پانامہ فیصلہ، جو میں نے سمجھا

سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھنے کے بعد جو بات مجھے سمجھ آئی وہ یہ ہے
نواز شریف دبئی میں ایک کمپنی کے چیئرمین تھے۔ چیئرمین کے طور پر ان کی (کاغذوں کی حد تک) کچھ تنخواہ مقرر تھی جو انہوں نے کبھی وصول نہیں کی۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے، چاہے نواز شریف نے تنخواہ وصول نہ کی ہو لیکن اس کے باوجود الیکشن کمیشن کو جمع کرائے گئے گوشواروں میں غیر وصول شدہ تنخواہ کا ذکر کرنا چاہیے تھا۔ چونکہ نواز شریف نے ایسا نہیں کیا، لہذا وہ صادق اور امین بھی نہیں رہے، اور نااہل کیے جاتے ہیں۔
نواز شریف کو آئین پاکستان کی شق 62 (1) ف کے تحت نااہل کیا گیا ہے۔ اس شق کے مطابق کوئی بھی شخص صرف اسی صورت پارلیمنٹ کا ممبر بن سکتا ہے (یا رہ سکتا ہے) اگر وہ
عقل مند ہو، نیک ہو، فضول خرچ نہ ہو، صادق ہو اور امین ہو۔
فیصلہ پڑھنے کے بعد ایک بات سمجھنے سے قاصر ہوں۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements