بس دو منٹ

ہمیں ہمیشہ سے آج کا کام کل پر چھوڑنے کی عادت ہے۔ کوئی اسائنمنٹ ملی ہو تو آخر وقت تک لٹکائے رکھتے ہیں۔ جمع کرانے میں ایک دن رہ جائے تو ہول اٹھنے لگتے ہیں ۔ تب جا کر کام شروع ہوتا ہے۔ ہر گھڑی دھڑکا لگا رہتا ہے، جیسے تیسے کر کے کام مکمل کرتے ہیں، نہ تو درست طریقے سے ناقدانہ نظر ڈال پاتے ہیں نہ ہی بہتری کے لیے کوئی وقت دے پاتے ہیں۔ بس اسائمنٹ مکمل ہوتے ہی متعلقہ فرد کے حوالے کرتے ہیں اور آئندہ ایسا نہ کرنے کے لیے خود سے وعدہ کرتے ہیں۔
اور اگلی بار پھر ایسی ہی صورتحال ہوتی ہے۔یعنی خیالی منصوبے تو بہت بناتے ہیں، لیکن آج کا کام کل پر چھوڑنے کی عادت نہیں جاتی۔
ایسی ہی شش و پنج کے دوران ہمیں دو منٹ کا قانون نظر آیا۔۔۔ یہ پڑھنے کے بعد سے کافی افاقہ ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

آخر ہم کرنا کیا چاہتے ہیں؟

یہ وہ سوال ہے جو ہم اکثر خود سے کرتے ہیں، اور کبھی اس کا شافی جواب نہیں پاتے۔ تبھی ہم نے گوگل کی معرفت کچھ سیانوں سے مشورہ لینے کا فیصلہ کیا۔
سوال سادہ سا ہے، ایسا کیا کیا جائے جو من کو بھی بھائے اور پیسے بھی چوکھے کمائے؟ بابا گوگل نےجن بُدھی دانوں کے خیالات ہم تک پہنچائے، وہ جان کر تھوڑی مایوسی ہوئی۔ یہ عاقل کہتے ہیں کام کوئی بھی کرو، کمائی کا مت سوچو۔ بس جو جی میں آئے وہ کرو، کرتے چلے جاؤ، کمائی کی صورت آپ ہی پیدا ہو جائے گی۔
بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی!
جب تک کچھ یافت ہو گی تب تک پاپی پیٹ کا کیا بندوبست ہو؟  کوئی ٹائم فریم بھی تو ہونا چاہیے نا۔اور جی میں بھی کوئی ایک خیال تھوڑی آتا ہے۔  یہ دانا فرماتے ہیں چار پانچ مشقیں کیجیے، آپ کی زندگی کا مقصد خود سامنے آن کھڑا ہو گا۔ پڑھنا جاری رکھیں

کیا میں کامیاب ہوں؟

یار میں تنگ آ گیا ہوں۔۔۔ اس نے تھکے تھکے انداز میں کی بورڈ پر انگلیاں چلاتے ہوئے کہا۔
کس چیز سے تنگ آ گئے ہو؟ میں نے فطری سا سوال پوچھا۔
یہی نا۔۔۔ اب دیکھو یہ بھی کوئی کام ہے جو میں کر رہا ہوں۔ اسے شاید مجھ سے کسی سوال کی توقع نہ تھی۔
پھر تم کون سا کام کرنا چاہتے ہو؟ میں نے مزید دلچسپی لی۔
اس نے تھوڑا سا سوچا، جیسے کچھ سوجھ نہ رہا ہو، پھر کہنے لگا، "یار کام تو یہی ٹھیک ہے، لیکن میری تنخواہ بھی تو دیکھو۔”
یعنی تمہاری تنخواہ بڑھا دی جائے تو اسی کام میں زیادہ دلچسپی لینے لگو گے؟ میرے سوال پر اس نے اثبات میں سر تو ہلایا لیکن چہرے کے تاثرات بتاتے تھے گویا اپنی ہی بات پر یقین نہ ہو۔
جس دوست سے یہ گفتگو ہوئی وہ ایک مناسب دفتر میں مناسب تنخواہ پر کام کر رہا ہے۔ دفتر لانا اور واپس لے جانا بھی انتظامیہ کے ذمے ہے، ایک حد تک طبی سہولیات بھی ادارہ ہی فراہم کرتا ہے۔۔۔ گویا اس کی نوکری بہت سوں کے لیے بہت مثالی ہے لیکن وہ خود اس سے بھی بڑھ کر کچھ چاہتا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں