فوجی کی بیٹی

27 اکتوبر 2016 کو اسلام آباد میں پولیس نے تحریک انصاف کے یوتھ کنونشن سے کئی کارکن گرفتار کر لیے۔ کارروائی کا شکار ایک کارکن سماویہ طاہر بھی تھیں۔ لیڈی پولیس اہلکار نے انہیں پکڑنے کی کوشش کی تو گتھم گتھا ہو گئیں، اہلکار کی وردی نوچی، واقعے کی فوٹیج میں سنا جا سکتا ہے کہ کوئی مرد سماویہ کو چھوڑنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اتنی دیر میں ایک پولیس اہلکار آتا ہے اور خود سماویہ کو چھڑانے کی کوشش کرتا ہے۔ خاتون پولیس اہلکار پہلے تو چھوڑنے پر رضا مند نہیں ہوتی، لیکن بار بار کہنے پر اپنی گرفت ڈھیلی کر لیتی ہے۔
میڈیا بھی اس موقع پر موجود ہے۔ سماویہ طاہر پولیس کو برا بھلا کہتی ہوئے یہ الفاظ استعمال کرتی ہیں: کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

عمران خان کی خود غرضی

عمران خان نے 30 اکتوبر 2016 کو اسلام آباد بند کرنے کی کال دے رکھی تھی۔ بعد میں یہ تاریخ بدل کر دو نومبر کر دی گئی۔
بی بی سی کے مطابق تحریک انصاف کے سربراہ نے بتایا۔۔۔ تاریخ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کی وجہ سے تبدیل کی گئی۔ تحریک انصاف کے رہنما حامد خان کا گروپ ان انتخابات میں حصہ لے رہا ہے۔
اگر تو بی بی سی کی خبر درست ہے، تو عمران خان کے رویے کو سادہ الفاظ میں خودغرضی ہی کہا جا سکتا ہے۔ اپنے ایک وکیل رہنما کے انتخابات کے لیے تو اسلام آباد بند کرنے کی تاریخ تبدیل کر دی۔ لیکن دو نومبر کو راولپنڈی اسلام آباد کے کئی شہریوں کے اہم کام ان کی –لاک ڈاؤن کال- کی وجہ سے رہ جائیں گے، اس کا خیال نہ کیا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

کیا ڈان کو یہ خبر لگانا چاہیے تھی؟

چھ اکتوبر 2016 کو انگریزی روزنامہ ڈان نے ایک خبر کیا دی، تردیدوں کا سیلاب سا آ گیا۔
خبر کے مطابق ایک بند کمرہ اجلاس ہوا۔ جس میں وزیراعظم نوازشریف، سیکریٹری خارجہ اعزاز چودھری، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان اختر اور دیگر سول و عسکری افسران موجود تھے۔
خبر کی تفصیل کیا بتانا۔۔۔ کہ ایک تو اس کی تردید آ چکی، دوسرا ان معاملات میں محتاط رویہ ہی تحفظ کی ضمانت ہے۔ بس سمجھانے کو اتنا کہے دیتے ہیں کہ خبر کے مطابق سول قیادت نے عسکریت پسندوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کا خواہش نما مطالبہ کیا۔ وہ عسکریت پسند جن کے بارے میں امریکا اور بھارت اکثر کارروائی کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ عسکری قیادت نے کہا بھئی آپ جسے چاہیں پکڑ لیجیے۔۔۔اس پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے شکایت کی، "ہم کچھ مخصوص افراد کو پکڑتے ہیں تو انہیں چھڑا لیا جاتا ہے۔” کو پڑھنا جاری رکھیں

قسمت اور نصیب

ننھا شاپنگ مال کے فرش پر لیٹ کر روتا تھا اور میں اپنی آگہی پر ہنستا جاتا تھا۔۔۔ دراصل میں قسمت اور نصیب کے بارے میں بحثیں سمجھ نہیں پاتا۔ جس کی خواہش ہو، وہ چیز نہ ملے تو شاکی ہو جاتا ہوں۔ روٹھ جاتا ہوں۔ اللہ جی سے گلہ کرنے لگتا ہوں۔ کوئی کہے، "ہو سکتا ہے یہی تمہارے لیے اچھا ہو، یا اسی میں تمہارا بھلا ہو،” تو اس سے بھی بھڑ جاتا ہوں۔ مجھے فلاں اسباب کی ضرورت تھی۔۔۔ اگر میرا بھلا ہی مقصود تھا تو اسی کو میرے لیے فائدہ مند بنا دیا جاتا۔ یہ کیا بات ہوئی، اتنی دعائیں بھی کرو، کوشش بھی کرو، پھر بھی دھڑکا رہے کہ منزل ملے گی یا نہیں۔
خیر، وقت نے اکثر یہی ثابت کیا کہ مجھے خواہش کے برعکس اگر کچھ ملا بھی تو بعد میں وہی بہتر ثابت ہوا۔ لیکن ہر بار نیا ارمان پالتے ہوئے گزرا سبق بھول جاتا ہوں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

بھارت کیا سوچ رہا ہے؟

سرجیکل سٹرائیک کے دعوے کے بعد ایک بات بہت واضح ہے، اس بار بھارت کے تیور کچھ بدلے بدلے ہیں۔

پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔۔۔ ایک بڑے دشمن کے مقابلے میں یہ ہتھیار پاکستانی عوام اور قیادت کو نفسیاتی تحفظ دیتے ہیں۔ بھارت کو بھی معلوم ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرے گا تو پاکستان اپنے جوہری ہتھیار کام میں لا سکتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے کئی موقعوں پر اس قسم کا جذباتی بیان دیا بھی جا چکا ہے کہ ایٹم بم شب برات پر پھوڑنے کے لیے تو نہیں رکھا۔
بھارت میں غالباً یہ سوچ پائی جا رہی ہے کہ پاکستان نے ایک باقاعدہ جنگ کے لیے بھارت کے سامنے تو جوہری حصار باندھ دیا ہے لیکن خود وہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں کارروائیاں کرنے سے باز نہیں آ رہا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

یہ سی پیک کے خلاف سازش ہے

سائبر جرائم قانون کی قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد ان معاملات میں بولنا کچھ عقل مندانہ روش نہیں، لیکن رزم حق و باطل ہو تو ہمارا قلم حق بات کہے بغیر نہیں رہ سکتا۔
سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف چلائی جانے والی مہم دراصل سی پیک منصوبے کے خلاف سازش ہے۔ ایک عام سی ذہانت رکھنے والا شخص بھی اندازہ لگا سکتا ہے اس سازش کے تانے بانے کس ملک سے جا کر ملتے ہیں۔
پاک فوج ایک طرف تو دہشت گردوں کے خلاف کامیابیاں سمیٹ رہی ہے، دوسری جانب سی پیک منصوبہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہے۔
اس دوران چند تصاویر اس الزام کے ساتھ پھیلائی جا رہی ہیں کہ موٹروے پولیس نے حد رفتار کی پابندی نہ کرنے پر پاک فوج کے دو افسران کو روکا۔ صرف پانچ سو روپے کے چالان سے بچنے کے لیے ان افسران نے موٹروے پولیس اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی کی، فوج کی مزید مسلح نفری طلب کی جو مارتے پیٹتے ہوئے پولیس اہلکاروں کو اپنے ساتھ قلعہ اٹک لے گئے۔

جھوٹ اس تمام الزام سے یوں ٹپک رہا ہے جیسے برستی بارش میں مفلس کی چھت ٹپکتی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ پاک فوج آئین اور قانون کا احترام کرنے والا ادارہ ہے۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس ادارے میں کام کرنے والے آئین اور قانون کا احترام نہ کریں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

ایک کروڑ کا پرچم

9 نومبر 2016 کو روزنامہ ایکسپریس میں خبر پڑھی۔۔۔ اور پڑھ کر شہر اقتدار کے مختاروں پر حیرت ہوئی۔
خبر کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس کے سبزہ زار میں سب سے بڑا قومی پرچم لہرانے کا منصوبہ ہے۔ منصوبے پر ایک کروڑ دس لاکھ روپے لاگت آئے گی۔
جی ہاں۔ جس ملک میں عام آدمی کو بنیادی سہولیات تک رسائی نہیں، اس کی پارلیمان میں ایک کروڑ دس لاکھ روپے خرچ کر کے پرچم نصب کیا جائے گا۔
پرچم کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس کے سبزہ زار، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور ایوان صدر کی عمارت کے سامنے ایک سو بیس فٹ لمبا کھمبا نصب کیا جائے گا۔ پرچم کے نیچے ساٹھ فٹ لمبا اور پچاس فٹ چوڑا پلیٹ فارم تعمیر کیا جائے گا۔
اور پھر سے دل کو تھام لیجیے، کہ پاکستان کا یہ پرچم چین سے تیارکرایا جائے گا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

عورت کی عزت کرنا مرد کی ذمہ داری

رعایت اللہ فاروقی صاحب صحافی اور کالم نگار ہیں۔ کچھ دن قبل انہوں نے فیس بک پر ایک پوسٹ لکھی، عنوان تھا۔۔۔ عورت اور مرد کی عزت کا فرق۔
رعایت اللہ صاحب کے مطابق ہماری بہنوں اور بیٹیوں میں یہ سوچ پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ عزت ایک بیڑی ہے، اگر مرد منہ کالا کرتا ہے تو خاتون کو بھی منہ کالا کرنے کی آزادی دی جائے۔
عاجز کو اس پوسٹ کے مندرجات سے اختلاف ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا سوچتا ہو کہ مرد منہ کالا کرتا ہے تو عورت کو بھی ایسا کرنے کی آزادی دی جائے۔ ہماری رائے میں اس کا تعلق آزادی سے نہیں، ذمہ داری سے ہے۔ یعنی مرد منہ کالا کرتا ہے تو بھی عورت کو ہی ذمہ دار کیوں قرار دیا جائے۔ اکثر ان معاملات میں ذمہ داری کا تمام بوجھ عورت پر ڈال کر مرد سے وہ رویہ نہیں رکھا جاتا جو عورت سے رکھا جاتا ہے۔ کبھی یہ سننے میں نہیں آیا کہ غیرت کے نام پر باپ نے اپنے بیٹے کو قتل کر دیا ہو وغیرہ وغیرہ۔۔۔
آگے چل کر رعایت اللہ صاحب لکھتے ہیں
"یعنی اگر مرد بےغیرت ہے تو عورت کو بھی بےغیرت ہونا چاہیے”
ہماری نظر میں اس استدلال کو یوں بیان کیا جائے تو زیادہ مناسب رہے
"عورت بے غیرت ہے تو اس معاملے میں برابر کا کردار ادا کرنے والا مرد بے غیرت کیوں نہیں؟” کو پڑھنا جاری رکھیں

سائیکل ریس سے سیکھے سبق

ورزش کی غرض سے سائیکل پر دفتر آتے جاتے ہیں۔ اہل لاہور نے سائیکل سواری کا شغل ترک ہی کر رکھا ہے۔ چھ سے آٹھ کلومیٹر طویل سفر میں کبھی کبھار ہی کوئی دوسرا سائیکل سوار ملتا ہے۔ ایسا بھی ہوا کہ راستے میں کوئی سائیکل سوار ملا، ہم اس سے آگے نکلے، یا اس نے ہمیں اوور ٹیک کیا تو خواہ مخواہ کا مقابلہ سا شروع ہو گیا۔ ایک تو اس میں لطف رہتا ہے، دوسرا مسابقت میں راستہ نسبتاً جلدی کٹ جاتا ہے۔
اب یہ کوئی باقاعدہ ریس تو ہوتی نہیں۔ کوئی سائیکل سوار آپ کے قریب سے گزرا، آپ نے اس کی رفتار سے حسد محسوس کیا یا ایسے ہی اپنا امتحان لینا چاہا ۔۔۔ تو تیزی سے پیڈل مارتے ہوئے اس سے آگے بڑھ گئے۔ ذرا آگے جا کر آپ دھیمے پڑے یا اس نے رفتار پکڑی تو آپ سے آگے نکل گیا۔
پھر شروع ہوئی مقابلہ بازی۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

مشکوک اشتہار

اٹھائیس اگست کے روزنامہ ایکسپریس میں ایک اشتہار چھپا ہے۔ پرعزم نوجوانوں کے لیے ملازمت کے مواقع۔ بھئی ہم نوجوان نہ سہی، پرعزم تو ہیں ہی۔ کوئی بھی ایسا اشتہار دیکھیں تو اگلی نظر عمر کی حد والے خانے پر ڈالتے ہیں۔ ہماری عمر اشتہار دینے والے کے پیمانے پر پورا اترتی ہو تو ہم بھی اس ملازمت کو قابل توجہ سمجھتے ہیں۔
مذکورہ اشتہار میں امیدوار پچیس سے پینتیس سال عمر کا مانگا گیا ہے، گویا یہ اشتہار اگلے سال چھپتا تو ہم ملازمت کی درخواست دینے سے محروم رہ جاتے۔
ہماری تعلیمی قابلیت بھی اشتہار دینے والوں کے معیار کے مطابق ہے یعنی ایم اے ماس کمیونیکیشن (کم از کم سیکنڈ ڈویژن)۔ اہلیت کی دوسری شرط قدرے کڑی ہے، "غیر معمولی قابلیت کے حامل نوجوان جو مشکل ذمہ داریوں سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت رکھتے ہوں”۔ ہر چند ہمارے ساتھ کام کرنے والے ہماری قابلیت اور صلاحیت کے بارے میں مشکوک رہتے ہیں، پھر بھی ہمیں ان دو عناصر کے خود میں پائے جانے کی خوش گمانی ہے۔ اشہتار میں انگلش اردو بولنے اور لکھنے کی صلاحیت بھی مانگی گئی ہے۔ زبان فرنگ ہمارے قابو میں نہ سہی، لیکن اردو میں گزارا کر ہی لیتے ہیں۔ اپنے تئیں ہم ہر لحاظ سے مثالی امیدوار ہیں لیکن کئی چیزیں اشتہار کو مشکوک بنا رہی ہیں۔
سب سے پہلے تو یہ کہ مونو گرام ایک مقتدر ادارے کا سا ہے، یعنی دو تلواریں اور درمیان میں چمکتا چاند ستارا۔ لیکن یہ ادارہ عموماً بھرتی کے لیے ایسا ڈھکا چھپا انداز اختیار نہیں کرتا۔ جس اسامی کے لیے امیدوار چاہیے ہو وہ واضح طور پر درج کی جاتی ہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں