عمران خان کو ذاتی خوشی کیوں نہ ملی؟

"کچھ سالوں کے سوا، میں ساری زندگی ذاتی خوشی سے محروم رہا۔ اپنے خیر خواہوں اور چاہنے والوں سے صرف ایک بات کی درخواست 26220141_1961832510499819_3736019385328739801_nہے، دعا کریں مجھے ذاتی خوشی مل جائے۔”
عمران خان کی یہ ٹویٹ مسلسل مجھے ہانٹ کر رہی ہے۔ میں انہیں زندگی کے کئی حوالوں سے کامیاب سمجھتا ہوں۔ اور میرا خیال تھا کہ کامیابی ہی خوشی لاتی ہے۔ عمران خان ایک کامیاب کھلاڑی رہے، شوکت خانم اسپتال جیسا شاندار منصوبہ کامیابی سے شروع کیا، تکمیل تک پہنچایا اور اسے کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ سیاست میں طویل جدوجہد کی اور پھر خیبر پختونخوا حکومت کی صورت (جزوی ہی سہی) کامیابی حاصل کی۔ خیبر پختونخوا حکومت کے پانچ سال میں یقیناً کئی ایسے منصوبے ہوں گے جو کامیاب ہوئے ہوں گے یا کامیابی کے مراحل میں ہوں گے۔
لوک حکمت میں ایک بات مشہور ہے، کہ خوشی بانٹنے سے ملتی ہے۔ یعنی اگر آپ دوسروں کی خوشیوں کا سامان کریں گے تو آپ کو ذاتی خوشی ملے گی۔ اس میزان پر بھی عمران خان کا پلڑا بھاری ہے۔ ان کے اسپتال سے کتنے لوگوں کو شفا یاب ہونے کی خوشی ملی۔ کھیلوں میں ان کی فتح نے تو پورے پاکستان کو خوشیاں دیں۔ ان کی سیاسی کامیابیاں بھی ان کے چاہنے والوں کے لیے خوشیوں کا باعث بنیں۔ پانامہ پیپرز میں نواز شریف کا نام آنے کے بعد ان کے خلاف مہم شروع کی اور منصب سے ہٹا کر ہی دم لیا۔ یہ بات بھی بہت سے لوگوں کی خوشی کا باعث بنی۔ گویا عمران خان خوشیاں بھی بانٹتے رہے ہیں اور اس کے باوجود ذاتی خوشی سے محروم ہیں۔
لوک حکمت کے تحت ہی یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ جس نے حرام مال کمایا اسے کبھی سکھ نصیب نہیں ہوتا۔ حلال کمائی کی مد میں تو عمران خان عدالت عالیہ سے سند حاصل کر چکے ہیں۔
تو گویا لوک حکمت کو جھٹلا دیا جائے؟
کامیابی کے عمومی حوالوں سے بھی عمران خان کامران ہیں۔ انہیں پیسے کا کوئی مسئلہ نہیں۔ اسلام آباد میں ان کی بہت ہی وسیع رہائش گاہ ہے۔ ایسی رہائش گاہ جو جمالیاتی ذوق نہ رکھنے والے شخص کو بھی متاثر کرے۔ جس کے گرد جنگل ہو۔ جس کے برآمدے سے راول جھیل نظر آتی ہو۔ اس کے علاوہ لاہور میں بھی اپنا گھر رکھتے ہیں۔ بیرون ملک سفر پر بھی کوئی قدغن نہیں۔ جب چاہیں جہاں چاہیں آ جا سکتے ہیں۔
پھر کیا وجہ ہے کہ انہیں ذاتی زندگی میں خوشی نہیں ملی؟
ان کی ذاتی زندگی کے جتنے حوالے سامنے آئے، اس میں وہ کوئی بہت مشکل انسان نظر نہیں آتے۔ جو مل جاتا ہے پہن لیتے ہیں، جیسا مل جاتا ہے کھا لیتے ہیں۔ جب وہ (غالباً اپنی پیرنی کے کہنے پر) پہاڑی علاقوں میں بسیرا کیے ہوئے تھے، اس وقت ان کے کئی میڈیا انٹرویوز ہوئے۔ سبھی میں وہ ایک ہی ٹریک سوٹ پہنے نظر آتے۔ گویا لباس تبدیل کرنے کی بھی زیادہ پروا نہیں کرتے۔ ایسے انسان کو درویش منش کہا جاتا ہے۔ اور درویش تو خوش رہتے ہیں۔
کیا عمران خان اس وجہ سے ناخوش ہیں کہ ان کی شادیاں ناکام ہوئیں؟ کیا اس کی وجہ دوسرا فریق تھا یا عمران خان خود؟ سیاسی جلسوں میں عمران خان اپنی بداخلاقی کی وجہ سے مشہور ہیں۔ کیا وہ یہی بداخلاقی ذاتی زندگی میں تو روا نہیں رکھتے۔ اگر ایسا ہی ہے تو شادیوں میں ناکامی کے ذمہ دار وہ خود ہیں۔ ویسے تو لوک حکمت میں اخلاق سے بات کرنے کو احسن کہا گیا ہے، اور خوش اخلاق لوگوں کو عموماً خوش ہی دیکھا گیا ہے۔ خوش اخلاقی کے ساتھ ساتھ بااخلاق ہونے کو بھی افضل سمجھا جاتا ہے۔ ذاتی زندگی گناہوں سے آلودہ نہ ہو تو بھی ذاتی خوشی حاصل رہتی ہے۔ غالب امکان ہے گناہوں کے معاملے میں عمران خان کا دامن خشک ہی ملے گا۔
عمران خان صاحب! ذاتی زندگی میں خوشی آپ کو اپنی ذات کے آس پاس ہی ملے گی۔ اسے تلاش کیجیے۔ اگر وہ آپ سے دور ہے تو اس کی وجوہات بھی خود میں ہی کھوجیے۔ خود سے سوال کیجیے، آپ کا جواب ہی آپ کو ذاتی خوشی کے قریب لے جائے گا۔
عمومی حوالوں سے کامیاب زندگی گزارنے والا شخص اس عمر میں کتنے دکھ سے کہہ رہا ہے کہ کچھ سالوں کے سوا اسے کبھی ذاتی خوشی نہیں ملی۔ عمران خان کا یہ جملہ مسلسل مجھے ہانٹ کر رہا ہے۔ دعا ہے اللہ جی ان کا دامن خوشیوں سے بھر دیں۔

 

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی شادی کی اندرونی کہانی

Advertisements

چلیے سازشی نظریات گھڑتے ہیں

بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں ‘ایک قوت’ فیصلہ کر چکی تھی کہ نواز شریف کو گھر بھیجنا ہے۔ سپریم کورٹ نے تو بس اس فیصلے پر اپنے دست خط کیے ہیں۔
پانامہ کیس اربوں روپے کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کا تھا، لیکن نواز شریف کو سزا چند لاکھ کے اثاثے چھپانے پر سنائی گئی ہے۔ یہ چند لاکھ بھی وہ ہیں جو وصول ہی نہیں کیے گئے۔
اثاثے کی تعریف بھی توجہ طلب ہے۔ اگر میں نے کسی کے لیے کچھ خدمات سرانجام دیں۔ اب اس فرد نے مجھے رقم کی ادائیگی کرنی ہے لیکن تاحال کی نہیں۔ تو کیا وہ رقم، جو ابھی ملی ہی نہیں، میرا اثاثہ ہے؟
کسی چیز کو چھپایا اس صورت جاتا ہے جب سامنے آنے سے نقصان ہو۔ نواز شریف دبئی کمپنی میں چیئرمینی تسلیم کر چکے تھے، تنخواہ وصولی بھی تسلیم کر لیتے تو کچھ پکڑ نہ ہوتی۔ لہذا غیر وصول شدہ آمدن ظاہر نہ کرنے میں غلطی تو ہو سکتی ہے، بدنیتی نہیں۔
اسی بات کو بطور ثبوت پیش کیا جا رہا ہے کہ چونکہ ‘ایک قوت’ ہر صورت نواز شریف کو گھر بھیجنے کا فیصلہ کر چکی تھی لہذا سپریم کورٹ نے کمزور قانونی جواز تراشتے ہوئے انہیں نااہل قرار دے دیا۔
بات قرین قیاس تو لگتی ہے، لیکن یہ بھی سوچیے پڑھنا جاری رکھیں

پانامہ فیصلہ، جو میں نے سمجھا

سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھنے کے بعد جو بات مجھے سمجھ آئی وہ یہ ہے
نواز شریف دبئی میں ایک کمپنی کے چیئرمین تھے۔ چیئرمین کے طور پر ان کی (کاغذوں کی حد تک) کچھ تنخواہ مقرر تھی جو انہوں نے کبھی وصول نہیں کی۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے، چاہے نواز شریف نے تنخواہ وصول نہ کی ہو لیکن اس کے باوجود الیکشن کمیشن کو جمع کرائے گئے گوشواروں میں غیر وصول شدہ تنخواہ کا ذکر کرنا چاہیے تھا۔ چونکہ نواز شریف نے ایسا نہیں کیا، لہذا وہ صادق اور امین بھی نہیں رہے، اور نااہل کیے جاتے ہیں۔
نواز شریف کو آئین پاکستان کی شق 62 (1) ف کے تحت نااہل کیا گیا ہے۔ اس شق کے مطابق کوئی بھی شخص صرف اسی صورت پارلیمنٹ کا ممبر بن سکتا ہے (یا رہ سکتا ہے) اگر وہ
عقل مند ہو، نیک ہو، فضول خرچ نہ ہو، صادق ہو اور امین ہو۔
فیصلہ پڑھنے کے بعد ایک بات سمجھنے سے قاصر ہوں۔ پڑھنا جاری رکھیں

ہلیری کلنٹن کی بھی سنیے

nintchdbpict000281113993امریکا کے صدارتی انتخابات سے قبل خوب سیاست ہوئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ہلیری کلنٹن کو جیل میں ڈالنے کی دھمکی دی، ہلیری نے ٹرمپ کو روس کی کٹھ پتلی قرار دیا۔ ایک دوسرے کی ریلیوں پر حملے بھی ہوئے۔ اب ٹرمپ صدر منتخب ہو چکے ہیں تو امریکا میں ان کے خلاف مظاہرے ہوئے۔
سیاسی طور پر بوجھل اس فضا میں ہلیری کلنٹن نے اپنی شکست جس نفاست اور شائستگی سے قبول کی وہ دیکھنے اور سننے کی چیز ہے۔ ہلیری کس قدر دل برداشتہ تھیں وہ ان کے چہرے پر صاف لکھا تھا، یوں لگا وہ رو دیں گی۔ لیکن شکست قبول کرتے ہوئے انہوں نے جو نپی تلی گفتگو کی۔۔۔ عاجز نے اس کا خلاصہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

کیا امریکی بھی تھوڑے تھوڑے پاکستانی ہیں؟

trumpامریکا کے انتخابی نتائج میں پاکستانیوں کے نقطہ نظر سے کچھ دلچسپ اشارے ہیں۔
امریکیوں کو دو قسم کے صدارتی امیدواروں کا سامنا تھا۔ خاتون امیدوار ہلیری کلنٹن، جو قریب اڑسٹھ برس کی ہیں۔ عوامی عہدوں پر کام کر چکی ہیں، وزیرخارجہ رہی ہیں اور امریکا کی خاتون اول بھی رہ چکی ہیں۔ گویا طویل عرصے سے امریکی سیاست سے منسلک ہیں اور محنت سے اپنا مقام بنایا۔
ان کے مقابلے میں تھے ڈونلڈ ٹرمپ، عمر لگ بھگ ستر برس، والد اراضی اور تعمیرات کا کاروبار کرتے تھے۔ ٹرمپ نے معاشیات کی تعلیم حاصل کی اور اپنے والد کا کاروبار سنبھالا۔ کاروبار کو بہت پھیلایا اور میڈیا سے بھی وابستہ ہوئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا دی اپرنٹس نامی ٹی وی شو بہت مقبول ہوا جس میں امیدواروں کی کاروباری صلاحیتوں کا جائزہ لیا جاتا تھا۔
لا ابالی رویے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سیاست میں قدم رکھا تو بہت سے لوگوں کو حیرت ہوئی۔ پڑھنا جاری رکھیں

یارو اسے یو ٹرن نہ کہنا

cwlbuppwcaaymakعمران خان نے اسلام آباد بند کرنے کا اعلان واپس لے لیا ہے۔ یار لوگ ابھی سے اسے یو ٹرن کہہ رہے ہیں۔ میرے خیال میں ایسا کہنا درست نہیں۔
عمران خان پانامہ لیکس میں وزیراعظم نوازشریف کے ملوث ہونے کی تحقیقات چاہتے تھے۔ اسلام آباد لاک ڈاؤن کی دھمکی اسی لیے دی گئی۔ اگر عمران خان نے یو ٹرن لینا ہوتا تو اسی وقت لے لیتے جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں احتجاج کرنے سے منع کیا تھا۔
اب سپریم کورٹ نے یہ تحقیقات اپنے ہاتھ میں لے لی ہیں۔ اب عمران خان کے پاس احتجاج کرنے کا جواز ہی باقی نہ رہا تھا۔ لہذا انہوں نے درست فیصلہ کیا، اور دو نومبر کو لاک ڈاؤن کے بجائے یوم تشکر منانے کا اعلان کیا۔
اب میں عرض کروں گا کہ عمران خان نے ایسا کیا کیا جسے یو ٹرن یا اس سے ملتی جلتی چیز سمجھا جائے۔ پڑھنا جاری رکھیں

فوجی کی بیٹی

27 اکتوبر 2016 کو اسلام آباد میں پولیس نے تحریک انصاف کے یوتھ کنونشن سے کئی کارکن گرفتار کر لیے۔ کارروائی کا شکار ایک کارکن سماویہ طاہر بھی تھیں۔ لیڈی پولیس اہلکار نے انہیں پکڑنے کی کوشش کی تو گتھم گتھا ہو گئیں، اہلکار کی وردی نوچی، واقعے کی فوٹیج میں سنا جا سکتا ہے کہ کوئی مرد سماویہ کو چھوڑنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اتنی دیر میں ایک پولیس اہلکار آتا ہے اور خود سماویہ کو چھڑانے کی کوشش کرتا ہے۔ خاتون پولیس اہلکار پہلے تو چھوڑنے پر رضا مند نہیں ہوتی، لیکن بار بار کہنے پر اپنی گرفت ڈھیلی کر لیتی ہے۔
میڈیا بھی اس موقع پر موجود ہے۔ سماویہ طاہر پولیس کو برا بھلا کہتی ہوئے یہ الفاظ استعمال کرتی ہیں: پڑھنا جاری رکھیں

عمران خان کی خود غرضی

عمران خان نے 30 اکتوبر 2016 کو اسلام آباد بند کرنے کی کال دے رکھی تھی۔ بعد میں یہ تاریخ بدل کر دو نومبر کر دی گئی۔
بی بی سی کے مطابق تحریک انصاف کے سربراہ نے بتایا۔۔۔ تاریخ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کی وجہ سے تبدیل کی گئی۔ تحریک انصاف کے رہنما حامد خان کا گروپ ان انتخابات میں حصہ لے رہا ہے۔
اگر تو بی بی سی کی خبر درست ہے، تو عمران خان کے رویے کو سادہ الفاظ میں خودغرضی ہی کہا جا سکتا ہے۔ اپنے ایک وکیل رہنما کے انتخابات کے لیے تو اسلام آباد بند کرنے کی تاریخ تبدیل کر دی۔ لیکن دو نومبر کو راولپنڈی اسلام آباد کے کئی شہریوں کے اہم کام ان کی –لاک ڈاؤن کال- کی وجہ سے رہ جائیں گے، اس کا خیال نہ کیا۔ پڑھنا جاری رکھیں

کیا ڈان کو یہ خبر لگانا چاہیے تھی؟

چھ اکتوبر 2016 کو انگریزی روزنامہ ڈان نے ایک خبر کیا دی، تردیدوں کا سیلاب سا آ گیا۔
خبر کے مطابق ایک بند کمرہ اجلاس ہوا۔ جس میں وزیراعظم نوازشریف، سیکریٹری خارجہ اعزاز چودھری، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان اختر اور دیگر سول و عسکری افسران موجود تھے۔
خبر کی تفصیل کیا بتانا۔۔۔ کہ ایک تو اس کی تردید آ چکی، دوسرا ان معاملات میں محتاط رویہ ہی تحفظ کی ضمانت ہے۔ بس سمجھانے کو اتنا کہے دیتے ہیں کہ خبر کے مطابق سول قیادت نے عسکریت پسندوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کا خواہش نما مطالبہ کیا۔ وہ عسکریت پسند جن کے بارے میں امریکا اور بھارت اکثر کارروائی کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ عسکری قیادت نے کہا بھئی آپ جسے چاہیں پکڑ لیجیے۔۔۔اس پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے شکایت کی، "ہم کچھ مخصوص افراد کو پکڑتے ہیں تو انہیں چھڑا لیا جاتا ہے۔” پڑھنا جاری رکھیں

قسمت اور نصیب

ننھا شاپنگ مال کے فرش پر لیٹ کر روتا تھا اور میں اپنی آگہی پر ہنستا جاتا تھا۔۔۔ دراصل میں قسمت اور نصیب کے بارے میں بحثیں سمجھ نہیں پاتا۔ جس کی خواہش ہو، وہ چیز نہ ملے تو شاکی ہو جاتا ہوں۔ روٹھ جاتا ہوں۔ اللہ جی سے گلہ کرنے لگتا ہوں۔ کوئی کہے، "ہو سکتا ہے یہی تمہارے لیے اچھا ہو، یا اسی میں تمہارا بھلا ہو،” تو اس سے بھی بھڑ جاتا ہوں۔ مجھے فلاں اسباب کی ضرورت تھی۔۔۔ اگر میرا بھلا ہی مقصود تھا تو اسی کو میرے لیے فائدہ مند بنا دیا جاتا۔ یہ کیا بات ہوئی، اتنی دعائیں بھی کرو، کوشش بھی کرو، پھر بھی دھڑکا رہے کہ منزل ملے گی یا نہیں۔
خیر، وقت نے اکثر یہی ثابت کیا کہ مجھے خواہش کے برعکس اگر کچھ ملا بھی تو بعد میں وہی بہتر ثابت ہوا۔ لیکن ہر بار نیا ارمان پالتے ہوئے گزرا سبق بھول جاتا ہوں۔ پڑھنا جاری رکھیں