ہلیری کلنٹن کی بھی سنیے

nintchdbpict000281113993امریکا کے صدارتی انتخابات سے قبل خوب سیاست ہوئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ہلیری کلنٹن کو جیل میں ڈالنے کی دھمکی دی، ہلیری نے ٹرمپ کو روس کی کٹھ پتلی قرار دیا۔ ایک دوسرے کی ریلیوں پر حملے بھی ہوئے۔ اب ٹرمپ صدر منتخب ہو چکے ہیں تو امریکا میں ان کے خلاف مظاہرے ہوئے۔
سیاسی طور پر بوجھل اس فضا میں ہلیری کلنٹن نے اپنی شکست جس نفاست اور شائستگی سے قبول کی وہ دیکھنے اور سننے کی چیز ہے۔ ہلیری کس قدر دل برداشتہ تھیں وہ ان کے چہرے پر صاف لکھا تھا، یوں لگا وہ رو دیں گی۔ لیکن شکست قبول کرتے ہوئے انہوں نے جو نپی تلی گفتگو کی۔۔۔ عاجز نے اس کا خلاصہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

کیا امریکی بھی تھوڑے تھوڑے پاکستانی ہیں؟

trumpامریکا کے انتخابی نتائج میں پاکستانیوں کے نقطہ نظر سے کچھ دلچسپ اشارے ہیں۔
امریکیوں کو دو قسم کے صدارتی امیدواروں کا سامنا تھا۔ خاتون امیدوار ہلیری کلنٹن، جو قریب اڑسٹھ برس کی ہیں۔ عوامی عہدوں پر کام کر چکی ہیں، وزیرخارجہ رہی ہیں اور امریکا کی خاتون اول بھی رہ چکی ہیں۔ گویا طویل عرصے سے امریکی سیاست سے منسلک ہیں اور محنت سے اپنا مقام بنایا۔
ان کے مقابلے میں تھے ڈونلڈ ٹرمپ، عمر لگ بھگ ستر برس، والد اراضی اور تعمیرات کا کاروبار کرتے تھے۔ ٹرمپ نے معاشیات کی تعلیم حاصل کی اور اپنے والد کا کاروبار سنبھالا۔ کاروبار کو بہت پھیلایا اور میڈیا سے بھی وابستہ ہوئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا دی اپرنٹس نامی ٹی وی شو بہت مقبول ہوا جس میں امیدواروں کی کاروباری صلاحیتوں کا جائزہ لیا جاتا تھا۔
لا ابالی رویے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سیاست میں قدم رکھا تو بہت سے لوگوں کو حیرت ہوئی۔ پڑھنا جاری رکھیں

یارو اسے یو ٹرن نہ کہنا

cwlbuppwcaaymakعمران خان نے اسلام آباد بند کرنے کا اعلان واپس لے لیا ہے۔ یار لوگ ابھی سے اسے یو ٹرن کہہ رہے ہیں۔ میرے خیال میں ایسا کہنا درست نہیں۔
عمران خان پانامہ لیکس میں وزیراعظم نوازشریف کے ملوث ہونے کی تحقیقات چاہتے تھے۔ اسلام آباد لاک ڈاؤن کی دھمکی اسی لیے دی گئی۔ اگر عمران خان نے یو ٹرن لینا ہوتا تو اسی وقت لے لیتے جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں احتجاج کرنے سے منع کیا تھا۔
اب سپریم کورٹ نے یہ تحقیقات اپنے ہاتھ میں لے لی ہیں۔ اب عمران خان کے پاس احتجاج کرنے کا جواز ہی باقی نہ رہا تھا۔ لہذا انہوں نے درست فیصلہ کیا، اور دو نومبر کو لاک ڈاؤن کے بجائے یوم تشکر منانے کا اعلان کیا۔
اب میں عرض کروں گا کہ عمران خان نے ایسا کیا کیا جسے یو ٹرن یا اس سے ملتی جلتی چیز سمجھا جائے۔ پڑھنا جاری رکھیں

فوجی کی بیٹی

27 اکتوبر 2016 کو اسلام آباد میں پولیس نے تحریک انصاف کے یوتھ کنونشن سے کئی کارکن گرفتار کر لیے۔ کارروائی کا شکار ایک کارکن سماویہ طاہر بھی تھیں۔ لیڈی پولیس اہلکار نے انہیں پکڑنے کی کوشش کی تو گتھم گتھا ہو گئیں، اہلکار کی وردی نوچی، واقعے کی فوٹیج میں سنا جا سکتا ہے کہ کوئی مرد سماویہ کو چھوڑنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اتنی دیر میں ایک پولیس اہلکار آتا ہے اور خود سماویہ کو چھڑانے کی کوشش کرتا ہے۔ خاتون پولیس اہلکار پہلے تو چھوڑنے پر رضا مند نہیں ہوتی، لیکن بار بار کہنے پر اپنی گرفت ڈھیلی کر لیتی ہے۔
میڈیا بھی اس موقع پر موجود ہے۔ سماویہ طاہر پولیس کو برا بھلا کہتی ہوئے یہ الفاظ استعمال کرتی ہیں: پڑھنا جاری رکھیں

عمران خان کی خود غرضی

عمران خان نے 30 اکتوبر 2016 کو اسلام آباد بند کرنے کی کال دے رکھی تھی۔ بعد میں یہ تاریخ بدل کر دو نومبر کر دی گئی۔
بی بی سی کے مطابق تحریک انصاف کے سربراہ نے بتایا۔۔۔ تاریخ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کی وجہ سے تبدیل کی گئی۔ تحریک انصاف کے رہنما حامد خان کا گروپ ان انتخابات میں حصہ لے رہا ہے۔
اگر تو بی بی سی کی خبر درست ہے، تو عمران خان کے رویے کو سادہ الفاظ میں خودغرضی ہی کہا جا سکتا ہے۔ اپنے ایک وکیل رہنما کے انتخابات کے لیے تو اسلام آباد بند کرنے کی تاریخ تبدیل کر دی۔ لیکن دو نومبر کو راولپنڈی اسلام آباد کے کئی شہریوں کے اہم کام ان کی –لاک ڈاؤن کال- کی وجہ سے رہ جائیں گے، اس کا خیال نہ کیا۔ پڑھنا جاری رکھیں

کیا ڈان کو یہ خبر لگانا چاہیے تھی؟

چھ اکتوبر 2016 کو انگریزی روزنامہ ڈان نے ایک خبر کیا دی، تردیدوں کا سیلاب سا آ گیا۔
خبر کے مطابق ایک بند کمرہ اجلاس ہوا۔ جس میں وزیراعظم نوازشریف، سیکریٹری خارجہ اعزاز چودھری، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان اختر اور دیگر سول و عسکری افسران موجود تھے۔
خبر کی تفصیل کیا بتانا۔۔۔ کہ ایک تو اس کی تردید آ چکی، دوسرا ان معاملات میں محتاط رویہ ہی تحفظ کی ضمانت ہے۔ بس سمجھانے کو اتنا کہے دیتے ہیں کہ خبر کے مطابق سول قیادت نے عسکریت پسندوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کا خواہش نما مطالبہ کیا۔ وہ عسکریت پسند جن کے بارے میں امریکا اور بھارت اکثر کارروائی کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ عسکری قیادت نے کہا بھئی آپ جسے چاہیں پکڑ لیجیے۔۔۔اس پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے شکایت کی، "ہم کچھ مخصوص افراد کو پکڑتے ہیں تو انہیں چھڑا لیا جاتا ہے۔” پڑھنا جاری رکھیں

قسمت اور نصیب

ننھا شاپنگ مال کے فرش پر لیٹ کر روتا تھا اور میں اپنی آگہی پر ہنستا جاتا تھا۔۔۔ دراصل میں قسمت اور نصیب کے بارے میں بحثیں سمجھ نہیں پاتا۔ جس کی خواہش ہو، وہ چیز نہ ملے تو شاکی ہو جاتا ہوں۔ روٹھ جاتا ہوں۔ اللہ جی سے گلہ کرنے لگتا ہوں۔ کوئی کہے، "ہو سکتا ہے یہی تمہارے لیے اچھا ہو، یا اسی میں تمہارا بھلا ہو،” تو اس سے بھی بھڑ جاتا ہوں۔ مجھے فلاں اسباب کی ضرورت تھی۔۔۔ اگر میرا بھلا ہی مقصود تھا تو اسی کو میرے لیے فائدہ مند بنا دیا جاتا۔ یہ کیا بات ہوئی، اتنی دعائیں بھی کرو، کوشش بھی کرو، پھر بھی دھڑکا رہے کہ منزل ملے گی یا نہیں۔
خیر، وقت نے اکثر یہی ثابت کیا کہ مجھے خواہش کے برعکس اگر کچھ ملا بھی تو بعد میں وہی بہتر ثابت ہوا۔ لیکن ہر بار نیا ارمان پالتے ہوئے گزرا سبق بھول جاتا ہوں۔ پڑھنا جاری رکھیں

بھارت کیا سوچ رہا ہے؟

سرجیکل سٹرائیک کے دعوے کے بعد ایک بات بہت واضح ہے، اس بار بھارت کے تیور کچھ بدلے بدلے ہیں۔

پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔۔۔ ایک بڑے دشمن کے مقابلے میں یہ ہتھیار پاکستانی عوام اور قیادت کو نفسیاتی تحفظ دیتے ہیں۔ بھارت کو بھی معلوم ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرے گا تو پاکستان اپنے جوہری ہتھیار کام میں لا سکتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے کئی موقعوں پر اس قسم کا جذباتی بیان دیا بھی جا چکا ہے کہ ایٹم بم شب برات پر پھوڑنے کے لیے تو نہیں رکھا۔
بھارت میں غالباً یہ سوچ پائی جا رہی ہے کہ پاکستان نے ایک باقاعدہ جنگ کے لیے بھارت کے سامنے تو جوہری حصار باندھ دیا ہے لیکن خود وہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں کارروائیاں کرنے سے باز نہیں آ رہا۔ پڑھنا جاری رکھیں

یہ سی پیک کے خلاف سازش ہے

سائبر جرائم قانون کی قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد ان معاملات میں بولنا کچھ عقل مندانہ روش نہیں، لیکن رزم حق و باطل ہو تو ہمارا قلم حق بات کہے بغیر نہیں رہ سکتا۔
سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف چلائی جانے والی مہم دراصل سی پیک منصوبے کے خلاف سازش ہے۔ ایک عام سی ذہانت رکھنے والا شخص بھی اندازہ لگا سکتا ہے اس سازش کے تانے بانے کس ملک سے جا کر ملتے ہیں۔
پاک فوج ایک طرف تو دہشت گردوں کے خلاف کامیابیاں سمیٹ رہی ہے، دوسری جانب سی پیک منصوبہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہے۔
اس دوران چند تصاویر اس الزام کے ساتھ پھیلائی جا رہی ہیں کہ موٹروے پولیس نے حد رفتار کی پابندی نہ کرنے پر پاک فوج کے دو افسران کو روکا۔ صرف پانچ سو روپے کے چالان سے بچنے کے لیے ان افسران نے موٹروے پولیس اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی کی، فوج کی مزید مسلح نفری طلب کی جو مارتے پیٹتے ہوئے پولیس اہلکاروں کو اپنے ساتھ قلعہ اٹک لے گئے۔

جھوٹ اس تمام الزام سے یوں ٹپک رہا ہے جیسے برستی بارش میں مفلس کی چھت ٹپکتی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ پاک فوج آئین اور قانون کا احترام کرنے والا ادارہ ہے۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس ادارے میں کام کرنے والے آئین اور قانون کا احترام نہ کریں۔ پڑھنا جاری رکھیں

ایک کروڑ کا پرچم

9 نومبر 2016 کو روزنامہ ایکسپریس میں خبر پڑھی۔۔۔ اور پڑھ کر شہر اقتدار کے مختاروں پر حیرت ہوئی۔
خبر کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس کے سبزہ زار میں سب سے بڑا قومی پرچم لہرانے کا منصوبہ ہے۔ منصوبے پر ایک کروڑ دس لاکھ روپے لاگت آئے گی۔
جی ہاں۔ جس ملک میں عام آدمی کو بنیادی سہولیات تک رسائی نہیں، اس کی پارلیمان میں ایک کروڑ دس لاکھ روپے خرچ کر کے پرچم نصب کیا جائے گا۔
پرچم کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس کے سبزہ زار، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور ایوان صدر کی عمارت کے سامنے ایک سو بیس فٹ لمبا کھمبا نصب کیا جائے گا۔ پرچم کے نیچے ساٹھ فٹ لمبا اور پچاس فٹ چوڑا پلیٹ فارم تعمیر کیا جائے گا۔
اور پھر سے دل کو تھام لیجیے، کہ پاکستان کا یہ پرچم چین سے تیارکرایا جائے گا۔ پڑھنا جاری رکھیں