خان صاحب کی کیا مجبوری تھی؟

جاوید ہاشمی کے بیان نے مشکل میں ڈال دیا ہے۔ کہتے ہیں تحریک انصاف شاہراہ دستور پر ہی رہنے کا فیصلہ کر چکی تھی کہ شیخ رشید عمران خان کے لیے ایک پیغام لے کر آئے۔ عمران نے پارٹی کے متفقہ فیصلے سے پھرتے ہوئے کہا، "مجبوری ہے، اب آگے جانا ہوگا۔”
اب عمران خان تردید کرتے ہیں، لیکن ان کی بدقسمتی سے، اسی رات پارٹی رہنما اسد عمر نے بھی ٹیلی وژن پر اعلان کیا تھاکہ کسی سرکاری عمارت میں داخل نہیں ہوں گے۔ لیکن عمران خان کو وزیراعظم ہاؤس جانے کا فیصلہ کسی مجبوری میں کرنا پڑا۔
آخر وہ کیا مجبوری تھی؟ وزیراعظم ہاؤس کی جانب بڑھنے کا فیصلہ غالباً تیس اگست کی رات آٹھ بجے سے نو بجے کے درمیان کیا گیا۔اس وقت کی فوٹیج دیکھیں (24ویں منٹ سے) تو تحریک انصاف کی قیادت کنٹینر پر ایک بحث میں مبتلا دکھائی دیتی ہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں