ایک نشست میں پورا ناول پڑھا اور۔۔

فیس بک پوسٹ پر پوچھا کہ جو احباب ایک ہی نشست میں پورا پورا ناول پڑھ ڈالتےہیں، یا کسی ڈرامے کا گھنٹوں پر محیط سیزن ختم کر کے اٹھتے ہیں ، کیا ان کی آنکھوں اور سر میں درد نہیں ہوتا؟ جواب میں جنہوں نے لکھا کہ انہیں آنکھ یا سر درد کی کوئی شکایت نہیں ہوتی، ان سے حسدمحسوس کیا۔ جن کا جواب اس سے الٹ آیا، ان سے یہ جان کر دل میں اطمینان سا ہوا کہ چلو! کوئی اور بھی ہے جسے یہ عارضہ لاحق ہے۔
پوچھا یوں، کہ عرصے سے دل ایسی فرصت مانگتا ہے کہ گھنٹوں بیٹھ کر (بلکہ لیٹ کر) ناول پڑھا کریں، فلمیں دیکھیں اور دنیا کا کوئی کام دھندا اس میں مخل نہ ہو۔ لیکن جب کبھی ایسی فرصت ملی، اور گھنٹوں کتاب پڑھنے یا فلم دیکھنے میں بتائے تو بجائے لطف اندوز ہونے کے، بیزار ہو کر اٹھے۔ سرکا درد اور آنکھوں کی دکھن سارے مزے کا مزا خراب کر دیتی۔
اور حاصل کلام یہ ہر چیز کسی قاعدے اور اعتدال میں ہو تو ہی ٹھیک ہے ورنہ نری اکتاہٹ ہے۔
یہ بور سی ویڈیو بھی ایسے ہی ایک تجربے کی کہانی ہے۔ جو چھ منٹ 20 سیکنڈ کی ویڈیو میں کہا ہے، کم و بیش وہی اوپر کی چند سطروں میں بھی بیان کر دیا ہے۔ ویڈیو بے شک نہ دیکھیں۔ ہاں اگر آپ پوچھنا چاہیں کہ ہمیں جرائم اور سنسنی پر مبنی ناول پسند ہیں، کیا محمد حنیف کا ناول، آ کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز پڑھنا چاہیے؟ تو میرا جواب ہو گا، اگر آپ کو کہیں سے مل گیا تو ضرور پڑھیں۔

کیسے لکھیں؟ لکھنے والوں کے لیے چند ٹوٹکے

سٹیفن کنگ کے انکل کے گھر، ایک بڑا اور بہت ہی بھاری ٹول باکس تھا۔ آپ نے مستری حضرات کے پاس ٹول باکس دیکھے ہوں گے۔ ان میں خانے بنے ہوتے ہیں، جن میں اوزار رکھے جاتے ہیں۔ مستری حضرات جہاں جاتے ہیں، یہ ٹول باکس ساتھ لے کر جاتے ہیں، تاکہ کہیں کسی اوزار کی ضرورت پڑے تو نکال کر استعمال کر لیا جائے۔
لیکن سٹیفن کنگ کے انکل کے گھر جو ٹول باکس تھا، وہ ذرا مختلف تھا۔ ایک تو وہ بنا لکڑی کا ہوا تھا، دوسرا سائز میں معمول سے ذرا زیادہ بڑا تھا،اور تیسرا ،بھاری بھی بہت تھا۔
کہانی آگے بڑھانے سے پہلے بتا دوں کہ سٹیفن کنگ ، ایک جانے مانے لکھاری ہیں۔

2018 PEN Literary Gala, New York, USA - 22 May 2018

Mandatory Credit: Photo by Evan Agostini/Invision/AP/REX/Shutterstock (9689901ac) PEN America literary service award recipient Stephen King 2018 PEN Literary Gala, New York, USA – 22 May 2018

