اسلام آباد میں ہزار گز کا پلاٹ چھ ہزار روپے میں

tft-25c-kبراڈکاسٹر آغا ناصر صاحب کی کتاب گم شدہ لوگ زیر مطالعہ ہے۔ اس میں بیان کیا گیا ایک قصہ پڑھنے والا ہے ۔
1963ء میں اس وقت کے صدر ایوب خان دارلحکومت کی اسلام آباد منتقلی پر ایک ریڈیو دستاویزی پروگرام نشر کرانا چاہتے تھے۔ ان دنوں ٹیلی وژن کا وجود نہیں تھا۔۔۔ ریڈیو ہی ابلاغ کا موثر ذریعہ مانا جاتا تھا۔
پروگرام تیار کرنے کی ذمہ داری آغا ناصر صاحب کو سونپی گئی۔ زیر تعمیر اسلام آباد میں پروگرام کی ریکارڈنگ کرتے ہوئے انہیں مکینوں کے انٹرویوز میں بہت مشکل ہوئی۔
دراصل وہاں کے مکین تقریباً تمام ہی سرکاری ملازمین تھے جو کراچی سے تبادلہ ہو کر آئے تھے۔ وہ کسی صورت نئے شہر کی تعریف کو تیار نہیں تھے۔ آغا صاحب جب اسلام آباد کی زندگی، طرز بودوباش اور موسم وغیرہ کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کرتے، وہ انہیں لعن طعن کرنے لگتے۔ سب سے زیادہ مشکل بنگالیوں کے انٹرویو میں ہوئی۔ وہ اپنے مخصوص لہجہ میں بگڑ کر بولتے، "شالا ہم کو ادھر ذنگل میں لا کر چھوڑ دیا ہے۔ یہ سب پنزابی لوگوں کا کام ہے۔” کو پڑھنا جاری رکھیں

میری کتابوں کی ہجرت

یونیورسٹی کے ایام، ہوسٹل کے کمرے میں ایک الماری ملتی۔ اسی میں اسباب بھی رکھو اور کتابیں بھی۔ ڈھیر سا لگ جاتا۔ بس اوپر والی کتاب دسترس میں رہتی باقی ڈھیر میں دفن ہو جاتیں۔ ہوسٹل سے فراغت کے بعد ایک کٹیا کرائے پر لی تو سامان رکھنے کو سیکنڈ ہینڈ لوہے کی الماری بھی خریدی۔ اس میں خانے بنے ہوئے تھے۔ ایک طرف کپڑے ٹانگو، دوسرے میں دیگر مال و متاع۔ اب کتابیں کسی قدر ترتیب سے رکھنے کی صورت ہوئی۔۔۔ لیکن بے چاری الماری کے خانے کہاں تک ساتھ دیتے۔ پھر حالات ویسے کے ویسے۔ جو کتابیں نہ پڑھی ہوتیں، ان کی تہہ سامنے لگاتے، باقیوں کو پیچھے دھکیل دیتے۔ کبھی کبھار غلطی سے ان پڑھی کتاب پس منظر میں چلی جاتی تو سراغ ملتا نہ یاد رہتا۔ پچھلی صفوں میں موجود کسی کتاب کا باب پڑھنے کی ضرورت پڑتی تو پہاڑ کھودنے جیسی مشقت کرنا پڑتی۔ اور کتابیں بھی کوئی بہت زیادہ نہ تھیں۔۔۔ ناول اور ڈائجسٹ ملا کر چالیس پچاس کے لگ بھگ۔
شادی کے بعد ہم نے کتابوں کے لیے باقاعدہ الماری بنوانے کا فیصلہ کیا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں