او کچھ نہیں ہوتا

او کچھ نہیں ہوتا!
یہ جو جملہ ہے نا، بڑے عجیب انداز سے ہمارے مزاج کا حصہ ہے۔ کہیں تو ہم بہت ہی گھمبر بات کو، او کچھ نہیں ہوتا، کہہ کر ٹال جاتے ہیں۔ اور کہیں بہت ہی معمولی سی بات پر بھی یہ جادوئی جملہ نہیں بولتے۔
آپ کے ہاں مہمان آئے ہیں۔۔۔ انہیں شوگر ہے ۔۔۔ آپ انہیں شربت، کولڈ ڈرنک یا جوس پیش کرتے ہیں
وہ کہیں گے۔۔۔ آئی ایم ساری مجھے شوگر ہے
تو اکثر لوگوں کا یہ جواب ہوتا ہے
او ایک گلاس سے کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ او پی جائیں، شوگر ووگر کچھ نہیں کہتی۔ یعنی اگلے بندے کی صحت اور زندگی داؤ پر ہے، پھر بھی انہیں کہا جاتا ہے، او کچھ نہیں ہوتا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

مچھر طبیعت لوگ

جب بھی سردیاں آنے والی ہوں، یا جانے والی ہوں۔۔۔ مچھر نامی مخلوق کا راج قائم ہوتا ہے۔ ذرا کھڑکی کھلی رہ گئی تو غول کا غول کمرے میں در آتا ہے۔ آپ سوتے ہیں تو یہ کان میں آ کر بھنبھناتا ہے، آپ کو غافل پا کر آپ کا خون چوستا ہے۔ جس کی وجہ سے آپ کو خارش ہوتی ہے۔ آپ ہڑبڑا کر کھجاتے ہیں اور کروٹ بدل کر پھر سو جاتے ہیں۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ مچھر پلٹ پلٹ کر حملے کرتے ہیں اور آپ کی ساری رات کھجانے اور کروٹیں بدلنے میں گزر جاتی ہے۔ صبح کسل مندی ہوتی ہے لیکن زندگی کے معمولات شروع کرتے ہی آپ مچھروں سے رات بھر کی لڑائی بھول جاتے ہیں۔
کبھی کبھی مچھروں سے جنگ کی بدمزگی آپ کے چہرے پر بھی دکھتی ہے اور کوئی پوچھ بیٹھتا ہے، "خیر ہے، مضمحل کیوں ہو؟” تو آپ کندھے اچکاتے ہیں اور لاپروائی سے جواب دیتے ہیں، "کچھ نہیں، رات مچھر بہت تھے۔”
بس اتنی سی اہمیت ہوتی ہے مچھر کی آپ کی زندگی میں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

مسلم لیگ ن کو کیوں ووٹ دیا جائے؟

انتخابات 2018 میں مسلم لیگ ن بھی عوام کے ووٹوں کی طلب گار ہے۔ مگر کیوں؟ صاحب، کچھ کیا ہوتا تو ووٹ مانگنے ہی نہ پڑتے۔ عوام کارکردگی دیکھ کر دیوانہ وار شیر پر ٹھپے لگاتے چلے جاتے۔
آخر آپ میں کچھ کمی تو ہے جو لوگ تحریک انصاف کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوئے۔ ہاں ہاں، کہہ دیجیے تحریک انصاف کے درجات کی بلندی میں کچھ خلائی ہاتھوں اور امپائروں نے بھی کام کیا۔ لیکن مسلم لیگ ن نے پانچ سال حکمرانی کی ہے۔ جواب دہی تو بنتی ہے۔
سب سے پہلے تو بات کرپشن الزامات کی۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

عمران خان کو ووٹ کیوں دیا جائے؟

صاحب، مان لیا نواز شریف اور آصف زرداری کرپٹ ہیں۔ عمران خان ان کے مقابلے میں دودھ کے دھلے ہیں۔ کیا ہوا جو کرپشن الزامات میں گندھے الیکٹ ایبلز کو ساتھ ملا لیا۔ الیکٹ ایبل نہ ہو تو بندہ کس کے کندھے پر چڑھ کر اقتدار کی کرسی تک پہنچے؟ جب خان خود کوئی کرپشن نہیں کرتا تو انہیں بھی نہ کرنے دے گا۔
کیا کہا؟ عمران خان نے اسٹیٹس کو کے خلاف کھڑے ہونے کا نعرہ دیا تھا؟ جی کیا کیجیے۔ خالی خولی نعروں سے تو نہیں ملتی نا وزارت عظمیٰ۔ اقتدار کے مرکز پر قبضہ کیے بغیر تبدیلی بھی تو ممکن نہیں۔ جب طاقت مل گئی تو معاملات اسٹیٹس کو کے مطابق نہیں، اس کے خلاف چلائے جائیں گے۔
اب آپ سوال کریں گے کہ عمران خان نے دوران سفر سمجھوتہ کر لیا، کو پڑھنا جاری رکھیں

عمران خان کو ذاتی خوشی کیوں نہ ملی؟

"کچھ سالوں کے سوا، میں ساری زندگی ذاتی خوشی سے محروم رہا۔ اپنے خیر خواہوں اور چاہنے والوں سے صرف ایک بات کی درخواست 26220141_1961832510499819_3736019385328739801_nہے، دعا کریں مجھے ذاتی خوشی مل جائے۔”
عمران خان کی یہ ٹویٹ مسلسل مجھے ہانٹ کر رہی ہے۔ میں انہیں زندگی کے کئی حوالوں سے کامیاب سمجھتا ہوں۔ اور میرا خیال تھا کہ کامیابی ہی خوشی لاتی ہے۔ عمران خان ایک کامیاب کھلاڑی رہے، شوکت خانم اسپتال جیسا شاندار منصوبہ کامیابی سے شروع کیا، تکمیل تک پہنچایا اور اسے کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ سیاست میں طویل جدوجہد کی اور پھر خیبر پختونخوا حکومت کی صورت (جزوی ہی سہی) کامیابی حاصل کی۔ خیبر پختونخوا حکومت کے پانچ سال میں یقیناً کئی ایسے منصوبے ہوں گے جو کامیاب ہوئے ہوں گے یا کامیابی کے مراحل میں ہوں گے۔
لوک حکمت میں ایک بات مشہور ہے، کہ خوشی بانٹنے سے ملتی ہے۔ یعنی اگر آپ دوسروں کی خوشیوں کا سامان کریں گے تو آپ کو ذاتی خوشی ملے گی۔ اس میزان پر بھی عمران خان کا پلڑا بھاری ہے۔ ان کے اسپتال سے کتنے لوگوں کو شفا یاب ہونے کی خوشی ملی۔ کھیلوں میں ان کی فتح نے تو پورے پاکستان کو خوشیاں دیں۔ ان کی سیاسی کامیابیاں بھی ان کے چاہنے والوں کے لیے خوشیوں کا باعث بنیں۔ پانامہ پیپرز میں نواز شریف کا نام آنے کے بعد ان کے خلاف مہم شروع کی اور منصب سے ہٹا کر ہی دم لیا۔ یہ بات بھی بہت سے لوگوں کی خوشی کا باعث بنی۔ گویا عمران خان خوشیاں بھی بانٹتے رہے ہیں اور اس کے باوجود ذاتی خوشی سے محروم ہیں۔
لوک حکمت کے تحت ہی یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ جس نے حرام مال کمایا اسے کبھی سکھ نصیب نہیں ہوتا۔ حلال کمائی کی مد میں تو عمران خان عدالت عالیہ سے سند حاصل کر چکے ہیں۔
تو گویا لوک حکمت کو جھٹلا دیا جائے؟
کامیابی کے عمومی حوالوں سے بھی عمران خان کامران ہیں۔ انہیں پیسے کا کوئی مسئلہ نہیں۔ اسلام آباد میں ان کی بہت ہی وسیع رہائش گاہ ہے۔ ایسی رہائش گاہ جو جمالیاتی ذوق نہ رکھنے والے شخص کو بھی متاثر کرے۔ جس کے گرد جنگل ہو۔ جس کے برآمدے سے راول جھیل نظر آتی ہو۔ اس کے علاوہ لاہور میں بھی اپنا گھر رکھتے ہیں۔ بیرون ملک سفر پر بھی کوئی قدغن نہیں۔ جب چاہیں جہاں چاہیں آ جا سکتے ہیں۔
پھر کیا وجہ ہے کہ انہیں ذاتی زندگی میں خوشی نہیں ملی؟
ان کی ذاتی زندگی کے جتنے حوالے سامنے آئے، اس میں وہ کوئی بہت مشکل انسان نظر نہیں آتے۔ جو مل جاتا ہے پہن لیتے ہیں، جیسا مل جاتا ہے کھا لیتے ہیں۔ جب وہ (غالباً اپنی پیرنی کے کہنے پر) پہاڑی علاقوں میں بسیرا کیے ہوئے تھے، اس وقت ان کے کئی میڈیا انٹرویوز ہوئے۔ سبھی میں وہ ایک ہی ٹریک سوٹ پہنے نظر آتے۔ گویا لباس تبدیل کرنے کی بھی زیادہ پروا نہیں کرتے۔ ایسے انسان کو درویش منش کہا جاتا ہے۔ اور درویش تو خوش رہتے ہیں۔
کیا عمران خان اس وجہ سے ناخوش ہیں کہ ان کی شادیاں ناکام ہوئیں؟ کیا اس کی وجہ دوسرا فریق تھا یا عمران خان خود؟ سیاسی جلسوں میں عمران خان اپنی بداخلاقی کی وجہ سے مشہور ہیں۔ کیا وہ یہی بداخلاقی ذاتی زندگی میں تو روا نہیں رکھتے۔ اگر ایسا ہی ہے تو شادیوں میں ناکامی کے ذمہ دار وہ خود ہیں۔ ویسے تو لوک حکمت میں اخلاق سے بات کرنے کو احسن کہا گیا ہے، اور خوش اخلاق لوگوں کو عموماً خوش ہی دیکھا گیا ہے۔ خوش اخلاقی کے ساتھ ساتھ بااخلاق ہونے کو بھی افضل سمجھا جاتا ہے۔ ذاتی زندگی گناہوں سے آلودہ نہ ہو تو بھی ذاتی خوشی حاصل رہتی ہے۔ غالب امکان ہے گناہوں کے معاملے میں عمران خان کا دامن خشک ہی ملے گا۔
عمران خان صاحب! ذاتی زندگی میں خوشی آپ کو اپنی ذات کے آس پاس ہی ملے گی۔ اسے تلاش کیجیے۔ اگر وہ آپ سے دور ہے تو اس کی وجوہات بھی خود میں ہی کھوجیے۔ خود سے سوال کیجیے، آپ کا جواب ہی آپ کو ذاتی خوشی کے قریب لے جائے گا۔
عمومی حوالوں سے کامیاب زندگی گزارنے والا شخص اس عمر میں کتنے دکھ سے کہہ رہا ہے کہ کچھ سالوں کے سوا اسے کبھی ذاتی خوشی نہیں ملی۔ عمران خان کا یہ جملہ مسلسل مجھے ہانٹ کر رہا ہے۔ دعا ہے اللہ جی ان کا دامن خوشیوں سے بھر دیں۔

 

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی شادی کی اندرونی کہانی