گریٹر اقبال پارک کی سیر

ایک زمانہ تھا جب اقبال پارک گریٹر نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ اقبال پارک جانا ہو تو ویگن والے سے کہا جاتا تھا، بھائی یادگار پر اتار دینا۔ اور یہ 20170901155415_IMG_0539وہی جگہ ہے جہاں برسوں پہلے ایک یار عزیز نے راہ چلتے شخص سے پوچھا تھا، یادگار کتھے وے۔ اور اس نے مینار پاکستان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا، ایدھر ویخھو پائین۔ او کھڑی اے (ادھر دیکھیں بھائی جان، وہاں کھڑی ہے)
اب تو صاحب اس پارک کو وسعت دی جا چکی ہے۔ گاڑیوں کے لیے پارکنگ فراخ بھی ہے اور مفت بھی۔ مینار پاکستان، بادشاہی مسجد، شاہی قلعہ۔۔۔ سبھی کو ایک احاطے میں سمو دیا گیا ہے۔ مینار پاکستان دیکھنے کے بعد ٹریفک میں سے بچتے بچاتے پھلانگے جھپٹتے سڑک نہیں پار کرنی پڑتی بلکہ خوبصورت روشوں سے ہوتے ہوئے پہنچا جا سکتا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

یادگار دیکھنی ہے تو دور سے دیکھیں

آپ کے علم میں ہو گا 23 مارچ 1940 کو لاہور میں مسلمانوں کے لیے علیحدہ ریاست کا مطالبہ کیا گیا۔ اس قرارداد کی یاد میں لاہور کے 20170901161849_IMG_0563اسی مقام پر ایک مینار تعمیر کیا گیا، جو مینار پاکستان کہلایا۔
اب آپ اپنے وطن کی یادگار دیکھنا چاہیں تو گریٹر اقبال پارک کا رخ کریں، یہاں آپ کو مینار پاکستان ایستادہ نظر آئے گا، لیکن آپ اس کے قریب نہ جا سکیں گے۔ مینار پاکستان کے گرد لوہے کی باڑ لگا دی گئی ہے۔ اور یہ بندش آج سے نہیں کئی سال سے ہے۔ پہلے مینار کے چبوترے کے گرد خاردار تار لگائی گئی تھی۔ دل کے ساتھ ساتھ نظروں کو بھی بھلی نہیں لگتی تھی۔ اب مینار پاکستان کو ایک خوبصورت جنگلے میں مقید کر دیا گیا ہے۔
کیسی بات ہے۔۔۔ قرار داد پاکستان کی یاد میں بنایا گیا مینار آج پاکستانیوں کے لیے ہی بند ہے۔ مینار پاکستان کی دیواروں پر قرار داد پاکستان کا متن بھی آویزاں ہے، اور سنا ہے اردو کے ساتھ ساتھ بنگالی زبان میں بھی۔۔۔ اب کسی نے قرارداد پڑھنی ہے تو گھر سے پڑھ کر آئے۔
پاکستان اس لیے بنایا گیا تھا کہ مسلمانوں کو ہندوؤں سے خطرہ تھا، اور آج یاد گار پاکستان کو پاکستانیوں سے خطرہ ہے۔
اگر آپ اچھے وقتوں میں مینار کا قرب حاصل کر چکے ہیں تو خوش نصیب ہیں۔ اس میں نصب سنگ مرمر کی ٹھنڈک اپنے وجود میں جذب کی ہے تو بختاور ہیں، اس کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر تصویر بنوائی ہے تو اقبال مند ہیں۔ سنا ہے مینار کا نچلاحصہ پھول کی پتیوں سے مشابہت رکھتا ہے۔ رکھتا ہو گا بھئی، اب یہ پھول ٹچ می ناٹ بن چکا ہے۔

بعد میں دیکھی جائے گی

دفتری ساتھی کو پیٹ میں درد کی شکایت ہوئی۔ بہت دیر تک تو معلوم ہی نہ ہونے دیا۔ جب ہم نے چہرے کی رنگت متغیر دیکھی تو پوچھا کیا معاملہ ہے؟ دل میں سوچا، ہو نہ ہو اس کی وجہ وہ ناشتہ ہے جو صبح نیازی صاحب لائے تھے اور ان صاحب نے اس سے خوب انصاف کیا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ درد بھی بڑھتا گیا۔ ہم نے انہیں دفتر سے چھٹی لے کر ڈاکٹر کے ہاں جانے کی تجویز دی، وہ آمادہ نہ ہوئے۔ شاید انہیں خدشہ تھا کہ ان کی غیر موجودگی میں کام زیادہ بہتر طریقے سے ہو جائے گا۔
بہرحال، کچھ ہمارے سمجھانے اور کچھ تکلیف کے بڑھ جانے پر وہ دفتر سے چھٹی لینے اور ڈاکٹر کے ہاں جانے پر رضامند ہو گئے۔ پڑھنا جاری رکھیں

حضور والا! صحافی بھیجیے

انگریزی اخبار نے خبر اڑائی ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت چین میں بوجھ ڈھونے والے چوپائے بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ایک تو چین میں مذکورہ چوپائے کی مانگ بہت ہے، کہ اس کا گوشت لاہوریوں کے ساتھ ساتھ چینیوں کو بھی مرغوب ہے۔ دوسرا اس کی کھال دواؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔ خواتین آرائش حسن کا جو سامان استعمال کرتی ہیں، اس میں بھی شوہروں کی کمائی کے ساتھ ساتھ متذکرہ چوپائے کی کھال استعمال کی جاتی ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت اس منصوبے سے بہت سا زر مبادلہ کمانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ چوپائے کی افزائش نسل کے لیے تجاویز بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔ تاہم عاجز کی رائے میں برآمد کرنے ہی ہیں تو صحافی کیے جائیں۔ ان کی افزائش نسل کی بھی ضرورت نہیں، پہلے ہی گنجائش سے بڑھ کر ہیں۔
صحافیوں کو بھی چونکہ فقط مشقت ہی کرنا ہوتی ہے، لہذا فہم و فراست سے فاصلہ رکھتے ہیں، حکم حاکم پر سر جھکائے بھاگتے رہتے ہیں، تھک جائیں تو ایک چابک پڑتے ہی پھر سرپٹ دوڑنے لگتے ہیں۔
ذرا تصور کیجیے۔ چین میں صحافیوں کی منڈی لگی ہو گی۔ پڑھنا جاری رکھیں

معاذ مسکرائے

یہ محمد معاذ ہیں۔ ہمارے ٹیلی وژن چینل میں جو شعبہ نیوز رپورٹس تیار کرتا ہے، اس کے سربراہimg-20170302-wa0005 ہیں۔ کام سے شدید محبت کرتے ہیں۔ کام میں دیہان کا یہ عالم ہے کہ جب ہم نیوز روم میں کسی خیال پر گفتگو کر کے ان سے رجوع کرتے ہیں تو معاذ اسے پہلے ہی شروع کرا چکے ہوتے ہیں۔
انہیں کوئی کام کہہ دیا جائے تو پھر بے فکری ہو جاتی ہے، کیوں کہ وہ جان پر کھیل کر بھی پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔
بہت زیادہ کام کرنے کی وجہ سے اکثر پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ مسکراہٹ چہرے سے غائب رہتی ہے۔ شام چار بجے دفتر میں ایک مجلس بلائی جاتی ہے جس میں دن بھر جلنے والی خبروں کا ذکر کیا جاتا ہے اور شام کے خبر ناموں کے لیے لائحہ عمل طے کیا جاتا ہے۔ اس میٹنگ سے قبل تو ان کی سنجیدگی سوا ہوتی ہے۔ سوچ کی شدت غلبہ پاتی ہے تو دونوں ہاتھوں سے اپنا ہی سر تھام لیتے ہیں۔ استغراق کا ایک عالم طاری ہوتا ہے۔ غیب سے جانے کیا کیا مضامین خیال میں آتے ہیں۔ جب تک مجلس کی کارروائی باضابطہ طور پر شروع نہ ہو یہ اسی کیفیت میں رہتے ہیں۔
ایسی ہی ایک میٹنگ میں ہمیں بھی شامل ہونے کی سعادت ملی۔ معاذ صاحب کو دونوں ہاتھوں سے سر تھامے دیکھا تو یہ لمحہ کیمرے کی آنکھ سے قید کرنے کا ارادہ کیا۔ یہ ہمارا ارادہ بھانپ گئے یا ہماری سادگی پر پیار آ گیا۔۔۔ بے ساختہ تبسم فرمانے لگے۔ کچھ دیر میں تبسم مزید نمایاں ہو کر باقاعدہ قسم کی ہنسی میں ڈھل گیا۔ تصویر دیکھ کر اندازہ لگائیے کہ معاذ مسکراتے ہوئے بھی اچھے لگتے ہیں۔ اور انہیں رائے دیجیے کہ ہر وقت کی فکر اچھی بات نہیں۔
اللہ آپ کو یوں ہی ہنستا مسکراتا رکھے۔

عشق کرنے کی حسرت

yadon-ki-barat-pdf-book-by-josh-malihabadi-in-urduکتاب ‘یادوں کی برات’ میں جوش ملیح آبادی کے اٹھارہ معاشقوں کا ذکر پڑھنے کے بعد ہم پر شدید قسم کا حسد طاری ہے۔ حسد کی ایک بات تو یہ کہ جوش صاحب کا کوئی ایک عشق بھی ناکام نہیں ہوا، دوسری یہ کہ اکثر اوقات انہیں پہل نہ کرنا پڑی بلکہ حسین عورتوں نے خود آگے بڑھ کر ان سے عشق کیا۔ اٹھارہ میں سے تین تو اپنی جان سے گزر گئیں۔ ایسا بھی ہوا کہ ریل میں سفر کرتے ہوئے آنکھ لڑی اور مسافت کے دوران ہی لطف کی کئی منزلیں طے ہو گئیں۔ وقت اور سرمائے کی فراوانی ایسی تھی کہ دوران سفر عشق ہوا، محبوبہ نے جس اسٹیشن پر اترنا تھا یہ بھی وہیں اتر گئے، وہیں ہوٹل میں کمرہ بھی کرائے پر لے لیا، مہینہ بھر قیام رہا، خلوت اور جلوت کا ساتھ رہا۔ پھر جب محبوبہ کے والد کو خبر ہو گئی تو یہ بھی اپنی دکان بڑھا گئے۔
یہ معاملہ بھی ہوا کہ ایک ساتھ دو سہیلیاں ان پر مر مٹیں، ایک نے حسد کے مارے دوسری کو کچھ کہا تو اس نے خود کشی کرنے کو سمندر میں چھلانگ لگا دی۔ یہ اسے نکال کر اسپتال لے گئے تو وہاں کی ڈاکٹر ان پر فریفتہ ہو گئیں۔
ارے۔۔۔ جوش ملیح آبادی نہ ہوئے، مستنصر حسین تارڑ ہو گئے۔ ہم تو جلن کے مارے بل کھا رہے ہیں۔ پڑھنا جاری رکھیں

سیٹھوں کے ملازم صحافی

پیارے صحافی بھائیو اور بہنو! خاکسار کے خیال میں آج کل صحافت ایک کاروبار ہے اور ہر بیوپار کی طرح اس کا بنیادی مقصد بھی پیسہ کمانا ہے۔ اس میڈیائی بازار میں خبر ایک پراڈکٹ ہے اور صحافی اسے لانے، بنانے اور پیش کرنے والا مزدور۔ آپ کی خبر بکے گی تو کاروبار چلے گا۔
جس سیٹھ کے ہاں آپ مزدوری کرتے ہیں، وہ صحافت کے علاوہ بھی کئی کاروبار کرتا ہے۔ اور میڈیائی کاروبار کرنے کا ایک مقصد اپنے ‘دیگر’ تجارتی مفادات کا تحفظ بھی ہوتا ہے۔ لہذا آپ کی صحافت بھی اسی سوداگری دائرہ کار میں رہے گی۔ آپ ہر وہ خبر چلانے میں آزاد ہوں گے جس سے سودا بھی بک جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔
اسی دائرے میں گھومتے ہوئے آپ نے مزدوری کرنی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

مقدس پانی کب ملے گا؟

صبح پانچ بجے سفر کا آغاز کیا تو اندازہ نہ تھا دھند یوں آن دبوچے گی۔ ٹھوکر نیاز بیگ لاہور سے موٹر وے کا راستہ پکڑا تو بادل سے آ گئے۔ سوچا کسی فیکٹری کا دھواں ہو گا۔ سر جھٹک کر آگے بڑھے تو پھر سب صاف۔ اس سے پہلے گھر سے نکلنے اور اسٹور سے خریداری کے بعد معمولی سا حادثہ کرا بیٹھے تھے۔ گاڑی میں چار پانچ نفوس بیٹھیں تو سردیوں میں شیشے دھندلا جاتے ہیں۔ پیچھے موجود کھمبا نظر ہی نہ آیا۔ تصادم کے بعد اتر کر دیکھا تو زیادہ نقصان نہ تھا۔ اللہ کا شکر ادا کیا۔
خالی ٹینکی کے باوجود اطمینان تھا کہ موٹر وے ٹال پلازے سے پہلے ایک پیٹرول پمپ ہے۔ لیکن دھند کا ایسا ہلہ آیا کہ پیٹرول پمپ نظر ہی نہ آیا۔ پڑھنا جاری رکھیں

ایمپرا الیکشن، چند گزارشات

ٹی وی پروڈیوسرز کی تنظیم ایمپرا کے الیکشن ہونے کو آئے ہیں۔ ہر جانب سے ووٹ اسپورٹ ۔۔۔ قول و قرار ۔۔۔ عہد و پیماں ۔۔۔ التجاؤں صداؤں ۔۔۔ کا شور ہے۔
ووٹ مانگنے والوں سے گزارش ہے کہ کیوں نہ آپ ایک ایجنڈا بنا لیں۔ بتائیں کہ آپ کا لائحہ عمل کیا ہو گا۔ کیوں کر آپ کو ووٹ دیا جائے اور دوسرے امیدوار کو نہ دیا جائے۔
ایجنڈے میں صرف دعوے ہی نہ ہوں بلکہ ان کو پورا کرنے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا، اس کی تفصیل بھی ہو۔ پچھلے سال فتح پانے والوں نے سال بھر کیا کار ہائے نمایاں سر انجام دیے، اس کی تصریح بھی کر دی جائے۔ نجی محفلوں میں اگر کوئی الزام لگائے جا رہے ہیں تو ان کا ذکر بھی علی الاعلان ہو، تاکہ ملزم کو وضاحت کا موقع ملے۔
خاکسار کی گزارش یہ ہے کہ یہ ووٹ کسی دھڑے بندی، دوستی، یا دباؤ میں مانگا جائے، نہ ہی دیا جائے۔
ہر امیدوار اپنی سوچ، لائحہ عمل کو وضاحت سے بیان کرے۔ تاکہ ووٹر عقل سے فیصلہ کرے، نہ کہ جذبات سے۔
گزارش یہ بھی ہے کہ ان انتخابات کو اپنی انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔ نظریاتی اختلاف کو نہ صرف تسلیم کیا جائے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے۔
اگر آپ کا کوئی دوست آپ کے مخالف دھڑے کو ووٹ ڈالنے جا رہا ہے تو یہ اس کا حق ہے۔ اس کی پسند آپ کی دوستی کی راہ میں حائل نہیں ہونی چاہیے۔
اب تک تو سوشل میڈیا پر یار دوست کسی کی اسپورٹ کا اعلان کر رہے ہیں۔ ان سے کہنا یہ ہے کہ وہ اپنے امیدوار کو اسپورٹ کرنے کی وجہ بھی بتائیں تاکہ جو اسے نہیں جانتا وہ بھی اپنا ذہن بنا سکے۔
کسی امیدوار کو منتخب کرنے کےلیے معیار کیا ہونا چاہیے؟
کیا اس کا ذاتی حوالے سے اچھا ہونا ہی کافی ہے، یا اس بات کو بھی مد نظر رکھا جائے کہ منتخب ہونے کے بعد وہ کرے گا کیا؟

راہوالی کی قلفیاں

اسلام آباد سے براستہ جی ٹی روڈ لاہور جائیں تو گوجرانوالہ سے ذرا پہلے راہوالی آتا ہے۔ یہاں سے گزرتے ہوئے آپ کو سڑک کنارے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بہت سے بزرگوں کی تصویریں نظر آئیں گی۔ پہلے پہل آپ توجہ نہیں دیں گے، لیکن تصویروں کا سلسلہ دراز ہوتا چلا جائے گا۔ پھر آپ غور کریں گے کہ تمام تصویریں بظاہر تو ایک شخص کی نظر آتی ہیں لیکن ہر ایک کی صورت کچھ کچھ مختلف ہے۔ سر پر ٹوپی، سفید داڑھی لیکن چہرے کا سانچہ کچھ مختلف۔ کہیں داڑھی ذرا لمبی ہے، کہیں ٹوپی فرق ہے، کہیں عینک لگا رکھی ہے، کہیں صورت کے گرد نور کا پھیلاؤ کچھ زیادہ ہے۔ اب آپ تصویروں کے دائیں بائیں اوپر نیچے لکھی عبارت بھی پڑھیں گے۔ تب معلوم ہو گا یہ تصویریں تو قلفی بیچنے والوں نے لگا رکھی ہیں، اپنی ہی قلفی کو راہوالی کی اصلی، یا ‘المشہور’ یا مستند قلفی کے دعوے کے ساتھ۔
آپ گاڑی کی رفتار کچھ آہستہ کریں گے تو معلوم ہو گا بینرز پر ٹنگے بزرگوں میں سے زیادہ تر کا نام سلمان نام ہے۔ کہیں صرف سلمان، کہیں محمد سلمان، کہیں صوفی سلمان۔۔۔ اور کہیں اس سے ملتے جلتے نام، جیسے کہ سبحان۔ ایک آدھ استثنیٰ سید پیر مرتضیٰ جیلانی کے نام کی صورت بھی سامنے آیا۔

کہیں یہ دعویٰ کہ راہوالی کی پرانی قلفی تو سلمان ہی کی ہے، کہیں یہ استغاثہ کہ محمد سلمان ہی اصلی قلفی والے ہیں کہیں یہ اصرار کہ راہوالی کی مشہور قلفی تو صوفی سلمان صاحب کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں پیش کرتا۔ پڑھنا جاری رکھیں