شریف کون ہوتا ہے؟

برصغیر پر جب انگریز قابض تھا۔ تو وہاں ریڈیو اسٹیشن کا ڈول ڈالا گیا۔سید ذوالفقارعلی بخاری اس وقت ریڈیو سے وابستہ ہوئے۔ اور براڈکاسٹنگ میں بہت نام کمایا۔یہاں تک کہ پاکستان بننے کے بعد یہاں ریڈیو پاکستان کے ڈائیریکٹر جنرل تک ترقی پائی۔
یہ قصہ ذوالفقار بخاری صاحب کی سرگزشت سے لیا گیا ہے۔۔اور اس وقت کا ہے، جب دہلی ریڈیو اسٹیشن کے لیے موسیقار منتخب کیے جانے تھے۔
سید زوالفقار بخاری اپنی سرگزشت میں لکھتے ہیں۔ کہ ان کا خیال تھا۔۔ جب یہ شہرت ہو گی کہ دہلی میں ریڈیو اسٹیشن کھل رہا ہے اور موسیقاروں کو اجرت پر پروگرام ملیں گے، تو میرے دفتر کے سامنے گانے والوں اور گانے والیوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ جائیں گے۔
مگر وہ دلی تھی۔
ہر طرف سے یہ جواب دیا گیا کہ تم کون ہوتے ہو ہمارا امتحان لینے والے۔
مجرے سے پہلے ہمارا گانا سننا چاہتے ہو تو کوٹھے پر آؤ۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

ہلیری کلنٹن کے ساتھ کیا ہوا

گہری سانس لو، اپنے پھیپھڑوں کو ہوا سے بھر لو، اس وقت صبر کرنا ہی مناسب ہے، بعد میں رو لینا۔
ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر بننے کے بعد حلف اٹھا رہے تھے تو اس وقت ان سے مات کھانے والی ہلیری کلنٹن کے دل و دماغ میں انہی خیالات کی یلغار تھی۔
امریکا کی سابق وزیر خارجہ، اور صدارتی انتخاب ہارنے والی خاتون ہلیری کلنٹن کی نئی کتاب پڑھنا شروع کی ہے۔ ہلیری ایک مضبوط hillaryامیدوار تھیں، انتخابات میں ان کی شکست پر بہت سے لوگوں کو حیرت ہوئی تھی۔ اسی وجہ سے کتاب کا نام رکھا گیا ہے
What happened
یعنی کہ کیا ہوا؟ کتاب کا آغاز حیریٹ ٹب مین کے ان جملوں سے ہوتا ہے
اگر تم تھک چکے ہو، چلتے رہو
اگر تم خوف زدہ ہو، چلتے رہو
اگر تم بھوکے ہو، چلتے رہو
اگر تم آزادی چاہتے ہو، چلتے رہو
پہلا باب ہی پڑھ پایا ہوں، اور ابھی تک تو یہی لگ رہا ہے کہ بی بی نے کتاب لکھ کر اپنی خفت مٹانے کی کوشش کی ہے۔
تعارفی کلمات میں رقم طراز ہیں
یہ سب لکھنا آسان نہ تھا، میں جانتی تھی کہ کروڑوں لوگ مجھ سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، اور میں انہیں مایوس کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ لیکن میں نے کر دیا۔
ابتدائی کلمات میں ہی روس کی جانب بھی انگلیاں اٹھا دی ہیں۔ ڈائیریکٹر ایف بی آئی پر بھی مداخلت کا الزام لگایا۔ ای میلز لیک ہونے کی خبر کو اچھالنے پر میڈیا سے بھی شکوہ کیا۔
لکھا ہے، "مجھے یقین تھا کہ ٹرمپ ملک اور دنیا کے لیے خطرہ ہے۔ وہ  بائبل پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھا چکا تھا۔ ہمارے ساتھ مذاق ہو چکا تھا۔ "

پس تحریر: فرصت اور شوق برقرار رہنے کی دعا کیجیے، باقی کتاب کا نچوڑ بھی پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ ہلیری کلنٹن اس سے پہلے "سخت فیصلے” کے عنوان سے ایک کتاب لکھ چکی ہیں۔ اس میں پاکستان کے بارے میں  باب پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

قاتل کی تلاش

ناول نگار جیمس پیٹرسن سے اپنا کوئی تعارف نہ تھا، نہ کبھی نام سنا، نہ کوئی تحریر پڑھی ۔۔۔ ایک روز کچھ پڑھنے لائق پھرولتے ہوئے ان James Patterson's Invisibleکا ناول انویزیبل چکھنے کا سوچا۔ کہانی کا آغاز پھیکا سا نکلا، کوئی خاتون شعلوں میں گھری ہیں اور یہی بیان کرنے میں کئی سطریں گھسیٹ دی گئی ہیں۔ تنگ آ کر ناول رکھنے کا سوچا ہی تھا کہ کہانی کچھ کچھ دلچسپ ہوتی معلوم ہوئی۔
کہانی کی مرکزی کردار ایمی نامی خاتون ہیں جو امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی میں تجزیہ کار ہیں۔ ان کی بہن مارتھا گھر میں آگ لگنے سے ہلاک ہو جاتی ہیں اور ایمی کو شک ہے کہ آگ حادثاتی طور پر نہیں لگی بلکہ مارتھا کو قتل کیا گیا۔ تفتیشی ادارے ایمی کے نظریے سے اتفاق نہیں کرتے اور یہ بات ان کے اعصاب پر سوار ہو جاتی ہے۔
ایمی معاملے کو مزید کریدتی ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے امریکا کے کئی اور علاقوں میں آگ لگنے کے ایسے ہی واقعات سامنے آئے ہیں، اور ان کا سلسلہ جاری ہے۔ ایمی کا خیال ہے کہ یہ ایک ہی شخص کی کارستانی ہے۔ مایوسی کے عالم میں وہ اپنے سابق منگیتر ہیریسن بک مین سے رابطہ کرتی ہیں جو ایف بی آئی میں ہی تفتیش کار رہنے کے بعد ریٹائر ہو چکے ہیں۔ وہ قائل ہو جاتے ہیں کہ آگ لگنے کے چند مخصوص واقعات کے پیچھے ایک ہی شخص کا ہاتھ ہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

ہمارے ستاروں کی غلطی

ہمارے ستاروں کی غلطی۔۔۔
دی فالٹ ان آور اسٹارز کا بھلا اور کیا ترجمہ ہو؟ جان گرین صاحب کا یہ ناول جانے کب سے ہمارے پاس پڑا تھا۔ اب کی بار چھٹیوں the-fault-in-our-stars-by-john-green-book-pdf-free-download-600x600کے دوران یونہی وقت گزارنے کو چند صفحے پلٹے تو کہانی نے اپنی گرفت میں لے لیا۔
کہانی کا مرکزی کردار ایک نوجوان لڑکی ہیزل ہے جو کینسر کی مریضہ ہے۔ مرض کی وجہ سے وہ کسی سے ملنا جلنا پسند نہیں کرتی، لیکن والدہ کے مجبور کرنے پر کینسر سے متاثرہ افراد کے اجتماع میں شرکت کرنے لگتی ہے۔ یہاں اس کی ملاقات ایک خوش وضع نوجوان آگسٹس سے ہوتی ہے جو محبت میں بدل جاتی ہے۔
ہیزل کو کتابیں پڑھنے کا شوق ہے۔ اسے ایک ناول بہت پسند ہے جس میں ناول نگار نے کہانی ادھوری چھوڑ دی ہے۔ ہیزل اس تجسس میں مبتلا ہے کہ ناول کی پوری کہانی کیا ہو گی۔ آگسٹس بھی یہ ناول پڑھتا ہے اور اسی تجسس میں گھر جاتا ہے۔
دونوں ناول نگار سے ملاقات کا فیصلہ کرتے ہیں تاکہ اس سے مکمل کہانی سن سکیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

عشق کرنے کی حسرت

yadon-ki-barat-pdf-book-by-josh-malihabadi-in-urduکتاب ‘یادوں کی برات’ میں جوش ملیح آبادی کے اٹھارہ معاشقوں کا ذکر پڑھنے کے بعد ہم پر شدید قسم کا حسد طاری ہے۔ حسد کی ایک بات تو یہ کہ جوش صاحب کا کوئی ایک عشق بھی ناکام نہیں ہوا، دوسری یہ کہ اکثر اوقات انہیں پہل نہ کرنا پڑی بلکہ حسین عورتوں نے خود آگے بڑھ کر ان سے عشق کیا۔ اٹھارہ میں سے تین تو اپنی جان سے گزر گئیں۔ ایسا بھی ہوا کہ ریل میں سفر کرتے ہوئے آنکھ لڑی اور مسافت کے دوران ہی لطف کی کئی منزلیں طے ہو گئیں۔ وقت اور سرمائے کی فراوانی ایسی تھی کہ دوران سفر عشق ہوا، محبوبہ نے جس اسٹیشن پر اترنا تھا یہ بھی وہیں اتر گئے، وہیں ہوٹل میں کمرہ بھی کرائے پر لے لیا، مہینہ بھر قیام رہا، خلوت اور جلوت کا ساتھ رہا۔ پھر جب محبوبہ کے والد کو خبر ہو گئی تو یہ بھی اپنی دکان بڑھا گئے۔
یہ معاملہ بھی ہوا کہ ایک ساتھ دو سہیلیاں ان پر مر مٹیں، ایک نے حسد کے مارے دوسری کو کچھ کہا تو اس نے خود کشی کرنے کو سمندر میں چھلانگ لگا دی۔ یہ اسے نکال کر اسپتال لے گئے تو وہاں کی ڈاکٹر ان پر فریفتہ ہو گئیں۔
ارے۔۔۔ جوش ملیح آبادی نہ ہوئے، مستنصر حسین تارڑ ہو گئے۔ ہم تو جلن کے مارے بل کھا رہے ہیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

میرا پنیر کہاں گیا

ایک جگہ پر چار لوگ رہتے تھے، ان میں سے دو چوہے تھے۔۔اور دو انہی جتنے چھوٹے چھوٹے انسان ۔۔چوہوں کے نام تھے سنف اور سکری اورانسانوں کے نام تھے ہیم اور ہاء۔۔۔
چاروں روزانہ اپنے کھانے کے لیے پنیر تلاش کرتے
چوہے چونکہ بے عقل تھے، اس لیے انہیں جس قسم کا پنیر مل جاتا وہ کھا لیتے
انسان چونکہ عقل مند تھے، انہیں ایک خاص قسم کے پنیر کی تلاش تھی۔ ان کا خیال تھا وہ خاص پنیر ملا تو ہی انہیں خوشی ملے گی۔
سنف اور سکری منہ اٹھا کر چل پڑتے۔ کہیں پنیر مل جاتا اور کہیں ناکامی ملتی۔
ہیم اور ہا خاص قسم کا پنیر تلاش کرنے کے منصوبے بناتے رہتے اور ناکامی پر بہت اداس ہو جاتے
آخر ایک دن چاروں کو ایک جگہ ملی۔۔۔ جہاں پنیر کا خزانہ پڑا تھا کو پڑھنا جاری رکھیں

دنیا کی سب سے میٹھی چیز کیا؟

دنیا کی سب سے میٹھی چیز کیا ہے؟
میں نے یہ سوال فیس بک پر پوسٹ کیا تو خاصے دلچسپ جواب موصول ہوئے۔
کسی کے نزدیک خوشامد دنیا کی سب سے میٹھی چیز تھی۔ کوئی زبان تو کوئی خود فریبی کو میٹھا بتاتا رہا
کسی کو دوستی میں مٹھاس ملی۔کسی کو آم رسیلے معلوم ہوئے تو کسی کو شہد ۔۔۔ ایک صاحب نے چینی، شہد اور گڑ کا محلول تجویز کیا۔
کمنٹ کرنے والی سبھی خواتین نے بچوں کو ۔۔۔ ان کی ہنسی کو دنیا کی میٹھی ترین چیز قرار دیا۔ ایک خاتون نے فہرست میں اپنے شوہر اور والدہ کی مسکراہٹ کا بھی اضافہ کیا۔9781907970610
بپسی سدھوا کے ناول ۔۔۔ دا کرو ایٹرز ۔۔۔ کا کردار فریڈی بھی یہی سوال کرتا ہے۔ اور خود ہی جواب دیتے ہوئے کہتا ہے
دنیا کی سب سے شیریں چیز ۔۔۔ ضرورت یا خواہش ۔۔۔ ہے۔
ضرورت ایک ظالم شخص کو رحم دل بنا دیتی ہے۔ خواہش ایک انا پرست کو خوشامدی بناتی ہے۔
آپ اسے حالات کہہ لیں یا ذاتی مفاد۔۔۔ آخر میں آپ کی ضرورت اور خواہش ہی آپ سے سب کچھ کرواتی ہے۔
جس شخص کو آپ دیکھنا بھی نہ چاہیں ۔۔۔ ضرورت پڑنے پر اس سے مسکرا کر بات کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
یہ ضرورت ہی ہے کہ آپ اپنے دشمن کو بھی بھائی بنا لیتے ہیں۔
کیا آپ بھی ناول کے کردار فریڈی کی رائے سے اتفاق کرتے ہیں، کہ دنیا کی سب سے میٹھی چیز ضرورت یا خواہش ہے؟

نواز شریف کا ذوق طعام

ترک صدر کی پاکستان آمد، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب، اور تحریک انصاف کی جانب سے بائیکاٹ نے شاید کچھ سیاسی الجھاؤ پیدا کیا ہو، لیکن ہمیں تو کرامت اللہ غوری کی کتاب بار شناسائی میں لکھا ایک واقعہ یاد آ گیا۔
کرامت اللہ غوری سفارت کاری سے وابستہ رہے ہیں۔ دوران ملازمت پاکستان کے جن حکمرانوں سے واسطہ رہا، ان کا احوال اپنی کتاب بار شناسائی میں لکھا ہے۔ لکھتے ہیں، وہ ترکی میں بطور سفیر اپنے فرائض ادا کر رہے تھے تو جولائی 1999 میں استنبول اور گرد و نواح میں ہلاکت خیز زلزلہ آیا۔ نواز شریف اس وقت اپنی وزارت عظمیٰ کی دوسری اننگز کھیل رہے تھے۔ انہوں نے تعزیت کے لیے ترکی آنے کا فیصلہ کیا۔ یہاں انہوں نے ترک حکمرانوں سے اظہار غم کیا، زلزلے سے متاثرہ علاقے دیکھے اور دل گرفتہ ہوئے۔ لیکن افسوس کی اس فضا میں بھی میاں نواز شریف کا ذوق طعام سر اٹھا کر کھڑا ہو گیا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں