لیدر جیکٹ والی میری بیٹی! سلامت رہو

Arooj Aurangzeb

آپ اور آپ کے ساتھی لاہور کے فیض میلے میں انقلابی نعرے لگا رہے تھے۔ بہت سےلوگوں کی طرح ویڈیو میں نے بھی دیکھی۔ سرفروشی کی تمنا،شوق شہادت کی پکار، ایشیا کو سرخ کرنے کی للکار۔ میرے اندر کے عملیت پرست ادھیڑ عمر آدمی نے سر جھٹک کر مسکراتے ہوئے آپ کو اور ان نعروں کو مسترد کرنا چاہا۔ لیکن میں ایسا نہیں کر سکا۔
آپ سب مجھے بہت اچھے لگے۔
آپ کے نعرے۔ وہ نعرے لگانے کا انداز۔ ان نعروں سے جھانکتی امید۔ بسمل عظم آبادی کی نظم۔ اس نظم سے جھلکتی بغاوت۔ نظم پڑھنے والوں کے لہجوں میں موجود عزم۔ سب ہی کچھ کتنا اچھا تھا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

عمر بلال کی سال گرہ

امریکا پلٹ صحافی عمر بلال کی سالگرہ یوں تو سات دسمبر کو ہوتی ہے۔ لیکن اس کی تقریبات سارا سال ہی جاری رہتی ہیں۔IMG-20181208-WA0017
ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سات دن تک جشن منایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ملک کے تمام شہروں کے ساتھ ساتھ نیویارک، لندن، ٹوکیو، مشرق وسطیٰ اور آسٹریلیا میں بھی تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔
اس موقع پر سرکاری عمارات پر چراغاں کیا جاتا ہے اور قومی پرچم سرنگوں رکھا جاتا ہے۔
عمر بلال کی بڑھتی عمر کی وجہ سے بہت زیادہ موم بتیاں جلائی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے موم کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ فوری طور پر موم دوسرے ممالک سے درآمد کرتا پڑتا ہے، جس کے بعد ملک میں زر مبادلہ کے ذخائر بھی خطرناک حد تک کم ہو جاتے ہیں۔ اور موم بتیاں جلانے سے دنیا بھر میں آکسیجن کی قلت اور دھویں کی زیادتی ہو جاتی ہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

کیا خواب میں کانٹی نیوٹی جمپ ہوتے ہیں

Continuity jumpٹیلی وژن اور فلم کی اصطلاح ہے۔ عموماً کوئی بھی سین ایک ہی کیمرے سے شوٹ کیا جاتا ہے۔ تو وہ ایک کیمرہ سین کو مختلف زاویوں سے شوٹ کرتا ہے، بعد میں ایڈیٹنگ کرتے ہوئے ٹکڑے جوڑ لیے جاتے ہیں۔ یعنی اگر کردار نے سبزہ زار میں داخل ہو کر بینچ پر بیٹھے کسی فرد سے وقت پوچھنا ہے۔ تو اس سین کو مختلف شاٹس میں فلمایا جائے گا۔ پہلے لانگ شاٹ میں کردار سبزہ زار میں داخل ہوتے دکھایا جائے گا۔ اس لانگ شاٹ سے جگہ کا تعین ہو جائے گا۔ پھر مڈ لانگ شاٹ میں اسے ایک بینچ کے قریب رکتا دکھایا جائے گا۔ مزید کلوز اپس میں اس کی گفتگو فلمائی جائے گی۔ جو فرد وقت بتا رہا ہے، ایک کلوز شاٹ اس کا بھی لیا جائے گا۔ یوں ایک چند سیکنڈ کے سین کو کئی زاویوں سے فلمایا جاتا ہے (اور کئی گھنٹے صرف کیے جاتے ہیں)۔
اب کانٹی نیوٹی جمپ یہ ہے کو پڑھنا جاری رکھیں

ساحل سمندر پر چائنہ کٹنگ

IMG_20180114_175656.jpg

عمیر محمود کراچی کے ساحل سمندر پر غروب آفتاب کا منظر دیکھنے گئے۔ سورج کو اٹکھیلیاں کرتی موجوں میں ڈبکیاں لگاتے دیکھا تو مچل گئے۔ فیصلہ کر لیا یہیں چائنہ کٹکنگ کر کے کنال دو کنال کی جھونپڑی ڈال لیں گے۔ بلکہ آنے جانے والوں سے بھتہ بھی وصولا کریں گے۔ یہاں ٹھکانہ ہو گیا تو روز نیم دراز ہو کر سورج کو ابھرتے اور ڈوبتے دیکھا کریں گے۔ پھر خیال آیا، کراچی کے اس علاقے میں دیکھنے کا پانی تو دستیاب ہے، پینے کا پانی ٹینکر سے ڈلوانا پڑتا ہے۔ چلُو بھر پانی کے لیے ہر مہینے ہمارا بارہ پندرہ ہزار اٹھ جایا کرے گا۔ فوراً چائنہ کٹنگ کے ارادے سے باز آئے۔ نائن زیرو کی طرف منہ کر کے توبہ استغفار بھی پڑھی۔ اپنی یادوں کی الماری میں یہ منظر رکھنے کے لیے سورج کو مٹھی میں بھرنا چاہا، وہ ساحلی ریت کی طرح ہاتھ سے پھسل کر سمندر میں گر گیا۔

سہمی سہمی ایک تصویر

IMG_20171012_203920جس وقت ہم نے حجام کے آگے سر تسلیم خم کیا، اس وقت دکان میں رکھے ٹی وی پر ڈرامہ چل رہا تھا۔ زلف تراش کی نظریں اور ہمارے کان ڈرامے پر تھے۔ کہانی کچھ یوں تھی کہ گھر میں نئی آنے والی بہو ملازماؤں کے ساتھ بدسلوکی کرتی ہے۔ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھ رہی تھی، حجام کا انہماک بھی بڑھ رہا تھا (ڈرامے میں)۔ ڈرامے کے معاملات میں تیزی آئی تو ہمارے سر پر چلتی قینچی کی ‘کھچ کھچ’ بھی تیز ہوتی گئی۔
گویا پہلے قینچی کی تال کچھ یوں تھی۔۔۔ کھچ کھچ کھڑچ، کھچ کھچ کھڑچ۔ کھڑچ کی آواز تب آتی جب قینچی ہمارے بالوں کی کسی لٹ پر حملہ آور ہوتی اور اسے کاٹ پھینکتی۔ بعد میں تال یوں ہوتی گئی۔۔۔ کھچ کھڑچ کھچ کھڑچ کھچ کھڑچ۔ سین جذباتی ہو جاتا تو قینچی کی لے یوں ہوتی۔۔۔ کھچ کھچا کھچ کھچ۔۔۔ کھچ کھچا کھڑچ کھچ۔۔۔ کھچ کھچ کھچ کھچ۔۔۔ ڈرامے کے مرکزی کردار کو غصہ آتا تو قینچی کہتی۔۔۔ کھڑچ کھڑچ کھڑچ کھچ۔
یعنی کہیں تو قینچی ہوا میں غیر موجود بالوں پر بھی تلوار کی طرح پھر گئی اور کہیں ہمارے کان کاٹتے کاٹتے رہ گئی۔
جب کہانی عین کلائیمکس پر پہنچ گئی تو حجام نے ہاتھ میں موجود قینچی چھوڑ کر استرا پکڑ لیا۔ ہماری اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔ قلمیں تراشنے کو اٹھنے والا استرا کہیں سر ہی قلم نہ کر دے، اس فکر میں ڈرامہ لکھنے والے بنانے والے اور چلانے والے کو خوب کوسا۔ جس وقت گھبرا کر ہم نے آنکھیں بند کیں اس وقت سامنے شیشے میں اپنے جیسا ایک ہیولا خزاں رسیدہ زرد پتے کی طرح لرز رہا تھا۔
جب ڈرامہ ختم ہوا اور اشتہار شروع ہوئے تو ہم نے آنکھیں کھولیں۔ اعضاء تو سب سلامت تھے، البتہ بالوں کی سفیدی مزید بڑھ چکی تھی۔ اب ہمارا مطالبہ ہے حجام کی دکان میں ٹی وی پر پابندی لگا دی جائے۔ بلکہ ووٹ بھی اسی سیاسی جماعت کو دیں گے جو ہمارے مطالبے کو قانون بنائے گی۔
قصہ سنانے کا مقصد یہ تھا کہ تصویر میں جو ہم گھبرائے گھبرائے نظر آتے ہیں، اس کی وجہ کچھ اور نہ سمجھی جائے۔