کامیاب کیسے ہوں

سیلف ہیلپ پر مزید ویڈیوز کے لیے سبسکرائب کریں

http://www.youtube.com/SelfHelpUrdu

وقت کیسے بچائیں

سیلف ہیلپ پر مزید ویڈیوز کے لیے آپ یہ یو ٹیوب چینل سبسکرائب کر سکتے ہیں

http://www.youtube.com/SelfHelpUrdu

بہتر فیصلہ کیسے کریں؟

اردو میں سیلف ہیلپ پر مزید ویڈیوز کے لیے یو ٹیوب چینل سبسکرائب کریں: لنک یہ ہے

دو منٹ میں مسئلہ حل کریں

زندگی میں آنے والے ذاتی، کاروباری یا سماجی مسائل سے ہم سبھی پریشان ہوتے ہیں اور انہیں فوری طور پر حل کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔ اس بارے میں پڑھتے ہوئے ایک انتہائی دلچسپ چیز معلوم ہوئی۔
آپ نے کوئی بھی مسئلہ حل کرنا ہے تو گھبراہٹ یا پریشانی کے بجائے، ایک چیلنج سمجھ کر اس پر قابو پانے کی کوشش کریں۔ مسئلے کے حل کا تمام دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ ردعمل کیا دیتے ہیں۔
سب سے پہلے ایسا کریں کہ خود پر قابو پائیں ۔۔۔ اپنے آپ کو یقین دلائیں آپ اسے حل کر لیں گے
پھر یوں کریں کہ مسئلے کو مسئلہ نہ کہیں ۔۔ پرابلم نہ کہیں۔۔۔ برابلم ایک منفی لفظ ہے۔۔۔ پریشان کر دیتا ہے
اسے ایک سچوئیشن کہہ لیں پڑھنا جاری رکھیں

میرا پنیر کہاں گیا

ایک جگہ پر چار لوگ رہتے تھے، ان میں سے دو چوہے تھے۔۔اور دو انہی جتنے چھوٹے چھوٹے انسان ۔۔چوہوں کے نام تھے سنف اور سکری اورانسانوں کے نام تھے ہیم اور ہاء۔۔۔
چاروں روزانہ اپنے کھانے کے لیے پنیر تلاش کرتے
چوہے چونکہ بے عقل تھے، اس لیے انہیں جس قسم کا پنیر مل جاتا وہ کھا لیتے
انسان چونکہ عقل مند تھے، انہیں ایک خاص قسم کے پنیر کی تلاش تھی۔ ان کا خیال تھا وہ خاص پنیر ملا تو ہی انہیں خوشی ملے گی۔
سنف اور سکری منہ اٹھا کر چل پڑتے۔ کہیں پنیر مل جاتا اور کہیں ناکامی ملتی۔
ہیم اور ہا خاص قسم کا پنیر تلاش کرنے کے منصوبے بناتے رہتے اور ناکامی پر بہت اداس ہو جاتے
آخر ایک دن چاروں کو ایک جگہ ملی۔۔۔ جہاں پنیر کا خزانہ پڑا تھا پڑھنا جاری رکھیں

مشکل کا حل کیسے نکالیں؟

دراصل مشکل اتنی اہم نہیں ہوتی، جتنا اہم ہمارا ردعمل ہوتا ہے۔
اس بات کو مثال کے ذریعے واضح کرتے ہیں۔
ٹونی رابنز ایک امریکی بزنس مین ہیں، اور سیلف ہیلپ پر کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ جب وہ گیارہ سال کے تھے تو ان کے گھر کے حالات کچھ ٹھیک نہ تھے۔ ان کے والد بے روز گار تھے ۔۔۔ والد اور والدہ میں لڑائی بھی رہتی۔
ایسے میں ایک تہوار کے موقع پر چند اجنبی لوگوں نے ان کے گھر کھانا بھیجا۔
ٹونی رابنز کے والد نے کہا ۔۔۔ اچھا، تو اب ہمیں خیرات بھیجی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے مجھے ناکارہ شخص سمجھا جاتا ہے۔ اس بات پر جھگڑ کر وہ گھر سے باہر چلے گئے
ٹونی رابنز کا ردعمل کچھ مختلف تھا۔۔۔ پڑھنا جاری رکھیں

بارہ عادتیں جو کامیاب بنائیں

سیانے کہتے ہیں کامیاب ہونا مشکل نہیں ہے، بس اپنے اندر کامیاب لوگوں والی عادتیں پیدا کرنا ہوں گی۔ سیانوں کی یہ بات ہم تک انٹرنیٹ کے ذریعے پہنچی، اور انٹرنیٹ کے ذریعے ہی ہم نے کامیاب لوگوں کی عادتوں کا کھوج لگایا۔
معلوم ہوا، کہ کامیاب لوگ اپنا (1) ہدف مقرر کرتے ہیں۔
(2) کامیاب لوگوں کی سوچ واضح ہوتی ہے۔ انہیں اچھی طرح معلوم ہوتا ہے وہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے خیالات کو ایک واضح سمت دینے کے لیے وہ اپنے اہداف ایک کاغذ پر (یا کمپیوٹر پر) لکھ لیتے ہیں۔ منصوبے پر عمل سے پہلے وہ لکھ کر اس کی جزئیات پر خوب غور کرتے ہیں۔ یعنی کے منصوبہ کیا ہے، کیا ہدف حاصل کرے گا اور یہ اہداف حاصل کرنے کے لیے کیا اقدامات کرنا ہوں گے۔ پڑھنا جاری رکھیں

بس دو منٹ

ہمیں ہمیشہ سے آج کا کام کل پر چھوڑنے کی عادت ہے۔ کوئی اسائنمنٹ ملی ہو تو آخر وقت تک لٹکائے رکھتے ہیں۔ جمع کرانے میں ایک دن رہ جائے تو ہول اٹھنے لگتے ہیں ۔ تب جا کر کام شروع ہوتا ہے۔ ہر گھڑی دھڑکا لگا رہتا ہے، جیسے تیسے کر کے کام مکمل کرتے ہیں، نہ تو درست طریقے سے ناقدانہ نظر ڈال پاتے ہیں نہ ہی بہتری کے لیے کوئی وقت دے پاتے ہیں۔ بس اسائمنٹ مکمل ہوتے ہی متعلقہ فرد کے حوالے کرتے ہیں اور آئندہ ایسا نہ کرنے کے لیے خود سے وعدہ کرتے ہیں۔
اور اگلی بار پھر ایسی ہی صورتحال ہوتی ہے۔یعنی خیالی منصوبے تو بہت بناتے ہیں، لیکن آج کا کام کل پر چھوڑنے کی عادت نہیں جاتی۔
ایسی ہی شش و پنج کے دوران ہمیں دو منٹ کا قانون نظر آیا۔۔۔ یہ پڑھنے کے بعد سے کافی افاقہ ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

آخر ہم کرنا کیا چاہتے ہیں؟

یہ وہ سوال ہے جو ہم اکثر خود سے کرتے ہیں، اور کبھی اس کا شافی جواب نہیں پاتے۔ تبھی ہم نے گوگل کی معرفت کچھ سیانوں سے مشورہ لینے کا فیصلہ کیا۔
سوال سادہ سا ہے، ایسا کیا کیا جائے جو من کو بھی بھائے اور پیسے بھی چوکھے کمائے؟ بابا گوگل نےجن بُدھی دانوں کے خیالات ہم تک پہنچائے، وہ جان کر تھوڑی مایوسی ہوئی۔ یہ عاقل کہتے ہیں کام کوئی بھی کرو، کمائی کا مت سوچو۔ بس جو جی میں آئے وہ کرو، کرتے چلے جاؤ، کمائی کی صورت آپ ہی پیدا ہو جائے گی۔
بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی!
جب تک کچھ یافت ہو گی تب تک پاپی پیٹ کا کیا بندوبست ہو؟  کوئی ٹائم فریم بھی تو ہونا چاہیے نا۔اور جی میں بھی کوئی ایک خیال تھوڑی آتا ہے۔  یہ دانا فرماتے ہیں چار پانچ مشقیں کیجیے، آپ کی زندگی کا مقصد خود سامنے آن کھڑا ہو گا۔ پڑھنا جاری رکھیں

کیا میں کامیاب ہوں؟

یار میں تنگ آ گیا ہوں۔۔۔ اس نے تھکے تھکے انداز میں کی بورڈ پر انگلیاں چلاتے ہوئے کہا۔
کس چیز سے تنگ آ گئے ہو؟ میں نے فطری سا سوال پوچھا۔
یہی نا۔۔۔ اب دیکھو یہ بھی کوئی کام ہے جو میں کر رہا ہوں۔ اسے شاید مجھ سے کسی سوال کی توقع نہ تھی۔
پھر تم کون سا کام کرنا چاہتے ہو؟ میں نے مزید دلچسپی لی۔
اس نے تھوڑا سا سوچا، جیسے کچھ سوجھ نہ رہا ہو، پھر کہنے لگا، "یار کام تو یہی ٹھیک ہے، لیکن میری تنخواہ بھی تو دیکھو۔”
یعنی تمہاری تنخواہ بڑھا دی جائے تو اسی کام میں زیادہ دلچسپی لینے لگو گے؟ میرے سوال پر اس نے اثبات میں سر تو ہلایا لیکن چہرے کے تاثرات بتاتے تھے گویا اپنی ہی بات پر یقین نہ ہو۔
جس دوست سے یہ گفتگو ہوئی وہ ایک مناسب دفتر میں مناسب تنخواہ پر کام کر رہا ہے۔ دفتر لانا اور واپس لے جانا بھی انتظامیہ کے ذمے ہے، ایک حد تک طبی سہولیات بھی ادارہ ہی فراہم کرتا ہے۔۔۔ گویا اس کی نوکری بہت سوں کے لیے بہت مثالی ہے لیکن وہ خود اس سے بھی بڑھ کر کچھ چاہتا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں