
کسی کادل دکھےتومعاف کرنا
فلسطینیوں کےساتھ ظلم عظیم ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اس کے مشرق میں داعش جیسی لڑاکا تنظیم اسرائیل سے بارہ گنے بڑے رقبے پر قبضہ کر چکی ہے۔ اور علامہ اقبال کے خواب سےبڑی اسلای سلطنت کا نقشہ جو انڈونیشیا سے سپین تک پھیلا ہوا ہے جاری کر چکی ہے۔ خون میں لتھڑے بےگناہ اور پھولوں سے معصوم بچوں کی تصویریں میں ایک بار پھر ایسے وقت میں دیکھ رہا ہوں جب غزہ کے شمال مشرق میں القاعدہ اور اس کی حامی مسلم فورسز شامی فوج کو ناکوں چنے چبا کر اسرائیل کے سائز سے ڈیڑھ گنا رقبے پر تسلط جما چکی ہے۔ معصوم بچوں کا قتل عام اس وقت ہو رہا ہے جب فلسطین کے جنوب میں مصر پر مسلح افواج کی حکومت ہے جن کی طاقت اخوان پر استعمال ہوتے سب نے دیکھی۔ یہ وہ وقت ہے جب غزہ کے جنوب مشرق میں دنیا کی چوتھی بڑی معاشی طاقت اور پہلی بڑی تیلی طاقت سعودی عرب امریکہ کا بیسٹ فرینڈ موجود ہے اور ایک لاکھ فوج اور طیارے مغربی بارڈ پر عراقی جنگجوؤں سے بچاؤ کیلئے کھڑی کر چکاہے۔ اس وقت بھی جب آُپ یہ سطریں پڑھ رہے ہیں اور میں لکھ رہا ہوں دس لاکھ سے زیادہ افراد طواف بیت اللہ کرتے ہوئے سعودی زرمبادلہ میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں یا بننے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب فلسطین کے جنوب میں واقع صحرائے صحارا میں اسرائیل سے پانچ گنا بڑے رقبے پر باکوحرام نے اپنے تئیں شریعت نافذ کر رکھی اور اسرائیل کے سوا تمام دنیا پر خلافت قائم کرنے کے دعوے وہ بم دھماکے کر کے کرتے رہتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب دنیا کی پہلی دس بڑی معاشی طاقتوں میں شامل ترکی اسی ظالم اسرائیل کے جنوب مغرب میں موجود ہے۔ جس کے بحری بیڑے جب بحیرہ روم میں نکلتے ہیں تو فرانس کے سوا بحیرہ روم کے کنارے کنارے بسنے والا ایک ملک بھی اس سے آنکھ نہیں ملا پاتا۔ معصوم بچوں کی خون میں لت پت تصویریں دیکھتے ہی کلیجہ پھٹنے لگتا ہے لیکن میں کیا کروں بچپن سے مسلمانوں کو مسلمانوں کا خون بہاتا دیکھتا آیا ہوں اور جس میں کبھی کبھی غیر بھی پنجہ آزمائی کرتے ہیں