بریک اپ

ہماری یونیورسٹی میں ایک ضمیر بھائی (فرضی نام) ہوا کرتے تھے۔ قد تو چھوٹا سا تھا لیکن کسرت وغیرہ کی وجہ سے ڈیل ڈول پہلوانوں والا بنا رکھا تھا۔ بات چیت بھی کرختگی سے کرتے، جو ارادتاً نہیں، عادتاً ہوتی۔ لہذا دیکھنے اور برتنے میں ضمیر بھائی خوفناک اور لڑاکا لگتے۔ واقفیت بڑھتی تو معلوم ہوتا درشتی کے سانچے میں ہم سا ہی انسان چھپا ہے۔ جو ہنستا مسکراتا ہے، قہقہے لگتا ہے، اداس بھی ہوتا ہے۔
ضمیر بھائی ہمارے روم میٹ کے دوست تھے۔ اس ناطے وہ کبھی کبھار ہمارے کمرے میں بھی آتے۔ سگریٹ پیتے، گپ لگاتے، چلے جاتے۔ ان دنوں شہر میں رہنے والوں کے لیے ہاسٹل میں رات گزارنا بڑی تفریح ہوا کرتی تھی۔ قالین بچھے ہیں، چار لوگوں کی گنجائش والے کمرے میں دس افراد ٹھنسے ہیں۔ ہاسٹل کی کینٹین سے چائے، پراٹھے، ساگ، آملیٹ، سینڈوچ۔۔۔ سبھی کچھ منگوا لیا گیا ہے۔ لگاتار قہقہے لگ رہے ہیں، درمیان میں کہیں کہیں کھانے پینے اور گفتگو کے لیے بھی وقت نکالا جا رہا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

پارک میں بیٹھا قانون شکن جوڑا

لاہور کے ریس کورس پارک میں ایک گوشہ معذور افراد کے لیے مختص ہے۔ اس کے گرد جنگلہ لگا کر حد بندی کی گئی ہے، معذور افراد کے سوا کسی دوسرے کو جانے کی اجازت نہیں۔ اب ایک تو حد بندی کی وجہ سے پارک کا یہ حصہ نکھرا نکھرا لگتا ہے، دوسرا اس میں روشیں اور کنارے لگی ترشی ہوئی جھاڑیاں نظر کو کھینچتی ہیں، تیسرا اس میں لگے جھولوں پر جھولنے کو جی چاہتا ہے۔
یوں تو ہم قانون پسند واقع ہوئے ہیں، لیکن اس روز مخصوص حصے میں ایک جوڑے کو بینچ پر خوش گپیاں کرتے اور ان کے بچوں کو جھولوں سے استفادہ کرتے دیکھا تو رہا نہ گیا۔ کینٹین کے عقب میں ایک راستہ وہاں کو جاتا تھا، وہیں سے داخل ہوگئے۔ ابھی جھولوں کی جانب بڑھے ہی تھے کہ گارڈ صاحب آن دھمکے۔ کہنے لگے یہاں آپ کو داخلے کی اجازت نہیں۔ ہم نے وہاں کھیلتے بچوں کی جانب اشارہ کرنا چاہا، لیکن اتنی دیر میں ان کی والدہ انہیں لے کر بینچ پر بیٹھے شوہر کے پاس جا چکی تھیں۔ پڑھنا جاری رکھیں

ٹیلی فونک مسیحا

زوجہ محترمہ کو نصف بہتر کیا کہنا، کہ ہم سے تو وہ بدرجہا بہتر ہیں۔ خیر، انہیں جلد میں خارش اور خراشوں کی شکایت ہوئی۔ غالباً برتن دھونے کے لیے جب ہمیں صابن پکڑایا ہو گا تو کیمیکل انفیکشن بن کر جلد پر جا بیٹھا ہوگا۔
لہذا فیصلہ ہوا کہ بدرجہا بہتر کو کسی جلدی ڈاکٹر کے پاس لے جایا جائے۔ واضح رہے کہ ماضی قریب اور بعید میں سر،آنکھوں اورگلے میں درد کی شکایت پر وہ ڈاکٹر کے پاس جانے سے انکار کر چکی تھیں۔ لیکن جلد کے معاملات ۔۔۔ کچھ نہیں ہوتا، خود ہی ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔ وغیرہ پر تو نہیں چھوڑے جا سکتے نا! ایک اسپتال فون کر کے جلدی ڈاکٹر کے اوقات معلوم کیے گئے۔ شام کو بیٹھتے تھے۔ پڑھنا جاری رکھیں

پنکھے والی بلی

ٹریفک سگنل پر رکے ہی تھے کہ کھلونے بیچنے والے لڑکے پر نظر پڑی۔ تب منا کھیل تو نہیں سکتا تھا، لیکن کھلونے دیکھ کر خوش ضرور ہوتا تھا۔ ایک بلی پسند آئی۔ سر پر پنکھا لگا تھا، پیروں کی جگہ پہیے۔ پنکھے میں سرخ رنگ کی چھوٹی سی لائٹ نصب تھی۔ دھاگا کھینچ کر چھوڑو تو پنکھا گھومتا اور لائٹ بھی جلتی۔ سو روپے میں وہ بلی خرید لی۔
منے کو کھلونا پسند آیا سو آیا۔۔۔ ہمیں بھی اس سے کھیلنے کی لت پڑ گئی۔ دھاگا کھینچ کر چھوڑتے تو ننھی لائٹ پنکھے کے ساتھ ساتھ گھومتی۔ سرخ رنگ کا دائرہ سا کھنچ جاتا۔ منا بھی روتے روتے چپ ہو جاتا اور حیرت سے تکنے لگتا۔ ہم خود بلی بنانے والوں کی کاریگری پر حیران ہوتے۔ سراغ لگانے کی کوشش کرتے کہ پنکھا گھومتے ہی لائٹ کیسے جلتی ہے؟ پڑھنا جاری رکھیں

نیازی صاحب کا شربت

خدا جانے شرارت تھی یا لالچ۔ دفتر میں کچھ عناصر نے نیازی صاحب کے شربت پر میلی آنکھ رکھ لی۔ گلاس بھر پیا، اور مقدار کی کمی سادہ پانی سے پوری کر دی۔
ماہ رمضان کا شاید آخری عشرہ چل رہا تھا۔ نیازی صاحب نے افطاری سے قبل حسب معمول آفس کینٹین کی فریج سے شربت کی بوتل نکالی۔ لیکن شربت خلاف معمول پھیکا سا نکلا۔ شاید بیگم سے حساب کتاب میں کچھ بھول ہوئی ہو۔۔۔ نیازی صاحب نے صبر کے ‘پھیکے’ گھونٹ بھرتے ہوئے شربت حلق سے اتار دیا۔
اگلے روز شربت پسند عناصر نے زیادہ مقدار پر صفایا کیا، ظاہر ہے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے پانی بھی اسی مقدار میں بڑھانا پڑا۔ اب نیازی صاحب کو پھیکے شربت کے پیچھے کسی منظم واردات کا ذائقہ محسوس ہوا۔ پڑھنا جاری رکھیں

یوں لگا، خلوص کا انعام ملا ہو!

مون نے مجھے مشکل میں ڈال دیا تھا۔ میں اس کا کھلونا ہاتھ میں پکڑے ہونق کھڑا تھا، اور وہ طمانیت بھری مسکراہٹ سے مجھے دیکھتا تھا۔
ٹھہریے۔
آپ کو برسوں پرانی یہ کہانی شروع سے سنانا پڑے گی۔ میں  مون کے گھر گیا تو اس نے بہت شوق سے اپنے کھلونے مجھے دکھائے۔ پھر ایک ننھی سی گاڑی اٹھا کر پوچھنے لگا، کیسی ہے؟ گاڑی بہت ہی پیاری تھی، نہ بھی ہوتی تو دوست کو کیسے کہہ دیتا اس کا کھلونا اچھا نہیں۔
تعریف سنتے ہی کہنے لگا، یہ گاڑی تمہیں پسند آئی اس لیے تم رکھ لو۔ میں ہکا بکا رہ گیا۔ تعریف اس مقصد کے لیے تو نہ کی تھی، اس کا کھلونا میں کیسے رکھ سکتا ہوں (ہم دونوں عمر کے اس حصے میں تھے جب ہر بچہ اپنے کھلونے کو دنیا کی تمام چیزوں سے عزیز سمجھتا ہے)۔ میں نے منع کرنے کی کوشش کی، وہ مان کر نہ دیا۔ زیادہ انکار سے اس کا دل ٹوٹنے کا ڈر تھا، لیکن یوں کسی کا کھلونا ہتھیا لینا مجھے اچھا نہ لگتا تھا۔ شاید میں اس سے جلتا بھی تھا، کوئی اپنے کھلونوں کے بارے میں اتنا دریا دل کیسے ہو سکتا ہے؟ پڑھنا جاری رکھیں

اس تصویر کی کہانی

اس دن راشد صاحب نے گاڑی خریدنی تھی، لہذا پانچ لاکھ روپے گھر سے لے کر آئے تھے۔
یہ وہی راشد صاحب ہیں جو اس وقت تک ہمارے کروڑوں روپے کے مقروض ہو چکے ہیں۔ وجہ جاننے کے لیے پڑھیں، تم میرے مقروض ہو راشد
خیر ہمیں راشد صاحب کے ارادے اور نقدی کی بھنک پڑی تو اتنی زیادہ رقم کو چھونے کے لیے مچل پڑے۔ تصویر کھینچوانے کے بہانے رقم مانگی۔ پرائے پیسے ہاتھ میں آئے تو واپس کرنے کو دل نہ کرے۔ طبعیت یہ رقم غائب کرنے پر مائل ہونے لگی۔ راشد صاحب کا دھیان بٹانے کو بارہا کہا، "وہ دیکھو چڑیا۔” لیکن شاید ان کی اس جملے سے کوئی اچھی یاد وابستہ نہ تھی، چڑیا دیکھنے کے بجائے ہمیں ہی زیادہ غور سے دیکھنے لگے۔ پڑھنا جاری رکھیں