عمر بلال کی سال گرہ

امریکا پلٹ صحافی عمر بلال کی سالگرہ یوں تو سات دسمبر کو ہوتی ہے۔ لیکن اس کی تقریبات سارا سال ہی جاری رہتی ہیں۔IMG-20181208-WA0017
ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سات دن تک جشن منایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ملک کے تمام شہروں کے ساتھ ساتھ نیویارک، لندن، ٹوکیو، مشرق وسطیٰ اور آسٹریلیا میں بھی تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔
اس موقع پر سرکاری عمارات پر چراغاں کیا جاتا ہے اور قومی پرچم سرنگوں رکھا جاتا ہے۔
عمر بلال کی بڑھتی عمر کی وجہ سے بہت زیادہ موم بتیاں جلائی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے موم کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ فوری طور پر موم دوسرے ممالک سے درآمد کرتا پڑتا ہے، جس کے بعد ملک میں زر مبادلہ کے ذخائر بھی خطرناک حد تک کم ہو جاتے ہیں۔ اور موم بتیاں جلانے سے دنیا بھر میں آکسیجن کی قلت اور دھویں کی زیادتی ہو جاتی ہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

اچھی عادت کیسے اپنائیں؟

کسی بھی بری عادت سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو اس کا بہت ہی سادہ سا طریقہ ہے۔۔۔ آپ اچھی عادتیں اپنا لیں۔ لیکن وہ کرنا کیسے ہے؟
اچھی عادت اپنانے کے تین مراحل ہیں۔
سب سے پہلے فیصلہ کریں کہ کس چیز کی عادت ڈالنی ہے؟ روزانہ ورزش کرنے کی عادت ڈالنی ہے، روزانہ ایک مخصوص وقت تک کچھ لکھنے پڑھنے کی عادت ڈالنی ہے، اپنا کام وقت پر کرنے کی عادت ڈالنی ہے۔۔۔ یعنی سب سے پہلے تو طے کر لیں کہ آپ کس اچھی چیز کی عادت ڈالنا چاہتے ہیں۔
اس کے بعد دوسرا مرحلہ آتا ہے خود میں نظم و ضبط پیدا کرنے کا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

مینڈک کھائیں

اگر آپ آج کا کام کل پر چھوڑنے کے عادی ہیں، اور اپنی اس عادت سے تنگ بھی ہیں، اور اس سے پیچھا بھی چھڑانا چاہتے ہیں۔۔۔ تو مینڈک کھائیں۔
مینڈک کھانے کا کانسیپٹ یہ ہے کہ اگر آپ کو روزانہ صبح صبح ایک زندہ مینڈک کھانا پڑے، تو باقی سارا دن آپ کو یہ سکون رہے گا کہ صبح جو کچھ ہوا، اس سے زیادہ برا پورے دن میں مزید کچھ نہیں ہو سکتا۔
اور یہ مینڈک کیا ہے؟ یہ آپ کا وہ اہم کام ہے جو کرنا ضروری ہے لیکن کئی دن سے یہ کام آپ ٹالتے جا رہے ہیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

چینی چھوڑنے کا دکھ

آپ کے ارد گرد ایسے لوگ ضرور ہوں گے، جو چائے میں چینی نہیں لیتے
میں ایسے نام نہاد، کھوٹے نفیس لوگوں سے بہت تنگ ہوں۔ کیوں کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ پھیکی چائے پی کر آپ ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں؟
دیکھیں۔ چینی کے بغیر چائے ایسے ہی ہے جیسے روح کے بغیر انسان۔ لیکن کچھ لوگ پھیکی، بلکہ کڑوی چائے پی پی کر خود کو سوفیسٹی کیٹڈ سمجھنے لگتے ہیں، اور جو ایسا نہ کرے، اسے خود سے کم تر سمجھتے ہیں۔ ان میں خواہ مخواہ کا احساس برتری کمپلیکس آ جاتا ہے۔ یوں برتاؤ  کرنے لگتے ہیں جیسے وہ بڑی توپ چیز ہیں۔ کسی محفل میں ان سے پوچھا جائے، کہ کتنی شکر لیں گے، تو سر جھٹک کر انگریزی میں جواب دیتے ہیں
No sugar please. کو پڑھنا جاری رکھیں

علاج

کہاں مصروف ہو آج کل؟
بس یار کیا بتاؤں
ارے ہاں، تم تو ماہر نفسیات کے پاس جا رہے تھے نا، کیا تشخیص کی اس نے
کچھ نہیں، بس کہتا ہے میں بہت زیادہ workaholic ہوں۔
وہ کیا ہوتا ہے؟
جسے کام کا بہت شوق ہو۔
پھر کیا علاج ہے مرض کا
علاج تو اس نے نہیں بتایا، لیکن ماہر نفسیات کی فیس بھرنے کے لیے آج کل دو نوکریاں کر رہا ہوں

#منقول

پاکستانی میڈیا میں روبوٹ اینکر کے 12 فوائد

 

چین نے حال ہی میں ایک روبوٹک اینکر سے خبریں پڑھوائی ہیں۔ بنانے والوں نے اس میں آرٹی فیشیل انٹیلی جنس یعنی مصنوعی ذہانت کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ ویسے تو ذہانت اپنے ہاں کے اینکرز کی بھی مصنوعی ہی ہے اور اکثر تو خبریں بھی روبوٹ کی طرح پڑھتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ چینی روبوٹک اینکر پاکستانی مارکیٹ میں آ گیا تو اس کے کئی دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔
سب سے پہلے تو پاکستانی نیوز پروڈیوسرز کے سر کے درد ختم ہو جائیں گے۔ یہ سر درد دو وجہ سے ہوتا ہے۔ ایک تو اپنے اینکروں کی پڑھی خبریں سن کر ہوتا ہے، دوسرا جب یہ خبریں سننے کے بعد پروڈیوسر اپنا سر زور زور سے دیوار سے مارتا ہے اور نوبت مرہم پٹی تک جا پہنچتی ہے (پروڈیوسر کی) تو بھی درد ہوتا ہے۔ روبوٹک اینکر آنے کے بعد یہ سر دردی ختم ہو جائے گی۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

امریکا اتنا بھی جمہوری نہیں

melania and miraمیلانیا ٹرمپ سے تو آپ واقف ہی ہوں گے؟ وہی جو اپنے امریکی صدر کی زوجہ ہیں۔ اور اس مناسبت سے خاتون اول کہلاتی ہیں۔ امریکا میں ہی قومی سلامتی کی نائب مشیر ہیں میرا رکارڈل۔ تو ہوا یوں کہ میلانیا اور میرا صاحبہ میں کچھ ان بن ہو گئی۔ بات کچھ خاص نہ تھی۔ خاتون اول نے امریکا کا دورہ کرنا تھا۔ جہاز میں معمول سے زیادہ سیٹیں سیکیورٹی اسٹاف کے لیے مختص کر دی گئیں۔ کچھ نشستیں صحافیوں کو دی گئیں۔ جب کہ قومی سلامتی کی نائب مشیر اور ساتھی عہدے دار کے لیے کوئی سیٹ نہ چھوڑی گئی۔
اگر نشستیں نہ بچیں تو محکمہ خارجہ اور قومی سلامتی کے عہدے دار علیحدہ طیارے پر جاتے ہیں تاکہ پالیسی سطح کی مشاورت فراہم کر سکیں۔ تاہم یہاں میرا ریکارڈل ڈٹ گئیں۔ یہاں تک کہہ دیا کہ وہ اس دورے کے لیے فراہم کردہ اپنے محکمے کے وسائل بھی استعمال نہ ہونے دیں گی۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

مچھر طبیعت لوگ

جب بھی سردیاں آنے والی ہوں، یا جانے والی ہوں۔۔۔ مچھر نامی مخلوق کا راج قائم ہوتا ہے۔ ذرا کھڑکی کھلی رہ گئی تو غول کا غول کمرے میں در آتا ہے۔ آپ سوتے ہیں تو یہ کان میں آ کر بھنبھناتا ہے، آپ کو غافل پا کر آپ کا خون چوستا ہے۔ جس کی وجہ سے آپ کو خارش ہوتی ہے۔ آپ ہڑبڑا کر کھجاتے ہیں اور کروٹ بدل کر پھر سو جاتے ہیں۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ مچھر پلٹ پلٹ کر حملے کرتے ہیں اور آپ کی ساری رات کھجانے اور کروٹیں بدلنے میں گزر جاتی ہے۔ صبح کسل مندی ہوتی ہے لیکن زندگی کے معمولات شروع کرتے ہی آپ مچھروں سے رات بھر کی لڑائی بھول جاتے ہیں۔
کبھی کبھی مچھروں سے جنگ کی بدمزگی آپ کے چہرے پر بھی دکھتی ہے اور کوئی پوچھ بیٹھتا ہے، "خیر ہے، مضمحل کیوں ہو؟” تو آپ کندھے اچکاتے ہیں اور لاپروائی سے جواب دیتے ہیں، "کچھ نہیں، رات مچھر بہت تھے۔”
بس اتنی سی اہمیت ہوتی ہے مچھر کی آپ کی زندگی میں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

دس سال پہلے کی ڈانٹ

بارہ برس قبل کا قصہ ہے۔ میں اور فرخ ایکسٹرنل کے سامنے خوف زدہ سے بیٹھے تھے۔ بی ایس کا فائنل تھیسس ہم دونوں نے مل کر ہی لکھا تھا۔ چلو لٹریچر ریویو وغیرہ کی حد تک تو پہلے سے دستیاب مواد سے استفادہ کیا۔ لیکن ریسرچ میں خوب جان ماری۔ ڈیٹا خود اکٹھا کیا، انٹرویوز خود کیے۔ دن بھر فرخ کی موٹرسائیکل پر خاک پھانکتے۔ شام میں ہوسٹل واپس آ کر جمع شدہ مواد کو تحریر کرتے۔ ایک ایک لفظ خود اپنے ہاتھ سے لکھا۔ تحقیقی تجزیے اور اختتامی نوٹ میں تو اس قدر عرق ریزی کی کہ ایک ایک کوما اور فل اسٹاپ تک ازبر ہو گیا۔
اس کے باوجود ایکسٹرنل سے خوف زدہ ہونے کی ایک وجہ ان کی مونچھیں تھیں، جو بہت گھنیری نہ تھیں، لیکن چہرے کو خاصا بارعب بنا رہی تھیں۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ایکسٹرنل صاحب انگریزی میں سوال پوچھتے اور انگریزی میں ہی جواب کی توقع رکھتے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

پائیداری

چولہے میں آگ لگانے کے لیے آلہ نصب تھا۔ ہم بٹن دباتے تو چنگاری سی اٹھتی اور آگ جل جاتی۔ کچھ عرصہ استعمال کے بعد وہ آلہ خراب ہو گیا تو سیاسی باتیں کر کے چولہا دہکانے کی کوشش کرتے رہے۔ بات نہ بنتی تو ماچس استعمال کر لیتے۔
ایک روز جی میں آئی، ماچس کی تیلیاں جلانا اولڈ فیشنڈ سا لگتا ہے۔ بازار سے لائٹر خرید لاتے ہیں۔ وہاں دو اقسام میسر تھیں۔ ایک لائٹر تیل جلا کر آگ نکالتا تھا، دوسرے میں سیل ڈلتے، بٹن دبانے پر چنگاری سی چھوٹتی۔ دکان میں ہی ایک پستول نما چیز پر نظر پڑی۔ معلوم ہوا یہ بھی لائٹر ہے۔ ٹریگر دبائیں تو پستول کے دہانے سے چنگاری نکلے گی اور چولہے میں آگ دہک اٹھے گی۔ اس میں سیل ڈلتا تھا نہ ہی تیل، گویا آگ کے معاملے میں خود کفیل تھا۔
دکاندار سے پوچھا، کیوں بھئی، کتنا عرصہ نکال جائے گا یہ لائٹر؟
کہنے لگا، سر ایسی چیزیں تو لائف لانگ ہوتی ہیں۔ تین سال تک تو کہیں نہیں جاتا