جلےبھنےاینکرکاجواب

آداب عرض کیے بغیر گزارش یہ ہے کہ آپ جو اینکروں کی اقسام اورصحافیوں کی اقسام وغیرہ قسم کےلایعنی مضامین لکھتے رہتے ہیں۔۔۔ کسی مستند حکیم کی پھکی کھا لیں تو آپ کی تحریری بدہضمی میں افاقہ ہو گا۔

ہم اینکروں پر تنقید سے پہلے آپ اپنے گریبان میں جھانک لیتے تو زیادہ بہتر تھا۔ جہاں صحافتی استعداد کا یہ عالم ہو کہ کراچی یا لاہور کے چھوٹے سے محلے کی ایک چھوٹی سی گلی میں پانی کھڑا ہونے کوبھی قومی خبرنامے کا حصہ بنا دیا جائے،ایسے صحافیوں کا اینکروں پر انگلی اٹھانا ایسا ہی ہے جیسے چاند پر تھوکنا۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

اینکروں کی اقسام

ٹیلی وژن پر خبرنامہ ترتیب دینے والے پروڈیوسر کو دو قسم کے اینکروں سے پالا پڑتا ہے۔ خبریں پڑھنے والے اینکر اور خبریں اجاڑنے والے اینکر۔ ان دونوں اقسام کو مزید ذیلی درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے
نخریلے اینکر: ہر روزدفتر آنے سے پہلے ان کی گاڑی، اور دفتر آنے کے بعد گلا خراب ہو جاتا ہے۔جس دن یہ دونوں چیزیں خراب نہ ہوں، اس دن ان کا موڈ خراب رہتا ہے۔  یہ اینکر اپنے پیشہ ورانہ فرائض بھی یوں انجام دیتے ہیں گویا دفتر والوں کی نسلوں پر احسان کر رہے ہوں۔ خبرنامے کی سرخیاں پڑھنے سے زیادہ سرخی لگانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ پڑھنا جاری رکھیں

ایک اینکر کی کہانی

اخبار یا ٹیلی وژن میں عموماً صحافی کام کرتے ہیں، لیکن ان دنوں ایک خلائی مخلوق نے یہاں قبضہ جما رکھا ہے۔ اس خلائی مخلوق کا صحافت سے کتنا تعلق ہوتا ہے، واضح کرنے کے لیے ایک اینکر کا قصہ کہوں گا۔ یہ صاحب اپنے ٹاک شو میں "کھچ” مارتے رہتے ہیں۔ صحافتی اصول و ضوابط سے بالکل نابلد ہیں، اس لیے تمام پروگرام ہی یکطرفہ کرتے ہیں۔
یہ فروری 2010 کی بات ہے۔حکومت اور عدلیہ چند ججز کی تقرری پر شدید اختلافات کا شکار تھی۔ پڑھنا جاری رکھیں