ایک دن سٹیفن صاحب اپنے انکل کے گھر گئے تو پتہ چلا

کو پڑھنا جاری رکھیں

گٹر، اتری شلوار، مجھے بچاتے کیوں نہیں ہو؟

اس کی چیخیں آج بھی مجھے پکارتی ہیں۔
وہ تاریخ ،حتیٰ کہ سال تک بھول گیا ہوں، جب پہلی دفعہ اسے چیختے سنا۔ایک منٹ دورانیے کا ویڈیو کلپ آج بھی میرا پیچھا کر تا ہے۔
شاید یہ 2007 کے آس پاس کی بات ہے۔ آمنہ مسعود جنجوعہ اپنے لاپتہ شوہر کی بازیابی کے لیے مظاہرہ کر رہی تھیں۔ ان کا بیٹا بھی ان کے ساتھ تھا، اور تب اس کی عمر 16 سال کے لگ بھگ ہو گی۔
نہ معلوم کیوں، ریاست کے کارندوں نے فیصلہ کیا کہ شہری لاپتہ کرنا بھلے جرم ہو گا، لیکن اس کا پتہ پوچھنا ضرور قابل گرفت ہے۔ درجن بھر اہلکاروں نے نوجوان نہتے لڑکے کو قابو کر لیا، اور جب لے کر چلے تو مزاحمت کےدوران بے چارے کی شلوار اتر گئ۔
شاید اس وقت کسی نے کہا بھی کہ لڑکے کو شلوار پہن لینے دو۔ لیکن جب ریاست ہی برہنہ ہو جائے تو شہریوں کی سترپوشی بے معنی ہو جاتی ہے۔ وہ پولیس اہلکار، اس نوجوان کو اسی حالت میں لے کر چلتے ہیں تاکہ گاڑی میں پٹخ سکیں اور حوالات میں پھینک سکیں۔
اس موقع پر نوجوان نے چیختے ہوئے ایک سوال پوچھا، اور کئی بار پوچھا۔ 14 سال گزر چکے ہیں، میں اس کا جواب تلاش نہیں کرپایا۔
نوجوان نے پوچھا تھا، تم لوگ مجھے بچاتے کیوں نہیں ہو؟ تم لوگ مجھے بچاتے کیوں نہیں ہو؟ کو پڑھنا جاری رکھیں

تقریب سائیکل چلائی

IMG_20210228_101251

سوشل میڈیا پر انگوٹھا گردی کرتے مژدہ ملا کہ لاہور میں سائیکل چلانے کی کوئی تقریب ہونے جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ اس جملے میں انگوٹھا گردی، آوارہ گردی کےمترادف کے طور پر استعمال ہوا ہے، غنڈہ گردی کےمعنوں میں نہیں۔  گھر میں پڑی زنگ کھاتی سائیکل ٹھیک کرانے کا ارادہ کیا۔ فوراً بلال کو فون گھمایا۔ بلال سے اس وقت سے شناسائی ہے جب خادم باقاعدگی سے سائیکل چلایا کرتا تھا، اس کی دیکھ بھال اور مرمت وغیرہ کا اہتمام بلال صاحب ہی کیا کرتے۔ ان سے فون پر کہا، ابھی کے ابھی ہمارےگھرجا کر سائیکل اٹھا لائیے، اور اسے یوں کر دیجیے کہ سائیکل منہ زور گھوڑے کی طرح بھاگنے لگے۔
انہوں نے فرمایا، سائیکل صرف قوت تخیل کے سہارے چلتی تو منہ زور گھوڑے کی طرح بھاگ سکتی تھی، لیکن چوں کہ ایسا نہیں ہے لہذا سائیکل اتنی ہی رفتار سے چلے گی جتنی قوت سے آپ پیڈل مار پائیں گے۔ ٹھنڈی سانس بھر کر ایک نظر اپنے دکھتے گھٹنوں پر ڈالی اور بلال صاحب سے کہا، چلیے یوں ہی سہی لیکن آپ سائیکل تیار کر دیجیے۔اس پر برسوں سے پڑی گرد صاف کیجیے، زنگ کھرچ ڈالیے، ٹائروں کی ہوا پوری کر دیجیے۔ غرض ایسا کر دیجیے کہ سائیکل مسلمانوں کے ماضی کی طرح تاب ناک اور ناسا کے راکٹ کی طرح سبک ہو جائے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

کمرے میں بیٹھ کر سنائی گئی ٹریول ویڈیو

جس دن نوازشریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں گیارہ سال قید سنائی گئی، اس روز میں سیر کرنے وادی سون سکیسر گیا تھا۔
میرا تعلق ضلع چکوال سے ہے، اور ضلع خوشاب تقریباً پڑوس میں ہی پڑتا ہے اس کے باوجود میں زندگی کے چھتیس سال تک یہ علاقہ دیکھنے سے محروم تھا۔ آخر ایک دن چھٹی کے ساتھ اضافی چھٹی مانگی، جو مل بھی گئی اور سون سکیسر دیکھنے کا ارادہ کر لیا۔ میں روزگار کی وجہ سے لاہور میں مقیم ہوں، تو لاہور سے کلر کہار کا راستہ گوگل کے نقشے کی مدد سے سمجھا۔ انٹرنیٹ کی مدد سے ہی وہاں موجود ہوٹلز کے بارے میں کچھ آگاہی لی۔ ایک جگہ فون پر بات کر کے نرخ وغیرہ بھی پوچھ لیے ۔ یعنی ہوم ورک مکمل کیا اور نکل کھڑے ہوئے۔
ان دنوں محکمہ زراعت کا بہت چرچا تھا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں