دال اور زوال

خادم نظریاتی قسم کا sddefaultدال خور ہے۔ یعنی مرغ مسلم سامنے ہوتے ہوئے بھی دال کی طرف ہی رجوع کرتا ہے۔ لوگ باگ گھاٹ گھاٹ کا پانی پیتے ہیں، احقر گھاٹ گھاٹ کی دال کھاتا ہے۔ کسی ٹرک ہوٹل پر رکے تو دال منگوا لی، کسی فائیو اسٹار جانا ہوا (یعنی کوئی لے کر گیا، کیوں کہ اپنے پلے سے ایسی جگہوں پر جانےکا سوچتے ہی سر چکرانے لگتا ہے) تو بھی دال ہی منگوائی۔ حد تو یہ ہے کہ یاسر بروسٹ جیسے ریستوران جانا ہو، جس کے نام میں ہی بروسٹ آتا ہے، تو وہاں سے بھی دال کھا کر ہی اٹھے۔ ایک آدھ بار مدنی نہاری جا کر بھی دال طلب کی تو انہوں نے قریب ذہنی امراض کے کلینک کا پتہ بتا دیا۔
جو قصہ آپ کو سنانا مطلوب ہے، اس کی شروعات تب ہوئی جب خاکسار کا صرف دل ہی نہیں، عمر بھی جوان تھی ۔ یونیورسٹی والے سالانہ ٹرپ پر قلعہ روہتاس دکھانے لے گئےتو لالہ موسیٰ میں ایک جگہ کھانے کے لیے بس روکی گئی۔ میاں جی نامی ہوٹل تھا، بتایا گیا کہ یہاں کی دال مشہور ہے، اور ایسی ویسی نہیں بلکہ بہت ہی مشہور ہے۔ تو صاحب دال کھائی اور دیوانے ہو گئے۔ ایسی دال کبھی زندگی میں نہ کھائی تھی۔
یونیورسٹی والے ہمیں لے کر واپس لاہور تو آ گئے، لیکن ہم اپنا دل وہیں چھوڑ آئے تھے۔ کئی برس گزرے، زندگی اپنے جھمیلوں میں الجھاتی چلی گئی۔ تعلیم مکمل ہو گئی، برسرروزگار بھی ہو گئے، خانہ آبادی کے مراحل سے بھی ہو گزرے لیکن اُس دال کا ذائقہ زبان پر ہلکورے لیتا رہا۔
پہلے تجربے کے لگ بھگ 12 برس بعد، راولپنڈی سے لاہور آنا تھا تو صرف میاں جی کے ہوٹل سے دال کھانے کے لیے موٹروے چھوڑ کر جی ٹی روڈ کا راستہ پکڑا۔ ابھی روات میں ہی تھے کہ دال والا منہ بھی بنا لیا ۔
احوال اس ترکیب کا یہ ہے کہ جہاں کام کرتے تھے، وہاں افطاری کا اہتمام دفتر والوں کی جانب سے کیا جاتا ۔ باقی روز تو سموسے پکوڑے اور اس نوع کے لوازمات ہوتے، لیکن بدھ کے روز بریانی دی جاتی۔ ہماری ایک دفتری ساتھی کو وہ بریانی بہت مرغوب تھی۔ ایک بدھ کو کسی وجہ سے بریانی فراہم نہ کی جا سکی، تو بریانی کی منتظر ساتھی نے مایوسی سے کہا تھا، ”اوہ ہو! میں نے تو بریانی والا منہ بھی بنا لیا تھا۔“ یعنی میں تو ذہنی طور پر بریانی کے لیے تیار تھی۔
تو اسی طرح ہم نے روات میں ہی دال والا منہ بنا لیا تھا۔ گوجر خان گزرا، سوہاوا گزرا، دینا کے بعد جہلم بھی گزر گیا۔ منہ سے رالیں ٹپکی پڑتی تھیں۔ سرائے عالم گیر اور کھاریاں کے بعد منزل آنے کو تھی۔ جو بات ان دو سطروں میں کہی ہے، یہ ہم پر کئی زمانوں میں بیتی۔ آخر میاں جی ہوٹل کا بورڈ نظر آیا۔
کھانا شروع کیا تو احساس ہوا، یہ دال تو اس کا ایک فیصد بھی نہیں جو برسوں سے ہمارے خیالوں میں بسی تھی۔ سوچا کہ شاید12 برس پہلے جب یہاں آئے تھے، تب بھوک بہت چمک رہی تھی اس لیے دال اتنی بھائی۔ نصف بہتر سے پوچھا تو انہوں نے بھی دال کے بارے میں کچھ اچھی رائے نہ دی۔
جس ذائقے کا خیالی محل تعمیر کرنے میں برسوں لگائے تھے، وہ لمحوں میں دھڑام سے زمین پر آ گرا۔ کیسے کیسے خیال آئے۔ باورچی بدل گیا ہو گا۔ آج ہی کچھ کسر رہ گئی ہو گی۔ کوئی مصالحہ استعمال کرنے میں بے احتیاطی ہو گئی ہو گی۔
واپسی کا تمام سفر خاموشی سے کٹا۔
اس کے بعد کوئی تین بار جی ٹی روڈ سے جانا ہوا ہے۔ ہر بار اس امید پر رکتے ہیں کہ شاید اب کی بار دال ویسی ہی بنی ہو جیسی تب کھائی تھی۔ ہر بار مایوسی ہوتی ہے۔
شاید واقعی پہلے جیسا ذائقہ نہیں رہا، شاید میں خود بدل گیا ہوں۔

دس سال پہلے کی ڈانٹ

بارہ برس قبل کا قصہ ہے۔ میں اور فرخ ایکسٹرنل کے سامنے خوف زدہ سے بیٹھے تھے۔ بی ایس کا فائنل تھیسس ہم دونوں نے مل کر ہی لکھا تھا۔ چلو لٹریچر ریویو وغیرہ کی حد تک تو پہلے سے دستیاب مواد سے استفادہ کیا۔ لیکن ریسرچ میں خوب جان ماری۔ ڈیٹا خود اکٹھا کیا، انٹرویوز خود کیے۔ دن بھر فرخ کی موٹرسائیکل پر خاک پھانکتے۔ شام میں ہوسٹل واپس آ کر جمع شدہ مواد کو تحریر کرتے۔ ایک ایک لفظ خود اپنے ہاتھ سے لکھا۔ تحقیقی تجزیے اور اختتامی نوٹ میں تو اس قدر عرق ریزی کی کہ ایک ایک کوما اور فل اسٹاپ تک ازبر ہو گیا۔
اس کے باوجود ایکسٹرنل سے خوف زدہ ہونے کی ایک وجہ ان کی مونچھیں تھیں، جو بہت گھنیری نہ تھیں، لیکن چہرے کو خاصا بارعب بنا رہی تھیں۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ایکسٹرنل صاحب انگریزی میں سوال پوچھتے اور انگریزی میں ہی جواب کی توقع رکھتے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

پائیداری

چولہے میں آگ لگانے کے لیے آلہ نصب تھا۔ ہم بٹن دباتے تو چنگاری سی اٹھتی اور آگ جل جاتی۔ کچھ عرصہ استعمال کے بعد وہ آلہ خراب ہو گیا تو سیاسی باتیں کر کے چولہا دہکانے کی کوشش کرتے رہے۔ بات نہ بنتی تو ماچس استعمال کر لیتے۔
ایک روز جی میں آئی، ماچس کی تیلیاں جلانا اولڈ فیشنڈ سا لگتا ہے۔ بازار سے لائٹر خرید لاتے ہیں۔ وہاں دو اقسام میسر تھیں۔ ایک لائٹر تیل جلا کر آگ نکالتا تھا، دوسرے میں سیل ڈلتے، بٹن دبانے پر چنگاری سی چھوٹتی۔ دکان میں ہی ایک پستول نما چیز پر نظر پڑی۔ معلوم ہوا یہ بھی لائٹر ہے۔ ٹریگر دبائیں تو پستول کے دہانے سے چنگاری نکلے گی اور چولہے میں آگ دہک اٹھے گی۔ اس میں سیل ڈلتا تھا نہ ہی تیل، گویا آگ کے معاملے میں خود کفیل تھا۔
دکاندار سے پوچھا، کیوں بھئی، کتنا عرصہ نکال جائے گا یہ لائٹر؟
کہنے لگا، سر ایسی چیزیں تو لائف لانگ ہوتی ہیں۔ تین سال تک تو کہیں نہیں جاتا

دو قسم کے انصاف

انصاف کی ستم ظریفی دیکھیے۔ عمران خان نے اپنے سیاسی کزن طاہر القادری کے ساتھ اسلام آباد پر چڑھائی کی تو ایک پولیس افسر عصمت اللہ پر حملہ کیا گیا، جس سے وہ زخمی ہوگئے۔ عمران خان اس حملے کے ملزم ٹھہرے۔ ان پر عدالت میں کیس چلانے کی کوشش کی گئی اور وہ قریب ساڑھے تین سال تک عدالت میں پیش ہی نہ ہوئے۔
آخر کار جب پیش ہوئے تو انہیں مقدمے سے بری کر دیا گیا۔ بری کرنے کی وجہ بھی دلچسپ ہے۔ عدالت نے کہا، ملزم کی جائے وقوعہ پر موجودگی ثابت نہیں ہوئی۔ اور یہ ثابت بھی نہیں ہوتا کہ عمران خان نے لوگوں کو پولیس افسر پر حملے کے لیے اکسایا ہو۔ حالانکہ تقاریر میں وہ انتظامیہ کے افسران کو کھلے عام دھمکیاں دے چکے تھے۔ اور جائے وقوعہ پر موجودگی ثابت نہ ہونا بھی سمجھ نہیں آتا۔
643963-chiefjustice-1386709229-458-640x480خیر، ایک افسوس ناک واقعہ 2007 کو بھی پیش آیا تھا۔ اْس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے گھر سے نکلے تو پولیس اہلکاروں نے ان سے بدسلوکی کی۔ اس دوران افتخار چودھری کو بالوں سے کھینچا گیا۔ واقعے کو گیارہ سال گزرنے کے بعد سزائیں دی گئیں۔ سابق آئی جی اسلام آباد افتخار احمد کو پندرہ روز کے لیے جیل بھیجا گیا۔ حاضر سروس ڈی ایس پی رخسار مہدی، ایس ایس پی موٹروے جمیل ہاشمی، نیشنل سکیورٹی ڈویژن میں ایڈیشنل سیکرٹری اور سابق ایس ایس پی اسلام آباد کیپٹن ریٹائرڈ ظفر، چار پولیس اہلکاروں کو ایک ایک ماہ کےلیے قید کر لیاگیا۔ سابق چیف کمشنر اسلام آباد خالد پرویز، سابق ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چودھری ایم علی کو عدالت برخاست ہونے تک علامتی سزا سنائی گئی۔
فیصلہ آتے ہی بدسلوکی کے مجرموں کو فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا۔

جانا کراچی اور دیکھنا جیو کا دفتر

IMG-20180123-WA0023.jpgمحمد جنید دو کام کرتے ہیں۔ ایک تو جیو پر خبریں پڑھتے ہیں۔ اور جب خبریں نہیں پڑھ رہے ہوتے تو دوسروں پر تنقید کرتے ہیں۔ فلاں کیسے چلتا ہے، کیسے بولتا ہے، کیسے اٹھتا بیٹھتا ہے، کیسا دکھتا ہے، کیا پہنتا ہے؛ جنید کوئی نہ کوئی سقم یا عیب دریافت کر ہی لیتے ہیں۔ ویسے مہربان آدمی ہیں۔ دوسروں کے غموں میں شریک ہوتے ہیں۔ ہماری شادی پر بھی تشریف لائے تھے۔ اور ہمیں ایسا موقع دینے پر تاحال تیار نہیں۔ ہماری دوستی کا بار اپنے نازک کندھوں پر اٹھا رکھا ہے، اس لیے ہم بھی ان کی خامیاں نظر انداز کر کے انہیں عزیز مانتے ہیں۔ (واضح رہے، لفظ ‘بار’ کا استعمال ہم نے اپنی شخصیت کے لیے کیا ہے، جسامت کے لیے نہیں)
ہم کراچی گئے تو انہوں نے اپنے دفتر آنے کی دعوت دی۔ ملنے پہنچے تو معلوم ہوا دفتر والوں نے انہیں کرسی سے باندھ کر منہ پر ٹیپ چپکا رکھی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ محمد جنید بہت زیادہ بولتے ہیں، اور جو بولتے ہیں وہ تنقید پر مبنی ہوتا ہے۔ اور ساتھ ساتھ کمپیوٹر سافٹ ویئر سے بھی چھیڑ چھاڑ کر دیتے ہیں۔ لہذا دفتر والوں نے یہی حل سوچا ہے کہ خبریں پڑھوانے کے بعد ان کے منہ پر ٹیپ لگا کر کرسی سے باندھ دیا جائے۔

خیر ہماری منت سماجت پر ان کی بندشیں ختم کی گئیں۔ انہوں نے آزاد ہوتے ہی ہاتھ میں جھاڑو تھام لیا اور کہا، اسٹوڈیو کی صفائی ٹھیک نہیں۔ دس منٹ بعد دائیں کونے میں جمع کوڑا بائیں کونے میں سمیٹ دیا اور فاتحانہ انداز میں کہنے لگے، اسے کہتے ہیں صفائی۔
اسی دوران جیو کے وجیہ اینکر وجیہ ثانی بھی آن پہنچے۔ ایک مشہور بلاگر اور نام نہاد صحافی کو اپنے درمیان پا کر انہوں نے ہمارے ساتھ تصویر بنوانے کی خواہش ظاہر کی۔ ایک جانب جنید اور دوسری جانب وجیہ صاحب کھڑے ہوئے۔ دو اسمارٹ لوگوں کی خاطر ہم نے بھی سانس کھینچ کر پیٹ سمیٹ لیا اور تصویر بنوائی۔

IMG-20180123-WA0013.jpg
اس کے بعد ہم شاہزیب خانزادہ صاحب اور ان کی ٹیم سے ملے۔ اور انہیں اچھا پروگرام کرنے کے لیے مفید ٹپس دیں۔

IMG-20180123-WA0016.jpg

جیو والے تو اتنے متاثر ہوئے کہ ہمیں اینکر رکھنے کی ضد کرنے لگے۔ آزمائشی طور پر وہاں بٹھا بھی دیا جہاں کئی مایہ ناز اینکر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔
جیو والوں کی منت سماجت پر ہم دو سو روپے فی خبر نامہ کے عوض خبریں پڑھنے پر راضی ہو گئے۔ لیکن اتنی دیر میں تمام عملہ ہماری قابلیت اور لیاقت سے واقف ہو چکا تھا۔ جیو والوں نے حساب لگایا کہ ہمیں دو سو روپے دے کر خبریں پڑھوائی جائیں اور اس کے بعد عملے اور ناظرین کے لیے پیناڈول کا بندوبست بھی کیا جائے تو ایک بلیٹن دو کروڑ روپے کا پڑے گا۔ لہذا بہت اچھی سی چائے پلا کر ہمیں رخصت کر دیا گیا۔
جاتے جاتے ہم نے دیکھا، جنید کو دوبارہ کرسی سے باندھا جا رہا تھا۔

حادثہ ہو گیا

ایک سڑک سے بائیں ہاتھ دوسری سڑک کو مڑے تو پیچھے آنے والے موٹرسائیکل سوار نے بائیں جانب سے ہی اوور ٹیک کرنے کی کوشش کی۔ ہماری گاڑی ابھی موڑ کاٹ ہی رہی تھی کہ وہ ہم سے آن ٹکرائے۔ ٹکر کے نتیجے میں موٹرسائیکل سوار، ان کی اہلیہ اور تین بچے گر گئے۔
ڈرائیونگ سیٹ پر اہلیہ تھیں، ابھی تربیتی لائسنس ملا تھا، اور گاڑی چلانے کی مشق جاری تھی۔ شاید موڑ کاٹنے کے بعد ان سے گاڑی بروقت سیدھی نہ ہوئی اور حادثہ پیش آیا،  یہ سوچ کر ہم نے موٹرسائیکل سوار، ان کے بچوں اور اہلیہ سے معذرت کی۔
وہ صاحب الجھنے لگے کہ اگر کوئی سنجیدہ نقصان ہو جاتا تو کیا ہوتا۔ ہم نے بارہا معذرت کی، لیکن وہ یہی کہتے گئے کہ آپ کی معذرت سے کیا ہوتا ہے، اگر کوئی نقصان ہو جاتا تو کیا ہوتا۔
اس منطق کا جواب ہمارے پاس نہ تھا۔ دل سے معذرت خواہ تھے، ان کو لگنے والی خراشوں پر رنجیدہ تھے، ان کا کوئی نقصان ہوا تھا تو بھرنے کو تیار تھے، معذرت کے سوا کچھ کر نہ سکتے تھے۔ ان سے عرض کی، بھیا جب ہماری معذرت آپ کو قبول نہیں تو ہمارے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی کیجیے۔ ہمارا جرم ہے تو سزا دلوائیے۔
یہ سنتے ہی انہوں نے فون نکالا اور نمبر ٹٹولنے لگے۔ ساٹھ بڑبڑاتے جاتے، اس رپورٹر کا کیا نمبر تھا۔۔۔ میں نے سوچا شاید رپورٹر سے ون فائیو کا نمبر پوچھنے لگے ہیں۔ اتنی دیر میں کال مل گئی۔ کہنے لگے، میں فلاں جگہ کھڑا ہوں فوراً ڈی ایس این جی بھیجو (ڈی ایس این جی میڈیا کی اس گاڑی کو کہتے ہیں جو سیٹلائٹ سے منسلک ہو جاتی ہے۔ کسی مقام سے ٹیلی وژن نشریات براہ راست دکھانے کے لیے اس گاڑی کا استعمال کیا جاتا ہے)
جب ہم نے بات قانون کے ہاتھ سے نکل کر میڈیا کے ہاتھ میں جاتے دیکھی تو خاموش کھڑے ہو گئے اور معاملات تقدیر کے سپرد کر دیے۔ ابھی ٹی وی چینل کی گاڑی پہنچی نہ تھی کہ ان کی اہلیہ نے انہیں بات ختم کرنے پر قائل کر لیا۔ ہم نے ایک بار پھر معذرت کی، شکریہ ادا کیا اور گھر روانہ ہوئے۔ جلدی میں ان کا نام تک پوچھنا یاد نہ رہا۔ حادثے پر اب بھی افسوس ہے۔ اللہ انہیں اور اہل خانہ کو ہمیشہ سلامت رکھے۔ آمین